Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / مجلس اتحاد المسلمین ، بی جے پی اور سنگھ پریوار کا ’ مسلم مورچہ ‘

مجلس اتحاد المسلمین ، بی جے پی اور سنگھ پریوار کا ’ مسلم مورچہ ‘

امیت شاہ اور اکبر الدین اویسی سے خفیہ اتحاد سے متعلق وضاحت کرنے محمد علی شبیر کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 12 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ مجلس ، بی جے پی اور سنگھ پریوار کی ’ مسلم مورچہ ‘ کی طرح خدمات انجام دیتے ہوئے مسلم ووٹوں کی تقسیم کے لیے کام کررہی ہے ۔ بی جے پی اور مجلس کے خفیہ اتحاد کا پردہ فاش ہوگیا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس خفیہ ملاقات کے بارے میں بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ اور مجلس کے قائد مقننہ اکبر الدین اویسی عوام سے وضاحت کریں ۔ گجرات کی نمائندگی کرنے والے بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی یاتین اوزا کی جانب سے بہار اسمبلی سے قبل مجلس اور بی جے پی میں خفیہ سازباز ہوجانے کا سنسنی خیز انکشاف کرنے کے بعد مسٹر محمد علی شبیر نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی نے بہت پہلے مجلس اور بی جے پی کی خفیہ سازباز کا بھانڈا پھوڑا تھا ۔ بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی یاتین اوزا نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے حقائق پر سے پردہ اٹھا دیا ہے ۔ عام انتخابات سے ہی مجلس بی جے پی اور سنگھ پریوار کی ’ مسلم مورچہ ‘ کی حیثیت سے کام کررہی ہے ۔ مہاراشٹرا میں مسلم ووٹوں کو تقسیم کرنے کے لیے مجلس نے 24 امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارا تھا جس میں مجلس کے صرف 2 امیدوار کامیاب ہوئے مسلم ووٹوں کی تقسیم سے بی جے پی اور شیوسینا اتحاد کو راست طور پر کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ مجلس نے یہی حکمت عملی بہار میں استعمال کرنے کی کوشش کی مگر بہار کے عوام نے مجلس کو یکسر مسترد کردیا ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ اور مجلس کے رکن اسمبلی اکبر الدین اویسی کو بہار الیکشن سے قبل خفیہ ملاقات کی وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا ۔ مجلس نے بہار میں صرف بی جے پی کو فائدہ پہونچانے کے لیے مقابلہ کیا ۔ اگر مجلس الیکشن کے لیے سنجیدہ ہوتی تو بہار کے تمام اسمبلی حلقوں پر مقابلہ کرتی ۔ جان بوجھ کر مسلم غالب والے سیما آنچل کے 24 اسمبلی حلقوں میں مقابلہ کرنے کا صدر مجلس اسد الدین اویسی نے اعلان کیا ۔ بلاخر انہوں نے صرف 6 حلقوں میں مجلس کے امیدوار کھڑا کیے ۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل نے کہا کہ اویسی برادرس اور سنگھ پریوار ملک کو فرقہ وارانہ اساس پر تقسیم کرنے کے مشین پر کام کررہے ہیں اور ہندو مسلم کارڈ کا استعمال کرہے ہیں ۔ اس سازش کے ذریعہ دونوں جماعتیں سیاسی طور پر مستحکم ہونے کی کوشش کررہی ہیں ۔ دونوں جماعتیں مہاراشٹرا میں کامیاب ہوئے مگر بہار میں ناکام ہوگئے ۔ اسی ایجنڈے کے تحت اترپردیش کے انتخابی میدان میں اترنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ تلنگانہ میں مجلس اور بی جے پی ایک دوسرے کی راست و بلراست تائید کررہے ہیں ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ اسد الدین اویسی نے بھی بھارت ماتا کی جئے اور این آئی اے کی گرفتاریوں کو سیاسی مسئلہ بنانے کی کوشش کی ہے ۔ مقدس مدینہ پر حملہ کے واقعہ سے بھی مجلس نے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے ۔ جلسہ عام کا اہتمام کرتے ہوئے موضوع سے ہٹ کر سیاسی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ بالخصوص کانگریس کو احتجاجی جلسہ کو سیاسی تقریب میں تبدیل کردیا گیا ۔ کانگریس کے قائد نے مسلم مذہبی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ مجلس کے موقف کا سنجیدگی سے جائزہ لے جو بی جے پی کی حلیف بن کر کام کررہی ہے ۔ مذہبی رہنما اپنے آپ کو کسی بھی سیاسی جماعت کا آلہ کار بننے کی کوشش نہ کریں ۔ صدر مجلس اسد الدین اویسی حیدرآباد میں تمام مذہبی رہنماؤں کو یرغمال بناتے ہوئے ان کی زبردستی تائید کرنے کے لیے مجبور کرنے کا الزام عائد کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT