Monday , August 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / محبت تجھ کو آدابِ محبت خود سکھا دے گی

محبت تجھ کو آدابِ محبت خود سکھا دے گی

قاری محمد عبد المقتدر
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بات اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کہلوائی کہ محبتوں کے دعوے کو اگر سچا کردِکھانا ہے تو اے لوگو! تم پہلے میری پیروی کرکے دکھاؤ۔ اتباع نبی کے ذریعہ ثبوت اور دلیل و حجت قائم کرو کہ یقیناً ہم کو اللہ تعالیٰ سے محبت ہے۔ اگر تم نے اتباع رسول میں اپنی زندگی گزاری، اپنے کام انجام دیئے، شادی بیاہ، معاملات، معاشرت، عبادات، ملاقات، رفتار و گفتار، یعنی ہر کام میں پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی تو تمہارا محبت کا دعویٰ صحیح ہے، ورنہ نہیں۔ اس لئے کہ پیغمبر کی اطاعت، اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، لہذا اللہ تعالیٰ کا حکم پورا کئے بغیر اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ جھوٹ اور فریب ہے۔ ہر چاہنے والا جب تک اپنے چہیتے اور اپنے محبوب کے احکام، ارشادات اور اشاروں کا پابند نہ ہوگا، وہ چاہت کے دعووں میں سچا نہیں ہو سکتا، کیونکہ ’’محبت تجھ کو آداب محبت خود سکھا دے گی‘‘۔
ایک عربی شاعر نے اپنے شعر میں کہا: ترجمہ: تم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہو اور پھر تم ہی ظاہر کرتے ہو اس کی محبت کو اور یہ بات میری عمر کی قسم! ساری باتوں میں سب سے زیادہ انوکھی اور محال ہے، کیونکہ اگر تمہاری محبت سچ ہوتی تو یقیناً تم اللہ تعالیٰ کی ضرور اطاعت کرتے، بات اور حکم مانتے۔ بے شک سچا چاہنے والا جس کو چاہتا ہے، اس کا کامل مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی وضاحت فرمادی ہے کہ ’’جو لوگ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور فرماں برداری کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ بہت جلد ان پر مہربانی فرمائے گا‘‘۔ ایک جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور تم اللہ کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے‘‘۔ ایک جگہ بہت واضح ارشاد ہے کہ ’’جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی، اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی‘‘۔ غرضیکہ یہ بات قرآن مجید میں عیاں اور بیاں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور اطاعت ہر کام اور ہر گام میں ضروری ہے اور پھر ایسے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے الطاف و اکرام کے وعدے ہیں۔
آج ہم مسلمانوں کی زبان پر شکوے اور شکایت ہیں کہ ہم پر ظلم و ستم ہو رہا ہے، ہمارا کوئی پُرسانِ حال نہیں، ہم کو مظلوم اور بے بس کردیا گیا، ہماری مدد نہیں ہوتی، ہماری عزت و عصمت سے کھیلا جا رہا ہے، ہم بے یار و مددگار ہیں اور ہمارا جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے۔ جب کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہم مسلمان جب تک متحد و متفق ہوکر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرماں برداری کو اپنا نصب العین، لائحہ عمل اور مقصد حیات نہیں بنائیں گے، اس وقت تک اللہ تعالیٰ ہم پر کرم نہیں فرمائے گا اور نہ ہماری طرف توجہ فرمائے گا، تو پھر ہماری مدد کس طرح ہوگی؟۔ ہم نے تو اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو متوجہ کیا ہے۔
یقیناً اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری، اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کی نصرت اور انعاماتِ الہٰی کو متوجہ کرتی اور کھینچتی ہے، جب کہ نافرمانی اور عدم پیروی خدا کے غیظ و غضب کو جوش میں لاتی اور عذابِ الہٰی کو متوجہ کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات سے کھلواڑ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں سے استہزاء، تمسخر اور بے رخی، قہر الہٰی کے نزول کا ذریعہ ہے۔ اگر ہم سلامتی و عافیت چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے نبی کی اتباع کرنی ہوگی، جن کی اتباع پر اللہ تعالیٰ کی محبت و رحمت کا انحصار ہے۔
ہر آن، ہر لمحہ اور ہر قدم پر انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت و محبت کی شدید ضرورت ہے۔ انسانوں کے سارے کام، سارے مسائل اور ساری ضروریات کی تکمیل اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہوتی ہے۔ جس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے جتنا مضبوط اور مستحکم ہوگا، جس کو اللہ تعالیٰ سے جتنی محبت ہوگی، اللہ پاک اس کی طرف اتنی ہی توجہ فرمائے گا، جب کہ رب العالمین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرنے کے لئے ہمیں ایک ہی طریقہ ’’اتباعِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ بتایا گیا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے: ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری و پیروی کرے گا، وہی شخص بڑی کامیابی حاصل کرے گا‘‘۔

TOPPOPULARRECENT