Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / مجوزہ نئے اضلاع پر کانگریس و تلگو دیشم کی بیان بازی مسترد

مجوزہ نئے اضلاع پر کانگریس و تلگو دیشم کی بیان بازی مسترد

اپوزیشن جماعتیں صرف بیان بازی میں مصروف ، ٹی آر ایس ایم ایل سی کے پربھاکر کا ردعمل
حیدرآباد۔ 23۔ مئی  ( سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے نئے اضلاع کی تشکیل کے خلاف کانگریس اور تلگو دیشم کی بیان بازی کو مسترد کردیا۔ پارٹی کے رکن قانون ساز کونسل کے پربھاکر نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کے سواء کچھ نہیں آتا اور وہ نئے اضلاع کی تشکیل کے بارے میں حقائق جانے بغیر بیان بازی کر رہے ہیں۔ پربھاکر نے کہا کہ نئے اضلاع کی تشکیل کے سلسلہ میں مکمل سائنٹفک طریقہ سے جائزہ لینے کے بعد ہی موجودہ اضلاع کی حدبندی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی ریاست تلنگانہ میں اضلاع کی تعداد میں اضافہ تنظیم جدید قانون میں شامل ہے جس کی بنیاد پر تلنگانہ ریاست تشکیل دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہر نئی ریاست میں اضلاع کی تعداد میں اضافہ کیا جاتا ہے اور یہ انتظامی سہولت کیلئے ہے۔ پربھاکر نے کانگریس اور تلگو دیشم قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ اس بارے میں حقائق کا پتہ چلانے کے بعد ہی اپنی رائے کا اظہار کریں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے مختلف علاقوں سے جب نئے اضلاع کا مطالبہ کیا گیا تو کانگریس اور تلگو دیشم قائدین نے عوامی مطالبہ کی تائید نہیں کی۔ پربھاکر کے مطابق اضلاع کی بہتر ترقی اور عوامی مسائل کی یکسوئی کیلئے نئی حدبندی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اضلاع کی ترقی کے سلسلہ میں حکومت کے اقدامات کو اپوزیشن جماعتیں ہضم نہیں کر پا رہی ہیں اور وہ کسی وجہ کے بغیر مخالفت پر اتر آئی ہیں۔ کئی اضلاع میں ہیڈکوارٹرس مواضعات سے کافی فاصلہ پر ہیں جس کے سبب ترقیاتی کام متاثر ہورہے ہیں اور عوام کو اپنے مسائل کی یکسوئی کیلئے دور دراز کا سفر طئے کرنا پڑ رہا ہے ۔ عوام کی اس دشوار کو محسوس کرتے ہوئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے نئے اضلاع کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا اور اس سلسلہ میں ماہرین سے مشاورت کے بعد ہی حد بندی کو قطعیت دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ نئے اضلاع کی تشکیل کے ساتھ اسمبلی حلقہ جات کی تعداد میں اضافہ پر غور کیا جارہا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کی وضاحت کرے کہ نئے اضلاع کی تشکیل ریاست کے مفاد میں نہیں ہیں۔ اس کے برخلاف تلنگانہ راشٹرا سمیتی نئے اضلاع سے ہونے والے فوائد کی تفصیلات جاری کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں قطعی فیصلہ کرنے سے قبل منصوبہ کو عوام کے درمیان رکھا جائے گا اور ان کی منظوری سے قطعیت دی جائے گی ۔ پربھاکر نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ وہ بیجا تنقیدوں کے بجائے اس کام میں حکومت سے تعاون کرے۔

TOPPOPULARRECENT