Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / مجرمین کو سزا کے معاملہ میں رعایت برتی جائے

مجرمین کو سزا کے معاملہ میں رعایت برتی جائے

گلبرگ سوسائٹی مقدمہ میں مجرمین کے وکیل کی درخواست، سزائے موت یا عمر قید :استغاثہ
احمد آباد۔9 جون (سیاست ڈاٹ کام) گلبرگ سوسائٹی قتل عام مقدمہ میں 24 مجرمین کے وکیل نے عدالت سے سزا کے معاملہ میں نرمی برتنے کی اپیل کی۔ عدالت نے تمام مجرمین کو سزا کی نوعیت کے فیصلہ کی تاریخ کل سنانے کا اشارہ دیا ہے۔ 2002ء گلبرگ سوسائٹی قتل عام میں 69 افراد بشمول سابق کانگریس رکن پارلیمنٹ احسان جعفری کو ہلاک کیا گیا تھا۔ خصوصی سی بی آئی عدالت مجرمین کو سزا کی نوعیت کا فیصلہ سنانے سے قبل وکلائے دفاع اور استغاثہ کی بحث کی سماعت کررہی ہے۔ پیر کو استغاثہ نے تمام 24 مجرمین کو اندوہناک قتل کی بناء سزائے موت دینے کی خواہش کی تھی۔ خصوصی جج ٹی بی دیسائی نے آج ملزمین کے وکیل ابھئے بھردواج کی سماعت کی جنہوں نے سزائے موت کی بجائے سزائے عمر قید کی خواہش کی۔ انہوں نے کہا کہ موت تک انہیں جیل میں ہی رکھا جائے۔ جج نے کہا کہ تمام مجرمین کو سزاء کی نوعیت کے فیصلے کے بارے میں تاریخ کا کل اعلان کیا جائے گا۔ ایس آئی ٹی کے وکیل سے بالخصوص مہلوکین کے ارکان خاندان کو معاوضہ اور دیگر پہلوئوں پر بات کی جائے گی۔ عدالت نے 2 جون کو 24 افراد کو جہاں مجرم قرار دیا وہیں 36 دیگر کو رہا کردیا تھا۔
تاہم ان تمام کے خلاف سازش کے الزامات ہٹادیئے گئے۔ 66 ملزمین کے منجملہ 6 کی سماعت کے دوران ہی موت واقع ہوگئی۔ 24 مجرمین نے 11 پر قتل کا الزام ہے جبکہ دیگر 13 بشمول وی ایچ پی لیڈر اتل ویدیا کو کم نوعیت کے جرم کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ بھردواج نے آج عدالت میں پیش ہوتے ہوئے کہا کہ مجرمین کو سزاء دینے سے قبل تمام حالات و واقعات کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مجرمانہ پس منظر، عمر، سماجی و معاشی پس منظر، بازآبادکاری کے امکانات کے علاوہ یہ پہلو بھی دیکھا جائے کہ کیا ان کی اصلاح ممکن ہے۔ سپریم کورٹ کے کئی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے وکیل نے کہا کہ ان تمام میں اصلاحات کے پہلو کو پیش نظر رکھا گیا تھا۔ انہوں نے محمد جمال الدین ناصر کے مقدمہ کا ذکر کیا جسے کولکتہ میں امریکی سنٹر پر حملے میں 5 ملازمین پولیس کو ہلاک اور 13 دیگر کو زخمی کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اسے دی گئی سزائے موت کو سزائے عمر قید میں تبدیل کردیا تھا۔ اسی طرح وکیل نے رنبیر سینا کے رکن ویاس رام کے مقدمہ کا بھی حوالہ دیا جس پر 35 افراد کو ہلاک کرنے کا الزام ہے لیکن عدالت نے اس کی سزاء میں بھی کمی کردی تھی۔

TOPPOPULARRECENT