Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / مجلس کیلئے چیلنج پیدا کرنے ٹی آر ایس تیار، وزراء اور قائدین متحرک

مجلس کیلئے چیلنج پیدا کرنے ٹی آر ایس تیار، وزراء اور قائدین متحرک

نشانہ تک پہنچ جائے گی۔

میئر کے عہدہ کیلئے ٹی آر ایس کی نئی چال
قانون میں ترمیم، ارکان کونسل کو رائے دہی کا حق، عوامی نمائندوں کے40سے زائد ووٹوں کا یقین
حیدرآباد۔/21جنوری، ( سیاست نیوز)تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن پر قبضہ جمانے کی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ پارٹی نے ارکان قانون ساز کونسل کو میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب میں رائے دہی کا حق فراہم کرتے ہوئے ان دونوں عہدوں کو حاصل کرنے کیلئے قانون میں ترمیم کی ہے۔ برسراقتدار پارٹی نے جس حکمت عملی کو اختیار کیا اس اعتبار سے زائد نشستیں حاصل نہ ہونے کی صورت میں اسے ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی اور ارکان قانون سازکونسل کے ووٹ کے ذریعہ میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدوں پر امیدوار منتخب کرنے کی راہ ہموار کرلی ہے۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے حدود میں آنے والے ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی کو بااعتبار عہدہ کارپوریشن میں ووٹ کا حق حاصل ہے۔ ارکان قانون ساز کونسل کو یہ سہولت حاصل نہیں تھی لیکن حکومت نے قانون میں ترمیم کرتے ہوئے قانون ساز کونسل کے ارکان کو بھی ووٹ دینے کا حق فراہم کیا ہے۔ اس طرح کارپوریشن میں اکثریت کے حصول اور میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدوں پر قبضہ کرنے میں ٹی آر ایس کو مدد ملے گی۔پارٹی نے اپنے ارکان قانون ساز کونسل کو گریٹر حیدرآباد کے حدود میں رجسٹر کرانے کا عمل تیزی سے شروع کردیا ہے اور ایک اندازہ کے مطابق بلدیہ میں اسے ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی اور کونسل کے 35تا 40 ووٹ حاصل ہوں گے۔ پارٹی کی حکمت عملی کے مطابق بااعتبار عہدہ ارکان کی تعداد میں مزید اضافہ کی کوششیں جاری ہیں اور مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے ایم ایل سیز کو گریٹر حدود میں رجسٹر کرانے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ تلگودیشم دور حکومت میں میئر کے عہدہ کیلئے راست انتخابات کرائے گئے تھے اور رائے دہندوں کو میئر کے انتخاب کا حق دیا گیا تھا لیکن بعد میں کانگریس حکومت نے میئر اور ڈپٹی میئر کے لئے کارپوریٹرس اور بااعتبار عہدہ ارکان کی رائے دہی کا قانون بنایا ہے۔ ٹی آر ایس حکومت نے قانون میں ترمیم کے ذریعہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں ووٹر کی حیثیت سے درج رجسٹر تمام ارکان قانون ساز کونسل کو میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدہ کیلئے رائے دہی کا حق دیا ہے۔ میونسپل اڈمنسٹریشن کے ذرائع نے قانون میں ترمیم کی توثیق کی اور بتایا کہ اس سلسلہ میں باقاعدہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔ 2008ء میں وائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت نے جی ایچ ایم سی ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے گریٹر حیدرآباد بلدیہ میں بااعتبار عہدہ ارکان کی حیثیت سے شامل ہونے کے خواہشمند ایم ایل سیز کیلئے ضروری قرار دیا تھا کہ وہ ایم ایل سی انتخابات کے پرچہ نامزدگی کے ادخال کے وقت خود کو گریٹر حیدرآباد کے حدود میں رائے دہندے کے طور پر شامل کریں۔ گورنر کوٹہ میں منتخب ہونے والے ارکان کو نامزدگی کے دن گریٹر حیدرآباد کے حدود میں نام رجسٹر کرانے کی اجازت دی گئی تھی۔ تلنگانہ حکومت نے اس ترمیم کو ختم کرتے ہوئے نئی ترمیم کی ہے جس کے تحت ریاست سے تعلق رکھنے والے تمام ایم ایل سیز بلدیہ کے بااعتبار عہدہ رکن بن سکتے ہیں بشرطیکہ وہ گریٹر حیدرآباد میں رائے دہندہ کی حیثیت سے رجسٹر ہوں۔ جی ایچ ایم سی ایکٹ کے مطابق ارکان اسمبلی اور ارکان لوک سبھا کو میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدہ کیلئے رائے دہی کا حق حاصل ہے چونکہ ایم ایل سیز کیلئے کوئی حلقہ متعین نہیں ہوتا اور ساری ریاست ان کا حلقہ تصور کی جاتی ہے۔ لہذا حکومت نے گریٹر حیدرآباد پر کنٹرول کیلئے نئی ترمیم کی ہے۔ اگر ارکان قانون ساز کونسل نے کسی میونسپلٹی یا کارپوریشن کو اختیار نہیں کیا ہے تو انہیں حیدرآباد میں ووٹ دینے کا حق حاصل رہے گا۔ نئی ترمیم کے مطابق قانون ساز کونسل کے ارکان کو کسی اور میونسپلٹی یا کارپوریشن میں رجسٹریشن کو منسوخ کرتے ہوئے گریٹر حیدرآباد کے حدود میں خود کو رائے دہندے کی حیثیت سے رجسٹر کرانے کا اختیار دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ 40 رکنی تلنگانہ قانون ساز کونسل میں ٹی آر ایس ارکان کی تعداد 29ہے جبکہ کانگریس کے 8، مجلس 2 اور بی جے پی کا ایک رکن ہے۔ کانگریس کے 8ارکان میں 2 نے اگرچہ پارٹی سے انحراف کرلیا ہے تاہم وہ ریکارڈ میں کانگریس کے رکن کی حیثیت سے برقرار ہیں۔ گریٹر حیدرآباد کے 24اسمبلی حلقوں میں کانگریس کے ارکان اسمبلی کی تعداد صرف 2ہے جبکہ تلگودیشم سے 4 ارکان اسمبلی نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں ایم ایل سی کی حیثیت سے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی اور وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی برقرار ہیں جبکہ ریاستی وزراء ٹی سرینواس یادو اور پدما راؤ ارکان اسمبلی ہیں۔ ٹی آر ایس کے ذرائع نے بتایا کہ حال ہی میں مجالس مقامی کے تحت منتخب ہونے والے ٹی آر ایس کے 10 ارکان قانون ساز کونسل اور ٹیچر و گریجویٹس زمرے کے منتخب ایم ایل سیز کو بھی گریٹر حیدرآباد کے حدود میں شامل کرنے کا عمل جاری ہے۔1960ء کے دہے میں کانگریس نے کھمم ضلع پریشد کے صدرنشین کے عہدہ پر قبضہ کیلئے یہی طریقہ کار اختیار کیا تھا اور بائیں بازو کی جماعتوں کو اکثریت کے باوجود صدر نشین کا عہدہ حاصل نہیں ہوا تھا۔ 1983میں  تلگودیشم نے ضلع کرشنا کے ضلع پریشد پر قبضہ جمانے کیلئے ا رکان قانون ساز کونسل کو شامل کرایا تھا۔ ٹی آر ایس نے اسی طریقہ کار کو اختیار کرتے ہوئے گریٹر حیدرآباد بلدیہ پر پرچم لہرانے کافیصلہ کیا ہے۔ اگر ٹی آر ایس کو بلدیہ میں 35تا 40نشستیں بھی حاصل ہوجائیں تو وہ ارکان پارلیمنٹ، اسمبلی و کونسل کے ووٹ کے ذریعہ میئر اورڈپٹی میئر کے عہدہ پر قابض ہوسکتی ہے اور بلدیہ پر اس کی اکثریت قائم ہوجائے گی۔ پارٹی ذرائع نے بتایا کہ غیر جانبدارانہ سروے کے مطابق ٹی آر ایس کو 45تا50نشستوں پر کامیابی مل سکتی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT