Sunday , August 20 2017
Home / مضامین / مجوزہ اسمبلی انتخابات اترپردیش کے مسلمانوں کا اہم موقف

مجوزہ اسمبلی انتخابات اترپردیش کے مسلمانوں کا اہم موقف

غضنفر علی خاں
اترپردیش میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں یہاں بعض اضلاع اور اسمبلی حلقوں میں مسلمان رائے دہندے فیصلہ کن موقف رکھتے ہیں جہاں ان کی آبادی 25 تا 30 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہے۔ اترپردیش کے مسلم رائے دہندوں کو ایک خاص قسم کی مشکل بھی درپیش ہے۔ یہ ریاست ہے جہاں بی جے پی کے مد مقابل 3 سیکولر پارٹیاں بھی ہیں۔ سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور خود کانگریس ایک دوسرے کو آنکھیں دکھارہی ہیں۔ دوسری ریاستوں میں مسلم رائے دہندوں کو بی جے پی کے مقابل کسی سیکولر پارٹی یا پارٹیوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی ضرورت نہیں ہے جبکہ اترپردیش میں مسلم رائے دہندوں کو خود اپنے ووٹ کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اپنے ووٹ بینک کو بچانا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بی جے پی یہ سمجھتی ہے کہ قابل لحاظ مسلم آبادی کے باوجود وہ کامیاب ہوسکتی ہے کیوں کہ اس کے خیال میں دیگر سیکولر پارٹیوں کے درمیان مسلم ووٹ بٹ جائے گا جیسا کہ 2014 ء کے عام چناؤ میں ہوا تھا اور اس تقسیم کی وجہ سے بی جے پی کو کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ اترپردیش سارے ملک کی وہ ریاست ہے جس سے گذر کر ہی دارالحکومت دہلی پر کوئی پارٹی اقتدار حاصل کرسکتی ہے۔ یہ مجوزہ چناؤ ان ہی معنوں اور اس پس منظر میں اہم ہے۔ اگر اترپردیش کا مسلم ووٹ تقسیم نہیں ہوتا ہے تو بی جے پی کی کامیابی مشکل ہوجائے گی اسی لئے بی جے پی کو تھوڑی فکر لاحق ہوگئی ہے۔ اترپردیش میں اگر بی جے پی کامیاب نہیں ہوتی ہے اور وہاں مسلم ووٹ تقسیم نہیں ہوتا ہے تو پھر بی جے پی کے تمام دعوے غلط ثابت ہوسکتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ان 3 سیکولر پارٹیوں میں سے مسلم ووٹر کس کے حق میں ووٹ ڈالیں موجودہ برسر اقتدار پارٹی سماج وادی پارٹی بھی مسلم ووٹ کے حصول کے لئے کوشاں ہے۔ دوسری طرف بہوجن سماج پارٹی کی صدر اور سابق چیف منسٹر مایاوتی مسلمانوں کو یہ مشورہ دے رہی ہیں کہ وہ اپنے ووٹ کو بٹنے نہ دیں اور سماج وادی پارٹی کے بجائے ان کی ہی پارٹی کو ووٹ دیں۔ اپنے ووٹ بینک کو تقسیم اور پھوٹ سے بچائیں۔ سماج وادی پارٹی یا اس کے سربراہ ملائم سنگھ یادو ، ان کے صاحبزادے موجودہ چیف منسٹر اکھلیش یادو سے ریاست کے مسلمانوں کو شکایت ہے کہ انھوں نے دادری میں محمد اخلاق کے قتل کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔ انھوں نے مظفر نگر میں مسلمانوں پر کئے گئے ظلم کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی۔ مایاوتی کے دور اقتدار میں بھی مسلمانوں کو انصاف نہیں ملا۔ رہا کانگریس کا سوال تو اترپردیش میں کانگریس قومی پارٹی کی حیثیت سے کوئی موقف نہیں رکھتی۔ یو پی کے مسلمانوں کو اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہے کہ دونوں علاقائی پارٹیاں ہی بی جے پی کو اقتدار کے حصول سے روک سکتی ہیں۔ کانگریس میں اب وہ دم خم نہیں رہا جو 1980 ء کے دہے میں تھا۔ اس لحاظ سے مسلم رائے دہندہ یوپی میں ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے کہ وہ قطعی طور پر یہ فیصلہ نہیں کرسکتا کہ ’’جاؤں تو آخر کس کے ساتھ جاؤں‘‘ تینوں سیکولر پارٹیوں میں کوئی ایسا قدآور، بھاری بھر کم مسلم لیڈر بھی نہیں ہے جو ان کی قیادت کرے۔ سماج وادی یا بہوجن سماج پارٹی تو کیا خود کانگریس میں کوئی مسلم لیڈر یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ مسلم ووٹ پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔ سماج وادی پارٹی میں البتہ وہاں کے ریاستی وزیر اعظم خان ہیں لیکن ان کے بارے میں بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ مسلم ووٹ کو پوری طرح اپنی جانب راغب کراسکتے ہیں۔

مایاوتی کی پارٹی میں تو اعظم خان کی قد و قامت والا کوئی لیڈر بھی نہیں ہے۔ کانگریس تو بعض وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس اہم ریاست میں علامتی وجود رکھتی ہے۔ اگرچیکہ پارٹی کے نائب صدر راہول گاندھی نے بہت زور لگایا۔ یوپی کے دورے بھی کئے۔ کسان ریالی بھی نکالی لیکن یہ بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ وہ ریاست کے مسلم ووٹ بینک کا دل جیت سکتے ہیں۔ ان حالات میں یوپی کے مسلمانوں کو خود اپنے طور پر فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ کسی مضبوط اور مؤثر مسلم قائد کا انتظار نہیں کرسکتے۔ کہا جاتا ہے کہ ایسے کسی بھی بحران میں ہی قوموں کی آزمائش ہوتی ہے۔ مسلمانوں کو اس ریاست میں ایک نازک مرحلہ سے گزرنا پڑے گا۔ بی جے پی کے تیور نہایت جارحانہ ہیں۔ سرجیکل اسٹرائیک کے بعد اس کا دماغ آسمان پر ہے۔ ابھی سے بی جے پی نے اعلان کردیا ہے کہ اترپردیش کے لئے انتخابی حکمت عملی پارٹی کے صدر امیت شاہ بنائیں گے جو اپنی مسلم دشمنی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ ابھی کچھ مسائل ایسے بھی پیدا کردیئے گئے ہیں کہ اترپردیش ہی نہیں بلکہ سارے ملک کے مسلمانوں کی شناخت ان کا مذہبی اور تہذیبی تشخص خطرہ میں دکھائی دے رہا ہے۔ سپریم کورٹ میں طلاق ثلاثہ کے تعلق سے جو حلف نامہ مرکزی حکومت نے داخل کیا ہے اس سے بی جے پی کی مخصوص فکر کی نشاندہی ہورہی ہے۔ یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کیلئے مودی حکومت راہ ہموار کررہی ہے۔ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردوں کے خلاف کی گئی کامیاب کارروائی نے ایک اندازہ کے مطابق وزیراعظم مودی کا موقف مستحکم کردیا ہے۔ ملک کے وزیر دفاع منوہر پاریکر نے تو اس کارروائی کا سارا کریڈٹ مودی کو دیا ہے۔ ان تمام باتوں کا راست اثر اترپردیش کے مجوزہ اسمبلی انتخابات پر یقینی طور پر پڑے گا۔ اس لحاظ سے ان انتخابات کو خاص اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔

اپوزیشن لاکھ سر مارے کہ سرجیکل اسٹرائیک کی اصلیت بتائی جائے حکومت اس مطالبہ کو بڑی آسانی سے ٹال سکتی ہے اور یہ بات بی جے پی کے لئے سودمند ثابت ہوگی اس قومی پس منظر میں ہی اترپردیش کے مسلم رائے دہندوں کو اپنا قیمتی ووٹ استعمال کرنا ہے۔ سرجیکل اسٹرائیک کے سلسلہ میں یوپی یا سارے ملک کے مسلمانوں کی یہی ایک رائے ہے کہ ہندوستانی حکومت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور اس نے مقبوضہ کشمیر میں گھس کر دہشت پسندوں کو ختم کردیا تو یہ ہندوستانی باشندے کے لئے قابل فخر کارنامہ ہے۔ ساری مسلح افواج کو اس کا کریڈٹ جاتا ہے جس نے جان پر کھیل کر دہشت پسندوں کا خاتمہ کیا۔ بی جے پی یا اس کی حکومت کو نہیں۔ ہر ہندوستانی کو ساری فوج پر ناز ہونا چاہئے۔ اترپردیش کی اسمبلی انتخابات میں اگر بی جے پی خدانخواستہ کامیاب ہوتی ہے تو اس کو ریاست میں حکومت بنانے کا موقع تو خیر مل ہی جائے گا لیکن اس سے ایک اور بڑا فائدہ پارٹی کو یہ ہوگا کہ وہ راجیہ سبھا میں بھی اپنا عددی موقف بہتر کرے گی۔ کیوں کہ یوپی اسمبلی کے انتخابات کے بعد اس ریاست سے راجیہ سبھا کے لئے ارکان نامزد کئے جائیں گے۔ ہر زاویہ نظر سے غور کیا جائے تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ اترپردیش میں بی جے پی کی کامیابی کے دورس اثرات ہوں گے ان اثرات کو کم کرنے کے لئے مسلم ووٹ بینک اہم رول ادا کرسکتا ہے۔ یہ اترپردیش کے مسلمانوں کے اجتماعی سیاسی شعور پر منحصر ہے کہ وہ کس حد تک ان انتخابات پر اثرانداز ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT