Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / مجلس بلدیہ حیدرآباد کی نئی حد بندیوں کو قطعیت

مجلس بلدیہ حیدرآباد کی نئی حد بندیوں کو قطعیت

بلدی حلقوں کی 150 ڈیویژنس میں تقسیم کو منظوری ، حکم نامہ کی اجرائی
حیدرآباد۔ 19 نومبر (سیاست نیوز) حکومت ِ تلنگانہ نے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے 150 بلدی ڈیویژنس کی حد بندیوں کے متعلق جی او ایم ایس نمبر 166 جاری کردیا ہے۔ میونسپل ایڈمنسٹریشن اینڈ اربن ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامہ میں اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ ابتدائی اعلامیہ 28 اکتوبر 2015ء کو جاری کیا گیا تھا جس میں جی ایچ ایم سی بلدی ڈیویژنس کی ازسرنو حد بندی کے متعلق تفصیلات فراہم کی گئی تھیں۔ اعلامیہ کی اجرائی اور نئی حد بندی پر اعتراضات یا ادعا پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا تھا۔ اس مدت کے دوران حکومت کو 635 اعتراضات و تجاویز وصول ہوئے جوکہ مختلف سیاسی جماعتوں کے علاوہ شہریان حیدرآباد نے داخل کئے تھے جن میں سے حکومت نے 65 تجاویز و اعتراضات کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے بلدی ڈیویژنس کے ناموں کی تبدیلی اور حد بندی پر غور کیا گیا اور 38 تجاویز و اعتراضات کو قبول کرتے ہوئے ان میں معمولی تبدیلیاں لائی گئی ہیں جبکہ 532 اعتراضات اور تجاویز کو مسترد کردیا گیا ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے بعد اب ازسرنو کی گئی حد بندی قطعیت پا چکی ہے اور اس سلسلے میں قطعی اعلامیہ جاری کرنے کا کمشنر جی ایچ ایم سی کو اختیار دے دیا گیا ہے۔ حکومت نے جی ایچ ایم سی کی جانب سے روانہ کردہ تمام تجاویز اور حد بندی کے اُمور کا بغور جائزہ لینے کے بعد مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے بلدی حلقوں کو 150 ڈیویژنس میں تقسیم کرنے کو منظوری دے دی ہے۔ حکومت کی جانب سے احکامات کی اجرائی اور جی ایچ ایم سی میں جاری سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت عدالتی احکام پر عمل آوری کرتے ہوئے ماہ جنوری کے اختتام سے قبل جی ایچ ایم سی انتخابات منعقد کرنے کے متعلق سنجیدہ ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق جن 65 تجاویز و اعتراضات کا جائزہ لیتے ہوئے ترمیم کی گئی ہے، ان کے علاوہ جو 38 بلدی ڈیویژنس میں معمولی ترمیم کی گئی ہے، اس کیلئے علیحدہ کمیٹی نے اعتراضات و ادعاجات کا جائزہ لیا۔

TOPPOPULARRECENT