Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / مجلس اور بی جے پی دونوں فرقہ پرست جماعتیں

مجلس اور بی جے پی دونوں فرقہ پرست جماعتیں

کے سی آر نے تلنگانہ کو خاندانی ریاست بنالیا ہے : ڈگ وجئے سنگھ
حیدرآباد /12 جنوری (سیاست نیوز) انتخابات کے موقع پر اسلام خطرہ میں ہونے کا ادعا کرکے ووٹوں کی بھیک مانگنے والی مجلس اسلام میں حرام کردہ سودی ادارہ کو اپنے مرکز سیاسی سے چلا رہی ہے۔ جنرل سکریٹری آل انڈیا کانگریس و انچارج تلنگانہ کانگریس امور ڈگ وجے سنگھ نے چنتل بستی میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ اس موقع پر صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی، ورکنگ پریسیڈنٹ ملو بٹی وکرامارک، قائد اپوزیشن اسمبلی کے جانا ریڈی، قائد اپوزیشن کونسل محمد علی شبیر، صدر گریٹر حیدرآباد سٹی کانگریس ڈی ناگیندر، کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل محمد فاروق حسین کے علاوہ دیگر قائدین بھی موجود تھے۔ انھوں نے بی جے پی اور مجلس دونوں کو فرقہ پرست جماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں جماعتیں اپنے سیاسی فائدہ کے لئے فرقہ پرستی کا زہر پھیلاکر ہندوؤں اور مسلمانوں میں دوری پیدا کر رہی ہیں، جب کہ صدر کانگریس سونیا گاندھی فرقہ پرستی کے سامنے آہنی دیوار بنی ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب بھی انتخابات آتے ہیں، صدر مجلس اسد الدین اویسی اور مجلس کے دیگر قائدین اسلام کے خطرہ میں ہونے کا دعویٰ کرکے مسلمانوں کا استحصال کرتے ہیں اور ووٹ حاصل کرنے کے بعد انھیں نظرانداز کردیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے، تاہم مجلس کے سیاسی ہیڈ کوارٹر میں دارالسلام کوآپریٹیو بینک کے ذریعہ سودی کاروبار جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ مہاراشٹرا اور بہار میں مجلس نے بی جے پی اور شیو سینا کی ایماء پر انتخابات میں حصہ لیا، تاکہ سیکولر نظریات رکھنے والی جماعتوں کو شکست سے دو چار کرکے فرقہ پرستوں کے اقتدار کی راہ ہموار ہوسکے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ مہاراشٹرا اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کے موقع پر مجلس کے دو ارکان اسمبلی غیر حاضر رہے۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں پرانے شہر کی ترقی کے لئے بھاری فنڈس جاری کئے گئے، مگر مجلس نے اس کا صحیح استعمال نہیں کیا۔ انھوں نے صدر مجلس سے استفسار کیا کہ ان کے پاس کروڑہا روپئے کی جائدادیں کہاں سے آئیں؟ اس کی وضاحت کریں۔ مجلس کے تعلیمی ادارے کانگریس کی مرہون منت ہیں، مگر ان تعلیمی اداروں میں غریب مسلم طلبہ کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ مسٹر ڈگ وجے سنگھ نے چیف منسٹر تلنگانہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کے سی آر نے تلنگانہ کو خاندانی ریاست بنالیا ہے، جب کہ صدر کانگریس سونیا گاندھی نے تلنگانہ عوام کے جذبات اور قربانیوں کا احترام کرتے ہوئے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کے سی آر نے مسز گاندھی اور راہول گاندھی سے اظہار تشکر کیا، تاہم تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد اپنی پارٹی کو کانگریس میں ضم کرنے کے وعدہ سے منحرف ہوکر کانگریس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ انھوں نے کے سی آر سے استفسار کیا کہ چنڈی یاگم میں خرچ کئے گئے 7.5 کروڑ روپئے کہاں سے حاصل کئے گئے، عوام کے سامنے وضاحت کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ عوام کے دلوں میں کانگریس کا احترام ہے، لہذا جی ایچ ایم سی انتخابات میں کانگریس پارٹی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT