Sunday , August 20 2017
Home / کھیل کی خبریں / مجھے سارے ملک کی چاہت حاصل، چند لوگوں کی پرواہ نہیں

مجھے سارے ملک کی چاہت حاصل، چند لوگوں کی پرواہ نہیں

شاندار کامیابیوں کے ساتھ تنازعات بھی پیش آنے پر ثانیہ کا ردعمل ۔ ہنگس کیساتھ جوڑی برقرار رکھنے کا اعلان

نئی دہلی ، 15 سپٹمبر (سیاست ڈاٹ کام) انھیں ہمیشہ ٹینس کورٹ اپنی شاندار کامیابی کے ساتھ ساتھ میدان سے باہر تنازعات بھی ملتے رہے ہیں اور ٹھیک یہی وجہ ہے کہ کیوں ثانیہ مرزا کو اس تعلق سے شاید ہی کوئی فکر ہے کہ اُن کے تعلق سے چند لوگ کیا کہتے ہیں۔ اسے اتفاق کہئے مگر اُن کے دو یو ایس اوپن خطابات سے قبل اَن چاہے تنازعات پیش آئے ہیں۔ اُن کے یو ایس اوپن ویمنس ڈبلز ٹائٹل سے دو روز قبل ایک کورٹ پٹیشن ایک اتھلیٹ نے پیش کرتے ہوئے باوقار کھیل رتن کیلئے اُن کے انتخاب پر سوال اٹھایا۔ گزشتہ سال بھی برونو سوریز کے ساتھ اُن کے یو ایس اوپن مکسڈ ڈبلز ٹائٹل سے قبل بھی ایک سیاست دان نے انھیں نوتشکیل شدہ ریاست تلنگانہ کی برانڈ ایمبسیڈر بنانے کے اقدام کی مخالفت کی تھی۔ ’’میں واقعی پرواہ نہیں کرتی،‘‘ ثانیہ نے نیوز ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ کو آج نیویارک سے اپنی آمد پر خصوصی انٹرویو میں یہ ریمارک کیا۔ ثانیہ نے اپنی تازہ خطابی جیت کو اپنے وطن ہندوستان کے نام معنون کیا۔ حیدرآبادی اسٹار نے کہا، ’’میں اخبارات بہت کثرت سے نہیں پڑھتی ہوں۔ میں بس ٹینس کھیلنے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں بہترین مظاہرے کی سعی کرتی ہوں اور اسی سے مجھے خوشی ملتی ہے۔ یہی کچھ مجھے معلوم ہے کہ کس طرح بہترین مظاہرہ کیا جائے۔ میں خوش قسمت ہوں کہ جو میں کرتی ہوں اس میں معقول حد تک اچھی ہوں، اسی لئے میں فتوحات کے ساتھ (وطن کو) واپس ہوئی ہوں۔ اس کے علاوہ میں اس پر توجہ نہیں دیتی جو چند لوگ کہتے رہتے ہیں۔ میں جانتی ہوں بقیہ ملک مجھے چاہتا ہے‘‘۔

ماضی میں بھی وہ کئی تنازعات سے گزر چکی ہیں، جن میں سے کئی فضول نوعیت کے تھے۔ ثانیہ نے اِس سال مارچ میں مارٹینا ہنگس کے ساتھ جوڑی بنانے کے بعد سے کافی کامیابی حاصل کی ہے اور وہ کہتی ہیں کہ سوئس اسٹار کے ساتھ اُن کی پارٹنرشپ آئندہ سیزن میں جاری رہے گی۔ ’’ہاں، ہم اگلے سال بھی (مل کر) کھیلنے والے ہیں۔ لیکن وہ یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ آیا وہ مکسڈ ڈبلز برازیلی برونو سوریز کے ساتھ کھیلتی رہیں گے، جن کے ساتھ وہ 2014ء کا یو ایس اوپن جیت چکی ہیں۔ ’’فی الحال میں برونو کے تعلق سے یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتی، ہمیں چند چیزوں کو دیکھنا ہوگا۔‘‘ عملاً ثانیہ کے اب تمام گرانڈ سلام ٹورنمنٹس کے خطابات (آسٹریلین اوپن اور فرنچ اوپن میں مکسڈ ڈبلز، ومبلڈن اور یو ایس اوپن میں ویمنس ڈبلز) اور ایشین گیمز اور کامن ویلتھ گیمز میں تمغے میں جیت چکی ہیں۔ آئندہ برس 29 سال کی عمر میں وہ ریو اولمپکس میں میڈل جیتنے کا اچھا موقع رہے گا۔ یہ پوچھنے پر کہ وہ اس مرتبہ کسے پارٹنر بنانا چاہیں گی کیونکہ لندن گیمز سے قبل کافی ڈرامہ ہوا تھا، ثانیہ نے کہا کہ اُن کے پارٹنر کے بارے میں فیصلہ ایونٹ سے عین قبل کیا جائے گا لیکن انھیں یقین ہے کہ ہندوستان کو مکسڈ ڈبلز میڈل جیتنے کا حقیقت پسندانہ موقع ہے۔ثانیہ کو آنے والے دنوں میں حیدرآباد میں اپنی چھوٹی بہن انعم کی منگنی میں شرکت کے فوری بعد ڈبلیو ٹی اے ٹورنمنٹ کے چائنا لیگ کیلئے روانہ ہونا پڑے گا۔

TOPPOPULARRECENT