Friday , June 23 2017
Home / Top Stories / مجلس عاملہ کل ہند مسلم پرسنل لا بورڈ کا آج اجلاس

مجلس عاملہ کل ہند مسلم پرسنل لا بورڈ کا آج اجلاس

ایودھیا تنازعہ اور طلاق ثلاثہ موضوعات ، لاء کمیشن کے سربراہ سے ملاقات ، 5 کروڑ دستخط کی ہارڈ ڈسک سپرد

لکھنؤ ۔ /14 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایودھیا تنازعہ اور طلاق ثلاثہ ، مجلس عاملہ کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کے دو روزہ اجلاس کے موضوعات میں سرفہرست ہوں گے ۔ اس اجلاس کا کل آغاز ہورہا ہے ۔ بورڈ کی مجلس عاملہ کا اجلاس ندوۃ العلماء لکھنؤ میں /15 تا /16 اپریل ہوگا ۔ سکریٹری بورڈ ظفر یاب جیلانی نے کہا کہ بورڈ کے رکن مولانا خالد رشید فرنگی محلی قبل ازیں کہہ چکے تھے کہ اجلاس میں ایودھیا تنازعہ پر سپریم کورٹ کی تجویز کے پس منظر میں غور کیا جائے گا ۔ سپریم کورٹ نے ایودھیا تنازعہ اور طلاق ثلاثہ کے مسئلہ کی عدالت سے باہر یکسوئی کی تجویز پیش کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کا مسئلہ اہم ہے اور اس پر تبادلہ خیال کیا جائے گا کہ اس کا کیا حل نکل سکتا ہے ۔ اجلاس میں بورڈ کی کارکردگی اور سرگرمیوں پر سوشیل میڈیا کے ذریعہ روشنی ڈالی جائے گی اور اس کے شعبہ خواتین کو مستحکم کیا جائے گا ۔ بورڈ میں مسلم خواتین کے درمیان ناراضگی دیکھی گئی ہے ۔ خاص طور پر طلاق ثلاثہ سے متاثرہ خواتین میں سے بیشتر نے سپریم کورٹ میں درخواست مفاد عامہ پیش کرتے ہوئے طلاق ثلاثہ ، نکاح حلالہ کے جواز کو چیالنج کیا ہے ۔ اسے رجعت پسندی قرار دیا ہے ۔ تاہم بورڈ نے ان درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں ایک جوابی حلف نامہ داخل کیا جس میں مسلم پرسنل لاز اور طلاق ثلاثہ کی مدافعت کی گئی ۔ عدالت سے کہا گیا کہ مسلمانوں میں اس رواج کو چیالنج کرنے والی درخواستیں عدلیہ کے دائرہ کار سے باہر ہیں ۔ اس لئے ان کی سماعت نہیں کی جاسکتی ۔ بورڈ نے کہا کہ محمدی قانون کی بنیاد قرآن مجید اور اس کے ذرائع پر منحصر ہے جن کی جانچ دستور کی مخصوص دفعات کے تحت نہیں کی جاسکتی ۔ گزشتہ سال /7 اکٹوبر کو مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں طلاق ثلاثہ ، نکاح حلالہ اور کثرت ازدواج کے مسلمانوں میں رواج کی مخالفت کرتے ہوئے صنفی مساوات اور سیکولرازم کے اصولوں کی روشنی میں اس کا ازسرنو جائزہ لینے کی درخواست کی گئی ہے ۔ مرکزی وزارت قانون و انصاف نے اپنے حلف نامہ میں دستوری اصولوں جیسے صنفی مساوات ، سیکولرازم ، بین الاقوامی کنونشنوں ، مختلف اسلامی ممالک میں رائج ازدواجی قانون اور مذہبی رواجوں کا حوالہ دیتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ طلاق ثلاثہ اور کثرت ازدواج پر سپریم کورٹ کی جانب سے نظرثانی ضروری ہے ۔ سپریم کورٹ نے ازخود مسلم خواتین کو صنفی تعصب کا شکار ہونے کے واقعات ، طلاق اور ان کے شوہروں کی دوسری شادیوں کی صورت میں صورتحال کا ازسرنو جائزہ لیا ہے ۔ دریں اثناء نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کا ایک اعلی سطحی وفد بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کی قیادت میں آج شام چار بجے لاکمیشن آف انڈیا کے چیرمین جناب جسٹس بلبیر سنگھ چوہان سے ملا ۔ اس وفد نے چیرمین لا کمیشن کے سامنے مسلم پرسنل لا بورڈ کی طرف سے ملک گیر پیمانے پر چلائی گئی دستخطی مہم کی تفصیلات کی کاپی پیش کی ۔ وفد میں جماعت اسلامی ہند ، جمعیۃ علمائے ہند ، جمعیۃ اہل حدیث ، شیعہ اور بریلوی سمیت مختلف جماعتوں کے نمائندے موجود تھے اور خواتین بھی موجود تھیں ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT