Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / محروم اور پسماندہ طبقات کی ترقی کے لیے حکومت کی منصوبہ بندی

محروم اور پسماندہ طبقات کی ترقی کے لیے حکومت کی منصوبہ بندی

تحفظات بل کی منظوری ہندوستانی تاریخ میں مثالی ، ایس اے علیم چیرمین نیڈکیاپ کا اظہار مسرت
حیدرآباد۔17اپریل (سیاست نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے مسلمانان تلنگانہ کو12فیصد تحفظات کی فراہمی کے فیصلہ نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے سیکولر کردار کو ثابت کردیا ہے۔ چیف منسٹر ہر محروم اور پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھنے والے کی ترقی کے متعلق منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کئی اقدامات کئے جارہے ہیں۔جناب ایس اے علیم صدرنشین نیڈ کیاپ نے تلنگاہ اسمبلی و کونسل میں 12فیصد تحفظات بل کی منظور پر مسلمانان تلنگانہ کی جانب سے چیف منسٹر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست تلنگانہ ہی ہے آزاد ہندستان کی تاریخ میں ایسا فیصلہ کسی چیف منسٹر نے نہیں لیا جو مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے لیا ہے۔ جناب ایس اے علیم نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل سے قبل چیف منسٹر نے جو انتخابی وعدے کئے تھے انہیں پورا کر رہے ہیں لیکن ہر شخص یہ کہہ رہا تھا کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی تمام وعدہ پورے کر سکتی ہے لیکن تحفظات کا وعدہ پورا نہیں کیا جا سکے گا ۔ چیف منسٹر نے تحفظات کی فراہمی کی راہ ہموار کرتے ہوئے ریاست کے قانون ساز اداروں میں بل منظور کرواتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ ریاست تلنگانہ میں برسراقتدار جماعت صرف اعلانات یا باتیں نہیں کرتی بلکہ عمل کرنے میں بھی ٹی آر ایس کے علاوہ کوئی اور جماعت ایسی مثال نہیں پیش کرسکی۔ انہوںنے بتایا کہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے جن حالات میں مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے وہ قابل قدر ہے کیونکہ ملک بھر میں مسلمانوں کے خلاف منافرت کی مہم جاری ہے اورا س مہم کے دوران مسلمانوں کو نشانہ بنایا جانے لگا ہے لیکن تلنگانہ میں ٹی آر ایس نے بتایا ہے کہ تمام طبقات کی یکساں ترقی ہی ریاست کی مجموعی ترقی ثابت ہوگی۔جناب ایس اے علیم نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں مسلمان ٹی آرایس سے قربت اختیار کریں گے اور ان کی ٹی آر ایس سے قربت ان کی ترقی کی ضمانت ثابت ہوگی کیونکہ تلنگانہ راشٹر سمیتی نے اپنے سیکولرازم کا عملی ثبوت دیا ہے اور اس عملی ثبوت کی پیشکشی کے بعد ٹی آر ایس کے نظریات پر شبہات کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ صدرنشین نیڈکیاپ نے بتایا کہ چیف منسٹر تلنگانہ نے صدورنشین کی نامزدگی اور قانون ساز کونسل کی نشستوں پر نامزدگی میں بھی مسلم قائدین کو ترجیح دیتے ہوئے ثابت کردیا کہ ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کو ان کے حقوق سے محروم نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کے حقوق کی فراہمی میں کوئی مفاہمت نہیں ہوگی اور مسلمانوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے والوں کوبرداشت نہیں کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT