Friday , July 21 2017
Home / مضامین / محمدرفعت شاہ رخ ہندوستان کا کمسن کلام

محمدرفعت شاہ رخ ہندوستان کا کمسن کلام

محمد ریاض احمد
ایک ایسے وقت جبکہ ہمارے ملک میں لوٹ کھسوٹ، نفرت و عداوت، دھوکہ دہی، غداری، بے وفائی، بے غیرتی، بے شرمی، بے حیائی، چاپلوسی، خود غرضی، مکاری، مفاد پرستی اور مذہب و ذات پات اور علاقہ کے نام پر استحصال کا بازار گرم ہے چند ایک ایسی شخصیتیں ہیں جنہوں نے اپنی دیانتداری و سادگی اور سب سے بڑھ کر انسانیت کے ذریعہ ہر اس عہدہ کو وقار بخشا جس پر انہیں فائز کیا گیا۔ ایسی ہی شخصیتوں میں سابق صدرجمہوریہ اور ہندوستان کے مرد میزائل ابوالفاخر زین العابدین عبدالکلام (اے پی جے عبدالکلام) بھی تھے۔ انہوں نے اپنی پیشہ وارانہ مہارت، حب الوطنی، سادگی، دیانتداری، ڈسپلن، دانشمندی کے ذریعہ ہندوستانی معاشرہ پر ایک ایسی چھاپ چھوڑی ہیکہ مسلمانوں کو پاکستان جانے کا مشورہ دینے والے بدقماش بھی ان کے احترام میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ مسلمانوں سے بغض و عداوت رکھنے وا لے عناصر کی زبانوں سے ان کی ستائش میں الفاظ کا دریا بہہ نکلتا ہے۔ ملک کو فرقہ پرستی کی آگ میں جھونکنے کے منصوبے بنانے والے، سڑکوں، پلوں، سرکاری عمارتوں کو ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام سے موسوم کرنے کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں۔ آج سارا ہندوستان یک جٹ ہوکر یہ کہنے پر مجبور ہیکہ عہدہ صدارت پر ڈاکٹر کلام جیسی شخصیت کبھی فائز ہوئی تھی اور نہ ہوگی۔ آخر ڈاکٹر کلام کو یہ عزت کیسے ملی۔ دراصل اللہ عزوجل نے انہیں ماں باپ کی فرمانبرداری، وقت کی پابندی، ریاکاری، غرور و تکبر سے دوری، علم اور علم والوں سے محبت اور اپنے وطن عزیز سے جنون کی حد تک پیار کے باعث عطا کی ہے۔ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے اقوال آج ہندوستان کے تعلیمی و سائنسی اداروں، سرکاری محکموں، اسپتالوں کی درودیوار پر نظر آتے ہیں جن میں نوخیز نسل کو علم و عمل کی طرف آنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ بدعنوانیوں سے بچنے اور دوسروں کو بچانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا تھا ’’مشکلات سے گذر کر ہی انسان کامیابی سے محظوظ ہوتا ہے‘‘۔ ان کا وہ قول بھی اکثر نوخیز نسل میں  ایک نیا عزم و حوصلہ پیدا کرتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ خوداعتمادی اور سخت محنت، ناکامی نامی بیماری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی بہترین دوا ہے اور یہ دوا آپ کو ناکامی کی بیماری سے بچا کر کامیاب انسان بنائے گی۔ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام مرحوم کے ان اقوال کو شاید ہماری نوجوان نسل نے شاعر مشرق علامہ اقبال کے ناصحانہ اشعار کی طرح اپنے ذہنوں میں بسا لیا ہے۔ چنانچہ آثار و قرائن سے ایسا محسوس ہورہا ہیکہ ہندوستان میں مسلمان تعلیم پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ غریب، متوسط اور امیر والدین اپنے بچوں کو زیورعلم سے آراستہ کرنے کے مشتاق ہیں۔ خود خاندانوں میں بچوں کی پڑھائی کے معاملہ میں مسابقت کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے۔ ویسے بھی 6 ڈسمبر 1992ء کو ایودھیا میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد سے ہندوستانی مسلمانوں میں تعلیمی شعور بیدار ہوا ہے۔ ہر سال 30 تا 35 مسلم طلبہ آئی اے ایس، آئی پی ایس، آئی آر ایس اور آئی ایف ایس کیلئے منتخب ہورہے ہیں جو یقینا مسلمانوں کیلئے حوصلہ افزاء رہی ہے۔ اس کے باوجود ہماری یہی کوشش ہونی چاہئے کہ یو پی  ایس سی امتخانات میں ہمارے طلباء وطالبات کی کامیابی کا اوسط بڑھے۔ ہم نے سطور بالا میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی شخصیت، ان کی لیاقت کا حوالہ دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہیکہ انہوں نے اپنے سائنسی کارناموں کے ذریعہ ہندوستان میں ملت کا نام روشن کیا تھا۔ آج ہندوستان جوہری توانائی، میزائیل ٹیکنالوجی اور سٹیلائٹس کی لانچنگ اور خلائی سائنس کے شعبہ میں جس بلندی پر کھڑا ہے اس میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کا اہم کردار ہے۔ ڈاکٹر کلام کا تعلق ٹاملناڈو سے ہی تھا۔ اب اس ریاست سے تعلق رکھنے والے 18 سالہ رفعت شاہ رخ نے ایک ایسا سائنسی کارنامہ انجام دیا ہے جس کے بارے میں ساری دنیا کا میڈیا بہت کچھ لکھ رہا ہے اور پیش کررہا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہیکہ محمد رفعت کی اس ایجاد کو دیکھ کر امریکی ادارہ ناسا (نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن) کے سائنسداں انگشت بدنداں رہ گئے اور جب انہیں پتہ چلا کہ محمد رفعت شاہ رخ کا تعلق بھی اس سرزمین سے ہے جہاں ڈاکٹر کلام جیسے سائنسداں پیدا ہوئے تب ان لوگوں نے اس کم عمر سائنسداں کی زبردست پذیرائی کی۔ دراصل رفعت شاہ رخ نے دنیا کا سب سے ہلکا اور چھوٹا سٹیلائٹ تیار کیا ہے۔ اس سٹیلائٹ کو ناسا کے سائنسدانوں نے اس قدر پسند کیا کہ انہوں نے 21 جون کو باقاعدہ اسے ورجنیا میں واقع Walops Flight Facility سے خلاء میں چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ رفعت شاہ رخ کیلئے Idoodlele arning ایجوکیشن کمپنی ایک نعمت غیرمترقبہ ثابت ہوئی۔ اس نے ناسا اور کلارائڈو کی اسپیس گرانٹ کنسورشیم کے تعاون و اشتراک سے نوجوان سائنسداں کی ایجادات کے مقابلہ کیوبس ان سائنس کا اہتمام کیا تھا جس میں 57 ملکوں سے 86000 ڈیزائن پیش کئے گئے۔ تاہم ناسا کے سائنسدانوں نے محمد رفعت شاہ رخ کے ڈیزائن کو منتخب کیا۔ اس طرح ہندوستان میں ایک اور ڈاکٹر کلام منظرعام پر آسکا۔ ناسا نے محمد رفعت کا مذہب، علاقہ، نسل اور عمر نہیں دیکھی بلکہ ان کی تحقیقی و اختراعی صلاحیتوں کو دیکھا اور تسلیم بھی کیا۔ آپ کو بتادیں کہ محمد رفعت شاہ رخ نے اپنے تیار کردہ سٹیلائٹ کو ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام مرحوم سے موسوم کرتے ہوئے اسے Kalamsat کا نام دیا ہے۔ شاید ڈاکٹر کلام کو ایک ہندوستانی طالب علم کا اس سے بڑھ کر کوئی اور خراج نہیں ہوگا۔ اس سٹیلائٹ کا وزن صرف 64 گرام ہے اور دنیا میں تاحال اس سے چھوٹا سٹلائٹ کسی نے تیار بھی نہیں کیا ہے۔ چینائی میں واقع اسپیس کڈس انڈیا میں ایک لیڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے۔ رفعت نے جاریہ ماہ ہی HSC کا امتحان کامیاب کیا ہے ، ان کے والد آسٹراماجی کے ایک سائنسداں تھے۔ 2008 ء میں ان کا ان تقال ہوا۔ رفعت کے مطابق SKI ملک کے بچوں اور نوجوانوں میں سائنسی تعلیم کے فروغ کیلئے کام کرتی ہے۔ رفعت بچپن سے ہی سائنس و ٹیکنالوجی سے کافی شغف رکھتے ہیں۔ چنانچہ 15 سال کی عمر میں انہوں نے 2-5 پاونڈ وزنی ہلیم غبارہ تیار کرکے سائنسدانوں کو حیران کردیا تھا۔ رفعت اس سیٹلائٹ کے ذریعہ دراصل تھری ڈی پرنٹیڈ کاربن کی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے خواہاں ہیں۔ Kalam Sat مدار کے ذیلی حصہ پر چار گھنٹوں کیلئے جائے گا چونکہ وہاں انتہائی کم کشش ثقل کا ماحول ہوتاہے ایسے میں وہ 12 منٹ تک کام کرے گا آپ کو بتادیں کہ دنیا کے اس سب سے چھوٹے Micro Sattelite میں ایک نئے ٹائپ کا کمپیوٹر اور زائداز 10 قسم کے سینسر بھی ہیں جو رفتار، گردش اور زمین کی قو ثقل کو ناپیں گے۔ محمد رفعت شاہ رخ کے اس غیرمعمولی سٹلائٹ کے بارے میں اتنا ضرور کہا جاسکتا ہیکہ21  جون 2017ء کو ناسا کی جانب سے اسے خلاء میں داغے جانے کے ساتھ ہی ہندوستانی سٹیلائیٹس کی تاریخ میں ایک اور سنہری باب کا اضافہ ہوگا۔ جہاں تک سٹیلائیٹس کا سوال ہے نقشہنویسی، تعلیم، سائنسی تحقیق، مواصلات، نشریات، طب، زراعت، دفاع ، غرض بے شمار شعبوں میں ان کا استعمال کیا جاتا ہے۔ موسمی تبدیلیوں، آفات سماوی، زلزلوں، مین کے کھسکنے، گلیشرس کے گھلنے جیسی کیفیتوں کا اندازہ لگانے کے علاوہ جاسوسی کیلئے بھی سٹیلائیٹس کا استعمال عام ہوگیا ہے۔ 1957 میں سویٹ یونین نے پہلی مرتبہ Spalnik 1, سٹیلائٹ خلاء میں چھوڑتے ہوئے سٹیلائٹس خلاء میں داغنے کی بنیاد ڈال دی تھی۔ خلائی سائنس میں سویٹ یونین کی اس کامیابی سے پریشان امریکہ نے ایکسپلور 1 خلاء میں داغتے ہوئے سویٹ یونین کو یہ احساس دلایا کہ وہ بھی اس کے شانہ بشانہ ہے۔ سٹیلائٹس کی تاریخ کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہیکہ 1957 سے اب تک تقریباً 7 ہزار سٹیلائٹس خلاء میں داغے جاچکے ہیں اور ان میں سے 3600 سے زائد سٹیلائٹس ہنوز خلاء میں موجود ہیں۔ تاہم زائد از 1000 ہی کارکرد ہیں۔ ہندوستان نے اب تک اپنے 90 سٹیلائٹس خلاء میں داغے ہیں جبکہ ہمارے ملک کو دوسرے ملکوں کے 180 سٹیلائٹس کو اپنی خلائی گاڑیوں یا راکٹس کے ذریعہ خلاء میں چھوڑنے کا اعزاز حاصل ہے۔ آپ کو بتادیں کہ ہندوستان نے 1975 میں اپنا پہلا سٹیلائٹ آریہ بھٹ خلاء میں چھوڑا تھا اور اب تک اس نے 13 اقسام کے 90 سٹیلائٹس خلاء میں داخل کئے ہیں اور اس کا ہندوستان کو زبردست فائدہ پہنچا۔ اس کے علاوہ ہندوستان دنیا کا وہ پہلا ملک ہے، جس نے بیک وقت 104 سٹیلائٹس خلاء میں بھیجے۔ ہندوستان نے جن ملکوں کے سٹیلائٹس اپنی خلائی گاڑیوں کے ذریعہ خلاء میں داغے ہیں، ان میں جنوبی کوریا، بلجیم، انڈونیشیاء، ارجنٹینا، اٹلی، اسرائیل، کناڈا، جاپان، نیدرلینڈ، ڈنمارک، سوئٹزرلینڈ، ترکی، الجیریا، لکسمبرگ، سنگاپور، فرانس، آسٹریا، برطانیہ، امریکہ، قزاقستان اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ یہ بات کر رہے تھے محمد رفعت شاہ رخ کی جنہوں نے دنیا کا سب سے ہلکا اور چھوٹا سیٹلائٹ بناکر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے ، اس سیٹلائٹ کا وزن صرف 64 گرام ہے ۔ اپنی کامیابی کے بارے میں رفعت کہتے ہیں کہ ٹامل میگزین Cattivikate میں اسٹوڈنٹ جرنلسٹس کی حیثیت سے کام کے دوران ان کی ملاقات ڈاکٹر سریماتی کپسان سے ہوئی جو اسپیس کڈس انڈیا کی بانی اور سی ای او ہیں، اس ملاقات نے رفعت کی زندگی بدل ڈالی۔ وہ سریماتی کپسان کو اپنی ماں کہتا ہے۔ رفعت کے مطابق وہ اپنے مرحوم والد سے بچپن میں خلاء اور کائنات کے بارے میں تبادلہ خیال کرتا تھا ، ایک دن اس نے یہ اپنے والد سے یہ بھی کہا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب وہ اپنا تیار کردہ سیٹلائٹ خلاء میں داغے گا اور ویسا ہی ہوا ۔ آج ساری دنیا کی نظریں محمد رفعت شاہ رخ پر ہیں۔
mriyaz2002@yahoo.com

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT