Sunday , August 20 2017
Home / اداریہ / محبوبہ مفتی کی ذمہ داریاں

محبوبہ مفتی کی ذمہ داریاں

غلطیاں اسلاف کی ورثہ میں گر ہم کو ملیں
ان کی اصلاح بھی بڑی اک ذمہ داری ہے میاں
محبوبہ مفتی کی ذمہ داریاں
جموں و کشمیر کی سیاست میں آنے والے دنوں میں کچھ کرشماتی اثرات رونما ہونے کی توقع کھنے والوں کیلئے صدر پی ڈی پی محبوبہ مفتی سے صدر کانگریس سونیا گاندھی کی ملاقات ایک غیرمعمولی خبر ہے۔ چیف منسٹر جموں و کشمیر مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد ان کی دختر محبوبہ مفتی نے چیف منسٹر کی حیثیت سے حلف لینے میں تاخیر کرکے اپنی پارٹی کی حلیف جماعت بی جے پی کے خوابوں کو انتشار کا شکار بنادیا ہے۔ والد کے انتقال کا سوگ منانے والی کشمیری سیاستداں خاتون کو فرقہ پرست پارٹی بی جے پی سے اتحاد برقرار رکھنے میں اگر تعامل ہورہا ہے تو پھر وہ اپنی ریاست اور پارٹی کے سیاسی مستقبل کے بارے میں گہرائی سے سوچ رہی ہیں۔ بی جے پی سے اتحاد ٹوٹ جاتا ہے تو کشمیری عوام کو ایک مضبوط پیام یہ جائے گا کہ پی ڈی پی نے آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل کو قطعیت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اگر صدر کانگریس سونیا گاندھی نے مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد پرسہ دینے کے بہانے سیاسی رفاقت بڑھانے کا پیام چھوڑا ہے تو عین ممکن ہیکہ وادی کشمیر میں 2002ء کی طرح پی ڈی پی کانگریس اتحاد ہوگا مگر کشمیر اسمبلی میں اپنی کم نمائندگی کے ساتھ کانگریس حکومت سازی میں پی ڈی پی کا سہارا کس طرح بن سکے گی، یہ غور طلب امر ہے۔ اس وقت محبوبہ مفتی کے ذہن میںکیا منصوبہ فروغ پا رہا ہے یہ بہت جلد واضح ہوگا۔ مستقبل کی سیاست کو مضبوط بنانے کیلئے محبوبہ مفتی کا فیصلہ وادی کشمیر کی سیاست کیلئے اہمیت کا حامل ہے۔ بی جے پی کے ساتھ اتحاد برقرار رکھنے کیلئے اگر محبوبہ مفتی نے چند شرائط رکھے ہیں تو بی جے پی اس وقت ایسے موقف میں ہیکہ وہ محبوبہ مفتی کی شرائط کو قبول کرسکتی ہے۔ اول تو پی ڈی پی ریاست کے ڈپٹی چیف منسٹر کا عہدہ بی جے پی کو دینا نہیں چاہتی اور بی جے پی کے قائدین کو اس بات کا پابند بنانا چاہیں گی کہ وہ غیرضروری حساس مسائل پر تبصرے نہ کریں۔ بی جے پی کو اپنی حلیف پارٹی پی ڈی پی کی ہر بات قبول ہے اور وہ حکومت کو برقرار رکھنے کے حق میں نظر آرہی ہے جہاں تک باری باری سے چیف منسٹر کا عہدہ حاصل کرنے کا سوال ہے اس پر محبوبہ مفتی نے اپنا موقف واضح کردیا ہیکہ یہ باری باری کے عہدہ کو ختم کردیا جائے۔ بی جے پی کے ڈپٹی چیف منسٹر نرمل سنگھ چاہتے ہیں کہ پی ڈی پی کے ساتھ پارٹی کا اتحاد برقرار رہے لیکن مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد وادی کشمیر کے عوام کو ایک اچھی حکمرانی دینے کی ذمہ داری محبوبہ مفتی کے کندھوں پر ٹکی ہے۔ گذشتہ 10 ماہ کے دوران کشمیر میں پی ڈی پی حکومت نے اچھی حکمرانی فراہم کرنے کی جس طرح کی کوشش کی ہے اس کو جاری رکھنے کا سوال بھی اہم ہے۔ کشمیری عوام کے اندر اس وقت مفتی محمد سعید کے انتقال کا غم ہے اور محبوبہ مفتی کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر اس وقت وسط مدتی انتخابات ہوتے ہیں تو ان کی پارٹی کو ہمدردی کے ووٹ ملیں گے اور بی جے پی اتحاد توڑ لینے کی وجہ سے ان کی سیکولر امیج مضبوط ہوجائے گی لیکن سیاست میں خیال ہمیشہ یکساں نہیں ہوتا۔ یہ خیال بدل بھی سکتا ہے، جس طرح صدر کانگریس سونیا گاندھی نے محبوبہ مفتی سے ملاقات کرکے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کی ہے اسی طرح بی جے پی لیڈر نتن گڈکری نے بھی محبوبہ مفتی سے ملاقات کرکے اپنی حلیف پارٹی کو ماضی میں دیئے گئے تیقنات کو پورا کرنے کا بھی اشارہ دیا ہے۔ ایسے میں محبوبہ مفتی کے سامنے دو راستے ہوں گے یا تو اتحاد برقرار رکھا جائے یا پھر وسط مدتی انتخابات کیلئے راہ ہموار کی جائے۔ گورنر راج کے تعلق سے دونوں فریقین کا نکتہ نظر عوام کو معلوم ہونا چاہئے۔ اس وقت کشمیر کئی مسائل سے دوچار ہے اس لئے ایک مضبوط حکومت کا ہونا وقت کا تقاضہ ہے۔ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرکے ایک مضبوط حکمرانی کی فراہمی کا خواب پورا ہونا مشکل ہے۔ اگر اتحاد والی حکومت بے چینی کا شکار رہتی ہے تو اس سے وادی کشمیر کی سیاست میں انتشار پیدا ہوگا اور یہ انتشار کسی بھی مقامی یا علاقائی پارٹی کیلئے فال نیک نہیں ہوسکتا۔ اس تمام صورتحال میں صدر پی ڈی پی محبوبہ مفتی کو غوروخوض کے بعد فیصلہ کرنا ہوگا۔ اپنی پارٹی کے سینئر رفقاء سے مشاورت کے بعد ہی کسی حتمی نتیجہ پر پہنچا جاسکتا ہے۔ اس میںکوئی شبہ نہیں کہ پی ڈی پی نے کشمیری عوام اور کشمیری معاشرے کیلئے انتہائی سنجیدہ کوشش کی ہیں۔ مسائل کا خاتمہ ہی پی ڈی پی سربراہ کی سیاسی زندگی کا بنیادی مقصد ہے تو اپنی پارٹی کے سیاسی مستقبل کو فرقہ پرستی کی دہلیز پر چھوڑ آنے سے گریز کرنا چاہئے۔ محبوبہ مفتی ہی سلجھا ہوا قدم اٹھا سکتی ہیں جس کے نتیجہ میں قیادت کے بنیادی مقاصد کی ساکھ کو نقصان نہیں پہنچ سکے گا۔ سیاسی کارگذاری پر یقین رکھنے والے سیاستداں ہمیںہ دوراندیشانہ فیصلہ کرتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT