Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / مجوزہ بلدیہ انتخابات پر سیاسی جماعتوں کی حکمت عملی کا جائزہ

مجوزہ بلدیہ انتخابات پر سیاسی جماعتوں کی حکمت عملی کا جائزہ

اتحاد یا تنہا مقابلہ آرائی پر پارٹیوں کے موقف پر غور ، بہار طرز پر عظیم اتحاد ممکن
حیدرآباد ۔ 11۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) بلدی انتخابات کی تیز رفتار تیاریوں کو دیکھتے ہوئے سیاسی جماعتوں بالخصوص انتخابات میں حصہ لینے کے خواہشمند افراد کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوچکا ہے ۔ سیاسی قائدین مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان متوقع اتحاد اور اس کے امکانات پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں جبکہ برسر اقتدار جماعت کی جانب سے اس بات کا جائزہ لیا جارہا ہے کہ تنہا مقابلے کی صورت میں پارٹی کا کیا موقف ہوگا اور اتحاد کی صورت میں کیا کھل کر کسی جماعت سے اتحاد کیا جاسکتا ہے ؟ برسر اقتدار جماعت کے اس نظریہ سے اتحاد کی خواہشمند جماعت میں بھی بے چینی کی کیفیت پائی جارہی ہے چونکہ اتحاد نہ ہونے کی صورت میں مقامی جماعت کو کسی اور جماعت سے اتحاد کا موقع میسر آنا دشوار ہے۔ چونکہ کانگریس کی مخالفت کے بعد دوسرا کوئی راستہ اس جماعت کیلئے کھلا ہوا نظر نہیں آرہا ہے ۔ شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی مسلم تنظیمیں جن میں سیاسی ، مذہبی و سماجی تنظیمیں شامل ہیں، ان کی جانب سے ایک عظیم اتحاد کے متعلق غور کیا جارہا ہے تاکہ برسر اقتدار جماعت اور اس کے حلیفوں کے خلاف موجود ووٹ کو متحد کیا جاسکے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب اس سلسلہ میں شہر کی سرکردہ تنظیمیں اس بات کیلئے کوشاں ہیں کہ مخالف حکومت ووٹ کو متحد کرنے کیلئے بہار کے طرز پر کس طرح جی ایچ ایم سی حدود میں عظیم اتحاد تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ تلگو دیشم پارٹی جو برسر اقتدار این ڈی اے حکومت کا حصہ ہے، اس کے قائدین جی ایچ ایم سی انتخابات میں بی جے پی کے حلیف رہنے یا اتحاد کرنے کے متعلق سنجیدہ نہیں ہے۔ اسی طرح بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے بھی تلگو دیشم سے اتحاد کی مخالفت کی جارہی ہے۔ کانگریس موجودہ حالات میں اپنے موقف کو مستحکم بنانے کی کوشش کے طور پر اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ شہر سے تعلق رکھنے والے قائدین کی ٹی آر ایس میں شمولیت کے بعد شہری حدود میں پارٹی کا موقف کیا ہوگا اور اس صورتحال میں شہری سطح پر کن جماعتوں سے اتحاد کیا جاسکتا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اعلامیہ کی اجرائی کا انتظار کر رہے ہیں جبکہ عام آدمی پارٹی ، لوک ستہ پارٹی اور بائیں بازو جماعتوں کی جانب سے عظیم اتحاد کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جارہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT