Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / مجلس نے پرانے شہر کو سود خوروں کے حوالے کردیا : محمد علی شبیر

مجلس نے پرانے شہر کو سود خوروں کے حوالے کردیا : محمد علی شبیر

٭    رکن اسمبلی پر حملہ کے خلاف جلسے ‘ آلیر انکاؤنٹر پر خاموشی
٭    کشن باغ فائرنگ واقعہ پر بھی مجلس نے چپ سادھ لی
٭    12 فیصد تحفظات کے وعدہ پر بھی قیادت کی معنی خیز خاموشی
٭    مجلس کی قیادت پر امیت شاہ و مودی سے دوستی کا الزام
٭    جماعت انتہائی دولت مند ‘ ووٹ دینے والے پسماندہ
٭    پرانے شہر میں ریلی سے کانگریس قائدین کا خطاب

حیدرآباد۔ 10 جنوری (سیاست نیوز) کانگریس نے پرانے شہر میں مجلس کے ساتھ اب تک کئے گئے ’’دوستانہ مقابلوں‘‘ کو ’’غلطی‘‘ قرار دیتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ مجلس کے سبب کانگریس نے پرانے شہر پر توجہ نہیں دے سکی اور مجلس پر پورا بھروسہ کرتے ہوئے یہ خیال کیا جاتا رہا کہ شہر کے اس خطے کو مجلسی نمائندے ترقی سے ہمکنار کریں گے لیکن کانگریس کی یہ سوچ غلط ثابت ہوئی۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل جناب محمد علی شبیر نے آج پرانے شہر میں منعقدہ انتخابی ریالی سے خطاب کے دوران اس بات کا اعتراف کیا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ مجلس سے مفاہمت کے باعث کانگریس نے پرانے شہر کی طرف توجہ نہیں دے سکی جس کے نتیجہ میں پرانے شہر کو آج مجلس نے سود خوروں اور غنڈہ عناصر کے حوالے کردیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مجلسی قیادت آج یہ کہہ رہی ہے کہ شہر کو کانگریس قاتلوں کے حوالے کرنا چاہتی ہے لیکن جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں وہ خود پرانے شہر کو سود خوروں کے حوالے کرچکے ہیں۔ جناب محمد علی شبیر نے بتایا کہ جو لوگ کانگریس پر الزام عائد کررہے ہیں وہ درحقیقت ایک رکن اسمبلی پر کئے گئے حملے کے خلاف نہ صرف ایک خاندان، ایک قبیلہ بلکہ ایک طبقہ کو ہراساں کرنے کے مرتکب بن رہے ہیں۔ جس نوجوان نے حملہ کیا تھا اس کی موت جائے واقعہ پر ہی ہوچکی تھی لیکن اس کے بعد ایک خاندان کو مسلسل ہراسانی مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دین اور مذہب کے نام پر ووٹ حاصل کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ عمل بھی ویسا ہی کرے اور اللہ کے رسولؐ نے جو تعلیمات دی ہیں، ان کے مطابق اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے پسند کرتا ہے۔ جو لوگ دین اسلام کے نام پر ووٹ مانگ رہے ہیں، انہیں کم از کم اس تعلیم کو نظر میں رکھتے ہوئے عملی پیغام دینا چاہئے تھا۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل نے بتایا کہ اکبر اویسی پر حملے کے خلاف 40 سے زائد احتجاجی جلسے منعقد کرنے والے آلیر میں ہوئے فرضی انکاؤنٹر کے خلاف خاموش تماشائی بنے رہے اور اَشک شوئی کیلئے تشکیل کردہ ایس آئی ٹی پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کشن باغ فائرنگ واقعہ کے متعلق آواز نہ اٹھانے پر بھی مجلس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مہدی پٹنم گیریسن میں 12 سالہ شیخ مصطفی کو نذرآتش کئے جانے کے واقعہ پر بھی مجلس کی جانب سے کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی۔ جناب محمد علی شبیر نے مرحوم صدر مجلس سلطان صلاح الدین اویسی کو قوم کا ہمدرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ورثہ سالار ملت کی حقیقی پالیسی سے انحراف کرچکے ہیں اور 12% مسلم تحفظات کے سلسلے میں کے سی آر کے وعدہ پر بھی مجلسی قیادت کی خاموشی معنی خیز ہے۔ اس انتخابی ریالی میں جناب شیخ عبداللہ سہیل صدر گریٹر حیدرآباد کانگریس کمیٹی اقلیتی ڈپارٹمنٹ، سی ایل پی سیکریٹری و رکن اسمبلی پرگی سی رام موہن ریڈی، جناب سید نظام الدین، جناب محمد فخرالدین صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اقلیتی ڈپارٹمنٹ، جناب طاہر عفاری، جناب سلطان مرزا نقشبندی کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان موجود تھے۔ اس بائیک ریالی سے خطاب کے دوران محمد علی شبیر نے اسد اویسی سے استفسار کیا کہ شہر میں جو بڑے ہورڈنگس لگائے جارہے ہیں، اس کے اخراجات کون ادا کررہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر کی مسلم سیاسی جماعتوں میں سب سے زیادہ دولت مند سیاسی جماعت ’’مجلس‘‘ ہے لیکن مجلس کو ووٹ ڈالنے والے پسماندہ ترین ہوتے جارہے ہیں اور شہر حیدرآباد کے غریب عوام ، سود خوروں کے چنگل میں پھنستے جارہے ہیں۔ انہوں نے مزید استفسار کیا کہ ’’شہر ہمارا ، میئر ہمارا‘‘ کا نعرہ لگانے والے یہ بتائے کہ 1986ء سے شہر پر6 میئر بنانے والی مجلس نے پرانے شہر کی ترقی کیلئے کیا اقدامات کئے۔ انہوں نے بتایا کہ مجلس کی زیرقیادت کونسل نے حج ہاؤز سے متصل زیرتعمیر عمارت کی بلڈنگ فیس تک معاف نہیں کی جبکہ یہ مسلمانوں کا اثاثہ بننے جارہی تھی۔ محمد علی شبیر نے مجلسی قیادت کی نریندر مودی اور امیت شاہ سے دوستی کا بھی الزام عائد کیا۔ رکن اسمبلی سی رام موہن ریڈی نے کانگریس حکومت میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود کیلئے کئے گئے      ( باقی سلسلہ صفحہ 6 پر )

TOPPOPULARRECENT