Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / مجھے اکثریت حاصل ، اسمبلی میں ثابت کرنے تیار: چیف منسٹر اترکھنڈ

مجھے اکثریت حاصل ، اسمبلی میں ثابت کرنے تیار: چیف منسٹر اترکھنڈ

NEW DELHI, INDIA - MARCH 13: Congress leader Harish Rawat with his supporters at his residence in New Delhi on Wednesday. Rawat has been denied the post of Uttarakhand Chief Minister by party high command. (Photo by Kaushik Roy/India Today Group/Getty Images)

بی جے پی پر حقائق توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا الزام، حکومت اقلیت میں آگئی ، اپوزیشن جماعت کا جوابی دعویٰ
دہرہ دون 19 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی پر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے چیف منسٹر اترکھنڈ ہریش راوت نے آج ادعا کیاکہ اترکھنڈ اسمبلی میں اُنھیں قطعی اکثریت حاصل ہے اور وہ ایوان میں اُسے ثابت کرنے تیار ہیں۔ ہریش راوت نے اسپیکر اسمبلی گووند سنگھ کنجوال سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ جو لوگ یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ اُنھیں 35 ارکان اسمبلی کی تائید حاصل ہے، دراصل وہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کررہے ہیں۔ اُنھیں یقین ہے کہ اُنھیں اب بھی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے اور وہ ایوان میں اُسے ثابت کرسکتے ہیں۔ بی جے پی کے اس ادعا پر کہ اُسے کانگریس کے 9 باغی ارکان کے بشمول 35 ایم ایل ایز کی تائید حاصل ہے، مسٹر راوت نے کہاکہ اِن کے منجملہ کم از کم 5 ارکان اسمبلی ابھی بھی اُن سے رابطے میں ہیں۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ باغی ارکان کا کہنا ہے کہ ہنوز کانگریس مقننہ پارٹی کے رکن ہیں اور اُنھوں نے علیحدگی اختیار نہیں کی۔ اسپیکر کے ساتھ اپنی ملاقات کی تفصیل بتاتے ہوئے چیف منسٹر نے کہاکہ وہ پارٹی کے کچھ ارکان اسمبلی کے ناشائستہ رویہ پر بحیثیت قائد ایوان معذرت خواہی کے لئے اسپیکر سے ملنے گئے تھے۔ کانگریس کے کچھ ارکان اسمبلی نے ایوان میں احتجاج کرتے ہوئے بی جے پی ارکان اسمبلی کے ساتھ دھرنا منظم کیا تھا۔

یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ اپوزیشن کے ساتھ دھرنا کرتے ہوئے کانگریس ارکان اسمبلی نے پارٹی وہپ کی خلاف ورزی کی ہے، اُنھوں نے کہاکہ ارکان اسمبلی دستوری دفعات کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں اور اُن کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اُنھیں پارٹی کے باغی ارکان اسمبلی بشمول ہارک سنگھ راوت اور وجئے بہوگنا کے رویہ سے تکلیف ہوئی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ جہاں تک ہارک سنگھ کا تعلق ہے، اُس پر زیادہ کچھ نہ کہیں تو ہی بہتر ہے۔ وہ اترکھنڈ کی سیاست کا چمکتا ستارہ ہیں۔ اگر مزید ایک یا دو ریسلرس ریاست میں پیدا ہوجائیں تو ہم اپنے خوابوں کے اترکھنڈ کو کبھی حقیقت نہیں بناسکتے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ اُنھیں وجئے بہوگنا کے رویہ پر بھی تکلیف ہوئی ہے کیوں کہ ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس نے ہمیشہ فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف جدوجہد کی ہے۔ وہ ہیم وتی نندن بہوگنا کے فرزند ہیں جنھوں نے ہمیشہ سیکولر اقدار کے لئے جدوجہد کی ہے اور فرقہ پرستوں کا مقابلہ کیا ہے۔ اُن کا رویہ صدمہ کا باعث ہے۔ اس دوران بی جے پی نے باغی کانگریس ارکان اسمبلی کی تائید حاصل رہنے کا ادعا کیا اور کہاکہ اُسے ریاست میں تشکیل حکومت کے لئے مدعو کیا جانا چاہئے کیوں کہ کانگریس حکومت اقلیت میں آگئی ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر شیام جاجو نے کہاکہ ہریش راوت حکومت اکثریت سے محروم ہوگئی ہے، اب بی جے پی کو اترکھنڈ اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے، اُسے حکومت سازی کا موقع دیا جانا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT