Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / مجید اللہ خاں فرحت، مجلس بچاؤ تحریک کے صدر منتخب

مجید اللہ خاں فرحت، مجلس بچاؤ تحریک کے صدر منتخب

ملت کوسازشی عناصر سے بچانے اور مظلوم کی حمایت کو جاری رکھنے نئے صدر کا عہد
حیدرآباد 5 جون (سیاست نیوز) جناب مجید اللہ خان فرحت کو آج بہ اتفاق آرا مجلس بچاؤ تحریک کا صدر منتخب کرلیا گیا۔ مجلس بچاؤ تحریک کے زیراہتمام جناب سید مصطفی محمود کی زیرصدارت منعقدہ اجلاس میں تمام اراکین عاملہ اور قائدین تحریک نے ترجمان تحریک مجید اللہ خاں فرحت کو صدر کی حیثیت سے منتخب کرنے کی حمایت کی۔ اِس موقع پر مولانا سید طارق قادری نے بحیثیت مہمان خصوصی و مبصر شرکت کی۔ جناب مجید اللہ خاں فرحت نے بحیثیت صدر انتخاب کے بعد خطاب میں کہاکہ مجلس بچاؤ تحریک اپنے مشن پر گامزن رہے گی اور تحریک کا مشن مظلوم کی حمایت رہا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ ملک میں موجودہ صورتحال کا استحصال کرنے والی جماعتوں کے خلاف تحریک جس طرح سے سرگرم رہی ہے، آئندہ بھی اُن کا تعاقب کرتے ہوئے ملت اسلامیہ کو سازشی عناصر سے بچانے کی کوشش جاری رکھی جائے گی۔ اُنھوں نے بانی مجلس اتحاد المسلمین بہادر یار جنگؒ ، بانی تحریک غازی ملت الحاج محمد امان اللہ خانؒ، سابق صدور جناب آدم ملک ایڈوکیٹ اور ڈاکٹر قائم خان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ملت اسلامیہ میں فکری انقلاب کیلئے بہادر یار جنگ نے جو خدمات انجام دی ہیں، اُس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ اِسی طرح بانی تحریک نے مظلوم مسلمانوں کیلئے جو آواز اُٹھائی تھی اور دین و شعائراللہ کے تحفظ کے مسئلہ پر اتحاد کی دعوت دی تھی، اُسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ مجاہد ملت جناب مجید اللہ خاں فرحت نے کہاکہ ہندوستان میں مسلم قیادت دو نظریات کی حامل بن چکی ہے۔ ایک نظریہ وہ ہے جو اقتدار میں شراکت داری اور ملک میں عظمت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کی بات کرتا ہے جبکہ دوسرا نظریہ اپنے حقیر مفادات کیلئے ملت کا سوداگر بن رہا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ مولانا ابوالکلام آزاد نے جو نظریہ پیش کیا، اُس نظریہ کی تحریک حامی ہے جبکہ محمد علی جناح کے نظریہ کی ہم مخالفت کرتے ہیں۔ مجید اللہ خاں فرحت نے بتایا کہ آج مسلمانوں کی ملی و سیاسی قیادت سنگھ پریوار کے ایجنڈہ پر عمل پیرا ہے اور سنگھی طاقتوں کو مستحکم کرنے محمد علی جناح کا نظریہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ نامساعد حالات کے باوجود تحریک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی کیونکہ تحریک کے پیش نظر مظلوم کو اُس کا حق دلانے کے علاوہ ملت اسلامیہ کی سربلندی ہے۔ جناب مجید اللہ خاں فرحت نے بتایا کہ تحریک کی جانب سے ہر اُس جماعت کی تائید کی جائے گی جو ملک کے سیکولر نظام کی برقراری کیلئے جدوجہد کرے لیکن کبھی ایسی جماعتوں یا سیاستدانوں کی حمایت نہیں کی جائیگی جو مسلمانوں کو نقصان پہنچا کر اپنا اقتدار برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور زعفرانی قوتوں کو مستحکم کرکیمسلمانوں میں خوف و دہشت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ نومنتخب صدر کی حیثیت سے اُن پر جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے اُس کے مطابق وہ ہر محاذ پر جدوجہد کیلئے تیار رہیں گے اور تحریک کے ہر کارکن سے یہی اُمید کرتے ہیں کہ نئے جوش اور ولولہ کے ساتھ ملت کے سیاسی و مذہبی تشخص کی برقراری کے ساتھ مظلوموں کو اُنکا حق دلوانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ مجید اللہ خاں فرحت نے کہاکہ 1400 سال قبل جو حالات تھے اُن میں کفار و مشرکین یہی سمجھتے تھے کہ طاقت کی بنیاد پر وہ حکومت کرسکتے ہیں لیکن اسلام نے اس نظریہ کو مسترد کردیا اور آج وہی حالات ہیں جس میں ہمیں فکر اسلامی کے فروغ کے ذریعہ حق اور طاقت کے درمیان تفریق کو آشکار کرنے کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں جناب اجمل الدین فاروقی، جناب مظفراللہ خاں شفاعت ایڈوکیٹ، جناب راشد ہاشمی، جناب سکندر مرزا، محمد ابراہیم، سید غیاث پاشاہ قادری، محمد اعظم، محمد چاند، ایم اے حبیب، محمد یوسف پرواز کے علاوہ دیگر موجود تھے۔ مولانا سید طارق قادری نے نومنتخبہ صدر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ حالات میں مسلم قیادت کا جو خلاء پیدا ہوا ہے اُسے پُر کرنے مجید اللہ خاں فرحت سے توقعات وابستہ کی جاسکتی ہیں کیونکہ مجید اللہ خاں فرحت نہ صرف مقامی و ریاستی اُمور پر گہری نگاہ رکھتے ہیں بلکہ قومی و بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی مخالف مسلم سازشوں سے بہرہ ور ہیں۔ جناب مجاہد ہاشمی کے علاوہ دیگر رفقائے تحریک نے صدارت کیلئے مجید اللہ خاں فرحت کی حمایت کی۔ جناب امجد اللہ خاں خالد جو شخصی مصروفیات کی بناء پر بیرون شہر دورہ پر ہیں، نے اپنے بھائی جناب مظفر اللہ خاں شفاعت کے ذریعہ پیغام میں مجید اللہ خاں فرحت کو صدر بنانے کی حمایت کی اور توقع ظاہر کی کہ فرحت خاں کی زیرصدارت مجلس بچاؤ تحریک مظلوم مسلمانوں کی آواز بن کر اُبھرے گی۔

TOPPOPULARRECENT