Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / محمد اخلاق کا خاندان دہلی منتقل، دادری میں ہندوتوا قائدین کا ہجوم

محمد اخلاق کا خاندان دہلی منتقل، دادری میں ہندوتوا قائدین کا ہجوم

فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے راجناتھ سنگھ کی وارننگ

٭  ہراسانی کے شکار ہندوؤں کو بندوق فراہم
کرنے بی جے پی ایم پی آدتیہ ناتھ کا اعلان
٭   سادھوی پراچی کو روک دیا گیا

دادری ۔ 7 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے دادری گاؤں میں گائے کا گوشت کھانے کی افواہوں پر گذشتہ ہفتہ جنونی ہجوم کے ہاتھ بے رحمانہ زدوکوب میں ہلاک محمد اخلاق کا خاندان آج اپنا گاؤں چھوڑ کر نسبتاً محفوظ مقام دہلی منتقل ہوگیا۔ قومی دارالحکومت سے تقریباً 60 کیلو میٹر اور یوپی کے اس گاؤں میں معمول کے حالات بحال کرنے کی کوشش جاری ہیں کہ اس دوران بی جے پی کے ایک سخت گیر رکن پارلیمنٹ یوگی آدتیہ ناتھ نے دادری میں پولیس ہراسانی کی صورت میں اکثریتی طبقات کے افراد مدد کے طور پر بندوقیں فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ مہلوک محمد اخلاق کے بڑے بیٹے محمد سرتاج نے توثیق کی کہ ان کا خاندان کل رات دہلی منتقل ہوگیا، جہاں آٹھ دن قبل 200 جنونیوں پر مشتمل ہجوم نے عمر رسیدہ اور بیمار شخص محمد اخلاق کو انتہائی بے رحمی کے ساتھ گھسیٹتے ہوئے ان کے گھر سے نکالنے کے بعد مار مار کر ہلاک کردیا تھا۔ علاوہ ازیں ان کے چھوٹے بیٹے 22 سالہ دانش کو بھی بری طرح پیٹا گیا تھا جس کے نتیجہ میں شدید زخمی ہوگیا تھا۔ نوئیڈا کے ایک دواخانہ میں دانش کا علاج جاری ہے

 

جنہیں اب آئی سی یو سے عام وارڈ کو منتقل کردیا گیا ہے اور وہ اپنے ارکان خاندان سے بات چیت کرنے لگا ہے۔ بشادا میں جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا معمول کے حالات بحال کرنے کی کوشش جاری ہیں۔ اس دوران وہاں زعفرانی تنظیموں کے قائدین کا تانتا بندھ گیا ہے جو گاؤں میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے لیکن حکام نے انہیں روک دیا۔ راجپوتوں کی کثیرآبادی والے اس گاؤں کے باب الداخلہ پر خیرمقدمی کمان اور اس کے ساتھ مہارانا پرتاپ سنگھ کا قدآدم مجسمہ کے اطراف پولیس کی بھاری جمعیت تعینات ہے۔ بی جے پی کی شعلہ بیان لیڈر سادھوی پراچی نے بھی آج بشادا میں داخلہ کی کوشش کی لیکن پولیس حکام نے انہیں روک دیا۔ داخلہ روکنے کی اس کارروائی کو پراچی نے ایک سازش قرار دیا اور کہا کہ حیدرآباد کے ایک مسلم رکن پارلیمنٹ کو یہاں متاثرہ خاندان سے ملاقات کی اجازت دی گئی لیکن انہیں روک دیا گیا ہے۔

سادھوی نے کہاکہ وہ راہول یادو اور جئے پرکاش کے افراد خاندان سے ملاقات کرنا چاہتی تھیں یہ نوجوان کل پراسرار حالت میں فوت ہوگیا تھا۔ گذشتہ ہفتہ اخلاق کو زدوکوب کے واقعہ کے بعد پولیس فائرنگ میں راہول یادو زخمی ہوگیا تھا۔ سادھوی پراچی نے دادری واقعہ پر اترپردیش کے وزیر محمد اعظم خاں کی جانب سے اقوام متحدہ کو مکتوب روانہ کئے جانے پر بھی تنقید کرتے ہوئے انہیں غدار قرار دیا۔ اعظم خاں نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون کے نام اپنے مکتوب میں ان سے درخواست کی تھی کہ ہندوستان میں اقلیتوں کے مصائب اور پریشانیوں کا جائزہ لیں۔ پراچی نے الزام عائد کیا کہ ’’اقوام متحدہ کے نام مکتوب سے ہندوستان کا امیج داغدار ہوا ہے‘‘۔ اعظم خاں کو غدار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا۔ انتہاء پسند ہندوتوا لیڈر آدتیہ ناتھ کی طرف سے قائم کردہ تنظیم ’’ہندو یوا واہنی‘‘ کے ارکان نے بھی بشاڈا گاؤں میں داخلے کی کوشش کی۔ یوا واہنی کے لیڈر جتیندر تیاگی نے کہا کہ حکام کی ہراسانی سے متاثرہ ہندوؤں سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔

جتیندرا تیاگی نے کہا کہ بشاڈا اور دادری کے ہندوؤں کو ہم ممکنہ مدد پہنچائیں گے۔ ان (ہندوؤں) کی تن، من، دھن اور گن (بندوق) سے مدد پہنچائی جائے گی۔ تاہم تیاگی نے 28 ستمبر کو محمد اخلاق کی ہلاکت کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اس واقعہ کی سی بی آئی کے ذریعہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ تیاگی نے صرف مسلمانوں کو معاوضہ کی پیشکش پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ جئے پرکاش کے خاندان کیلئے مالی امداد کی پیشکش نہیں کی گئی۔ تیاگی نے حقائق سے لاعلمی کی بنیاد پر یہ احمقانہ سوال کیا کہ ’’گائے ذبح کرنے والوں کو بھی معاوضہ دیا جارہا ہے۔ کیا یہ رقم انہوں (گائے ذبح کرنے والوں) نے اپنے طور پر کمائی ہے۔ صرف مسلمانوں کی مالی مدد کیوں کی جارہی ہے؟ جئے پرکاش کی مدد کیوں نہیں کی گئی؟‘‘۔ اس دوران وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے ’’فرقہ وارانہ ہم آہنگی‘‘ درہم برہم کرنے کی کوشش میں ملوث افراد کے خلاف ممکنہ حد تک سخت ترین کارروائی کا انتباہ دیا۔ بشاڈا کے دادری گاؤں میں پیش آئے واقعہ پر حکومت اترپردیش کی جانب سے مرکزی وزارت داخلہ کو رپورٹ کی پیشکشی کے دوسرے دن راجناتھ سنگھ نے دہلی میں آج کہا کہ ’’فرقہ وارانہ ہم آہنگی درہم برہم کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT