Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / مجھے عدالت میں پولیس کے روبرو زدوکوب کیا گیا : کنہیا

مجھے عدالت میں پولیس کے روبرو زدوکوب کیا گیا : کنہیا

حملہ آور لوگ وکلاء کے لباس میں تھے ۔ سپریم کورٹ کے مقررہ تحقیقاتی پیانل کو اسٹوڈنٹ لیڈر نے آپ بیتی سے واقف کرایا
نئی دہلی ، 27 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) صدر جے این یو ایس یو کنہیا کمار نے سپریم کورٹ کے مقررہ وکلاء کے تحقیقاتی پیانل کو بتایا ہے کہ اسے وکلاء کے لباس والے آدمیوں نے پولیس کے روبرو مارپیٹ کی، فرش پر گرا دیا اور زدوکوبی کے ذریعے زخمی کیا۔ یہ واقعہ 17 فبروری کو پیش آیا جبکہ اسے پٹیالہ ہاؤس کورٹ کامپلکس کو لایا گیا تھا۔ کنہیا نے اپنے ساتھ پیش آئے سلسلہ وار واقعات سے وکلاء کے پیانل کو واقف کرایا ہے جس کی ویڈیو کلپ آج ٹیلی ویژین چیانلوں پر دکھائی گئی۔ کنہیا نے کہا: ’’جیسے ہی پولیس مجھے عدالت کی گیٹ سے اندر لے آئی، وکلاء کے لباس والے آدمیوں کا ہجوم مجھ پر حملہ آور ہوا۔ ایسا لگا جیسے کہ وہ حملہ کیلئے تیار تھے اور وہ دوسروں کو بھی حملہ کیلئے اکسا رہے تھے۔ مجھے زدوکوب کیا گیا۔ میری نگرانی پر مامور پولیس نے مجھے بچانے کی کوشش کی لیکن پولیس عہدیداروں کو بھی مار پیٹ کی گئی۔‘‘ چھ وکلاء کپل سبل، راجیو دھون، دُشینت دوے، اے ڈی این راؤ، اجیت کمار سنہا اور ہرین راول کاپیانل 17 فبروری کو پٹیالہ ہاؤس کورٹس کامپلکس گیا تھا

جبکہ فاضل عدالت کو مطلع کیا گیا تھا کہ کنہیا کو مجسٹریٹ کے روبرو اُس کی پیشی کے دوران مارپیٹ کی گئی۔ کنہیا نے کہا کہ ایک اور موقع پر جب اس پر حملہ کیا گیا تو وہاں موجود پولیس نے کچھ نہیں کیا۔ جب کنہیا نے یہ واقعہ تحقیقاتی پیانل کو کمرۂ عدالت کے اندرون بیان کیا تو کپل سبل نے ڈی سی پی جتن نروال کو طلب کیا اور ان سے اس تعلق سے دریافت کیا۔ پیانل ممبرز نے ڈی سی پی سے استفسار کیا کہ کس طرح آپ نے عدالتی احاطے کے اندرون یہ حملہ پیش آنے دیا؟ آپ کے لوگ وہاں متعین تھے۔ وہ کیا کررہے تھے؟ کس طرح اُس شخص کو (جس نے کمرۂ عدالت کے دروازے کے باہر کنہیا پر حملہ کیا) اندر آنے دیا گیا؟ اس پر ڈی سی پی نے کہا کہ وہ حفاظتی دستہ کے ساتھ آئے اور کمرۂ عدالت سے متصل روم میں چلے گئے۔ تب پیانل ممبرز نے دیگر پولیس عہدیداروں کو طلب کیا اور ان سے اس واقعہ کی بابت دریافت کیا اور انھوں نے جواب دیا کہ جس شخص نے کنہیا پر حملہ کیا، اُس نے خود کو کنہیا کا وکیل باور کرایا تھا۔ کنہیا نے پیانل کو بتایا کہ جب اس پر حملہ کیا گیا

، وہ فرش پر گرگیا اور اسے زخم آئے اور اُس وقت وہ دیکھ نہیں پایا کہ پولیس کیا کررہی ہے۔ اس پر کپل سبل نے ڈی سی پی سے کہا کہ اس کا مطلب ہے پولیس وہاں موجود تھی اور ان لوگوں نے کچھ نہیں کیا۔ اسٹوڈنٹ لیڈر نے پیانل کو بتایا کہ جو شخص اس پر حملہ آور ہوا، وہ متصل کمرۂ عدالت کو آیا تھا اور اس نے اپنے ٹیچر کو اس تعلق سے واقف کرایا تھا۔ ’’میں نے میرے ٹیچر کو بتایا کہ یہ شخص مجھ پر حملہ کررہا ہے۔ تب پولیس نے اس شخص سے شناخت دریافت کی۔ جس پر اس نے اُلٹا پولیس والوں سے سوال کیا اور اس سے اپنا شناختی کارڈ دکھانے کیلئے کہا۔ وہ شخص پولیس کے سامنے وہاں سے رفوچکر ہوگیا اور پولیس نے کچھ نہیں کیا۔ اسے وہیں پکڑا جاسکتا تھا۔ میں نے پولیس سے کہہ دیا تھا کہ فلاں شخص مجھ پر حملہ آور ہوا ہے۔‘‘ 17 فبروری کو آپے سے باہر وکلاء کے گروپ نے کنہیا، جرنلسٹوں اور دیگر افراد پر دیدہ دلیری سے حملہ کیا اور سینئر وکلا ء کے پیانل پر سنگباری میں بھی ملوث ہوئے۔

TOPPOPULARRECENT