Saturday , October 21 2017
Home / ہندوستان / محرم کے بغیر حج کی تجویز پرمسلم پرسنل لا بورڈ موقف واضح کرے: امام بخاری

محرم کے بغیر حج کی تجویز پرمسلم پرسنل لا بورڈ موقف واضح کرے: امام بخاری

نئی دہلی،9 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) شاہی امام مولانا سید احمد بخاری نے 45 سال سے زائد عمر کی خواتین کو بغیر محرم کے فریضہ حج کی ادائیگی کی اجازت دینے سے متعلق حج پالیسی ریویو کمیٹی کی سفارش پر سوال کیا کہ کیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے کچھ ممبران کو مسلمانوں کے مذہبی امور میں غلط فیصلے لینے کی چھوٹ دی ہوئی ہے اور اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور ملک کے مقتدر علمائے کرام سے اپنا شرعی موقف واضح کرنے کی اپیل کی ہے ۔ پارلیمانی امور کے سابق سکریٹری اور حکومت بہار کے سابق چیف سکریٹری افضل امان اللہ کی قیادت میں ایک جائزہ کمیٹی نے وزرات اقلیتی امور کو نئی حج پالیسی سے متعلق جو تجاویز پیش کی ہیں اس میں45 سال یا اس سے زائد عمر کی خواتین کو محرم کے بغیر بھی فریضہ حج کی ادائیگی کی اجازت دینے کی تجویز بھی شامل ہے ۔ رپورٹ کے مطابق میٹنگ کے دوران جب یہ تجویز پیش کی گئی تو کمیٹی کے بعض ممبران نے تالیاں بجا کر اس پر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور اس تجویز کا خیر مقدم کیا۔ خیال رہے کہ افضل امان اللہ کی قیادت میں تشکیل کردہ کمیٹی میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے ایک ممبر بھی شامل ہیں۔امام بخاری نے اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ شرعی امور تالیوں کی گونج میں طے نہیں ہوتے بلکہ انھیں انتہائی سنجیدگی کے ساتھ شرعی نقطہ نظر سے طے کیا جاتا ہے ۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے کچھ ممبران کو مسلمانوں کے مذہبی امور میں غلط فیصلے لینے کی چھوٹ دی ہوئی ہے ؟ شاہی امام نے کہاکہ اسلام میں کسی خاتون کا محرم کے بغیر سفر کرنا ممنوع ہے ۔ لیکن حج جیسے مقدس فریضہ کی ادائیگی کے لیے شریعت کی اس شرط کو نظرانداز کیا جا رہا ہے ۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کہ جو ہندوستانی مسلمانوں کے مذہبی امور کی حفاظت کی ذمہ داری کا دعویٰ کرتا ہے ، اس سلسلے میں بورڈ کو اپنی رائے مسلمانوں کے سامنے رکھنی چاہیے اور یہ بتانا چاہیے کہ کیا اب شریعت کی یہ ایک اہم شرط ختم کر دی گئی ہے ؟

TOPPOPULARRECENT