Monday , August 21 2017
Home / مضامین / محمد بن سلمان سعودی شہزادہ سے ولیعہد تک برق رفتار سفر!

محمد بن سلمان سعودی شہزادہ سے ولیعہد تک برق رفتار سفر!

 

اَجیش جوائے
دو سال قبل کی بات ہے فرانس کے جنوب میں ساحل سمندر کی تفریح گاہ میں چھٹیوں کے دوران پرنس محمد بن سلمان کو سیر و سفر کیلئے نہایت موزوںکشتی ’سرین‘ دکھائی دی۔ یہ عیش و آرام والی کشتی اطالوی کمپنی کی تیارکردہ روسی بزنسمن یوری شیفلر کی ملکیت تھی۔ پرنس نے شیفلر کو اس کشتی کیلئے 550 ملین ڈالر کی پیشکش کی جو 2011ء میں 330 ملین ڈالر میں خریدی گئی تھی۔ یہ معاملت اُسی روز مکمل کرلی گئی۔ ایسا تیز لین دین محمد بن سلمان کی شخصیت کا خاصہ ہے، جنھیں اُن کے والد شاہ سلمان نے 21 جون سعودی عرب کا ولیعہد مقرر کردیا۔ سعودی تخت ِ شاہی کا متوقع وارث پُرزور اور فوری و پختہ فیصلہ کرنے والا شخص ہے۔
وہ جو سعودی سیاست کی بازنطینی طرز کی چالوں سے واقف ہیں، اُن کیلئے یہ خبر کوئی حیرانی نہ ہوئی۔ شاہ عبداللہ کے انتقال پر جنوری 2015ء میں اپنے والد کے شاہ بننے کے بعد محمد بن سلمان نے بہت تیز رفتار ترقی کی ہے۔ انھیں جلد ہی وزارت دفاع اور شاہی دربار کی ذمہ داری دی گئی اور ڈپٹی کراؤن پرنس بنایا گیا۔ اگرچہ شاہ سلمان نے اپنے بھائی مقرین کو کراؤن پرنس مقرر کیا تھا اور بعد میں اپنے بھتیجہ اور وزیر داخلہ محمد بن نائف کو اس منصب کیلئے نامزد کیا، لیکن یہ واضح ہوگیا کہ انھوں نے 31 سالہ محمد بن سلمان کو ہی اپنا جانشین بنانا چاہا تھا۔ چنانچہ پرنس نائف جو اِنسداد دہشت گردی میں قدآور شخصیت بن چکے تھے، جنھوں نے سعودی عرب کو کئی برسوں تک محفوظ رکھا اور امریکی نظم و نسق اور انٹلیجنس ایجنسیوں کے ساتھ عمدہ روابط قائم کرلئے تھے، وہ سعودی نظام کے اعتبار سے حاشیہ پر چلے گئے۔

محمد بن سلمان کو بھاری بھرکم نیشنل آئیل کمپنی ’آرامکو‘ کی ذمہ داری دی گئی، اور اپنے والد کے ہمراہ امریکہ میں صدر براک اوباما سے ملاقات کیلئے منتخب کیا گیا۔ انھوں نے گزشتہ سال چین میں منعقدہ G-20 سمٹ میں اپنے ملک کی نمائندگی کی۔ اس پر نیویارک ٹائمز نے گزشتہ اکٹوبر اپنا تاثر پیش کیا تھا: ’’محمد بن سلمان کے ظاہر طور پر بے حد عزائم کو دیکھتے ہوئے کئی شخصیتوں کو شبہ ہے کہ اُن کا قطعی مقصد محض سلطنت کو نئے دور میں پہنچانا نہیں، بلکہ موجودہ کراؤن پرنس کو حاشیہ پر کردینا ہے تاکہ اگلا شاہ ِ سعودی عرب بنا جاسکے۔‘‘ جو کچھ 21 جون کو پیش آیا، شاید اُسی مشن کا دوسرا آخری اقدام ہوا۔ پھر بھی جب یہ فیصلہ صادر ہوا، اس نے نہایت قدامت پسند شاہی فیملی میں کچھ باتیں طے کردی ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ السعود خاندان کی اگلی نسل کو حکمرانی کی باگ ڈور حوالے کرنے کا امکان حقیقت بن چکا ہے۔ 1932ء میں جدید سلطنت کے آغاز سے اقتدار ہمیشہ بانی شاہ عبدالعزیز اور اُن کے بیٹوں کے پاس رہا ہے۔
محمد بن سلمان ہمیشہ سے اپنے والد کے چہیتے ہیں، حالانکہ اُن کے دیگر بیٹے زیادہ ممتاز ہیں۔ اُن کے دوسرے فرزند سلطان کا چرچا آسٹروناٹ کی حیثیت سے ہوا ، جب وہ زائد از تین دہے قبل خلائی گاڑی ’ڈِسکوری‘ کے کیبن میں خاتون امریکی رکن عملہ کے ساتھ سفر کرکے مشہور ہوئے تھے۔ اُن کے پانچویں فرزند فیصل آکسفورڈ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کئے اور گورنر صوبہ مدینہ ہیں۔ محمد بن سلمان کی تعلیم مقامی طور پر حاصل کرتے ہوئے کنگ سعود یونیورسٹی ، ریاض سے قانون میں بیچلرس ڈگری پائی۔ لیکن انھیں اپنے والد کی تیسری اور چہیتی شریک حیات پرنسیس فہدہ کے ہاں پیدا ہونے کا فائدہ حاصل ہے، اور اُن کی پرورش اسی رہائش گاہ میں ہوئی جہاں ان کے والد رہتے ہیں، اپنے بھائی بہنوں کے برخلاف جو اپنی ماؤں کے پاس پلے بڑھے ہیں۔
محمد بن سلمان کی سرفرازی اگرچہ متوقع رہی لیکن اس کا وقت نہیں۔ بعض مبصرین اس غیرمتوقع اعلان کی وضاحت میں امریکی ربط کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس کی فوری وجہ ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی تائید و حمایت بتائی جارہی ہے۔ شاہ سلمان کا اعلان ٹرمپ کے دورۂ سعودی عرب کے ٹھیک ایک ماہ بعد ہوا۔ امریکی رول کو دو زاویوں سے سمجھا جانا چاہئے۔ اول، اسے محمد بن سلمان کیلئے انعام کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے، جنھوں نے شاہ سلمان کا ماننا ہے کہ امریکہ۔ سعودیہ تعلقات میں بہت مایوس کن مرحلے کے بعد جبکہ براک اوباما صدر تھے، دوبارہ جولانی پیدا کردی ہے۔ مارچ میں اُن کے کامیاب دورۂ واشنگٹن اور ٹرمپ کے بحیثیت صدر اپنی پہلی سمندرپار منزل سعودی عرب کو بنانے کے فیصلہ کو شاہ سلمان نے اپنے فرزند کی بڑی کامیابی تسلیم کیا ہے۔ دوم، ٹرمپ فیملی کی محمد بن سلمان کو بھرپور تائید و حمایت نے شاہ سلمان کو حوصلہ بخشا کہ اپنے بھتیجہ کو جو اوباما کے پسندیدہ رہے، سبکدوش کرتے ہوئے اپنے فرزند کو ولیعہد بنادیا جائے۔ مارچ میں ٹرمپ نے محمد بن سلمان کے ساتھ باقاعدہ میٹنگ اوول آفس میں منعقد کی تھی اور ان کے اعزاز میں لنچ اسٹیٹ ڈائننگ روم میں ترتیب دیا تھا۔ محمد بن سلمان نے اس دورے میں ٹرمپ کی دختر ایوانکا اور اس کے شوہر جیئرڈ کوشنر کے ساتھ ڈنر بھی کیا تھا۔ جب ٹرمپ مئی میں سعودی عرب آئے، محمد بن سلمان نے کوشنر جوڑے کیلئے اپنے پیالس میں ڈنر کا اہتمام کیا۔ ولیعہد مقرر کئے جانے کے اندرون چند گھنٹے محمد بن سلمان کو ٹرمپ سے مبارکبادی کا فون کال وصول ہوا۔

مگر اس امریکی نظریہ پر ہر کسی کو اتفاق نہیں ہے۔ ریاض میں کنگ فیصل سنٹر فار ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹیڈیز کے سینئر فیلو جوزف کچی چیان نے مجھے بتایا کہ کسی بھی ملک کی ہر تبدیلی میں امریکی کردار کو باور کرلینا آسان ہے۔ امریکی اسکالر نے کہا کہ ایسی سوچ اکثروبیشتر خام خیالی ہوتی ہے، اور تمام معاملوں کے 98 فیصد حصے میں غیردرست رہتی ہے۔ جوزف کے سعودی شاہی خاندان کے اندرون وسیع تر روابط ہیں، اور اُن کا کہنا ہے کہ جانشینی کا مسئلہ خالصتاً سعودی فیصلہ ہے۔ ’’یہ شخص واحد ، شاہ سلمان کا فرمان ہے۔‘‘ یہ کوئی آسان کام نہیں ہوسکتا ہے۔ درحقیقت، شاہی فرمان جو محمد بن سلمان کو ولیعہد مقرر کرنے کیلئے جاری کیا گیا، اس نے سعودی بنیادی قوانین میں تبدیلی بھی کردی کہ مستقبل میں شاہ اور ولیعہد شاہی خاندان کی یکساں شاخ سے نہیں ہوسکتے ہیں۔ اور شاہ سلمان نے یقینی بنایا کہ وزیر داخلہ کا عہدہ جسے نائف سے لے لیا گیا، شاہی خاندان کی یکساں شاخ کے پاس برقرار رہے گا۔ چونکہ محمد بن سلمان کو سینئر شہزادوں پر ترجیح دی گئی، اس لئے شاہی خاندان میں چند ناراض گوشے ضرور ہوسکتے ہیں۔ تاہم جوزف نے کہا کہ شاہی خاندان بدستور متحد رہنے کا امکان ہے۔ ’’تمام السعود ارکان ، شاہی خاندان کے مفادات کو ہر دیگر چیز پر فوقیت دیتے ہیں۔ بعض معمر اراکین ہوسکتا ہے زبانی طور پر ناگواری ظاہر کریں، لیکن وہی ان کی شکایات کی حد رہے گی۔‘‘ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ، نئی دہلی میں گلف اسٹیڈیز پروگرام کے ڈائریکٹر اے کے پاشا نے بھی حکمراں خاندان میں فوری کسی بحران کو خارج از امکان قرار دیا۔ تاہم، انھوں نے متنبہ کیا کہ یہ ہلکی ہلکی کشیدگیاں تب اُبھر آئیں گی بشرطیکہ یمن اور قطر کے حالات سے نمٹنا مشکل بن جائے۔یہ دو ممالک پہلے ہی سعودی عرب کیلئے بڑی خارجہ پالیسی الجھنیں بن چکے ہیں، بالخصوص محمد بن سلمان کیلئے جو لگتا ہے جارحانہ سعودی انداز سے کام لے رہے ہیں۔ اپنے شیعہ حریف ایران کے خلاف واضح طور پر بالواسطہ جنگ میں سعودی عرب 2015ء سے یمن میں معزول صدر عبدالرب منصور ہادی کی طرف سے حوثی باغیوں سے لڑرہا ہے۔ تاہم ، اسے کچھ قابل لحاظ پیشرفت حاصل نہیں ہوئی۔
قطری بحران میں بھی اکثر مبصرین کو محمد بن سلمان کا رول معلوم ہوتا ہے۔ چونکہ قطر نے سعودی مطالبات کی تعمیل سے انکار کردیا، جن میں الجزیرہ بند کردینا، اخوان المسلمین کے ساتھ روابط منقطع کرلینا اور ایران کے ساتھ تعلقات کو گھٹا لینا شامل ہیں، محمد بن سلمان کو بڑا بحران درپیش ہے۔ جوزف کے مطابق محمد بن سلمان کے تحت سعودی خارجہ پالیسی بالخصوص عرب جزیرہ نما کیلئے کہیں زیادہ دھونس جمانے والی ہوگی، کیونکہ شاہی حکمراں اور اُن کے فرزند تمام تر وسائل کے ساتھ مل کر جی سی سی ایجنڈے پر مخالفت کی زبان بندی کرنے کوشاں ہیں۔ اتحادی ترجیحات تمام تر روابط پر غالب ہوں گے اور شاید ہی کسی کو حد سے تجاوز کرنے دیا جائے گا جیسا کہ ہم قطر کے معاملے میں دیکھ رہے ہیں۔ مئی میں مقامی ٹیلی ویژن چیانلوں کو انٹرویو میں محمد بن سلمان نے اشارہ دیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ مصالحت کے موڈ میں نہیں ہیں۔ ’’ہم انتظار کرنے والے نہیں کہ سعودی عرب میں خانہ جنگی کا ماحول پیدا ہوجائے۔ ہم کچھ ایسا کریں گے کہ ایران میں انھیں خانہ جنگی درپیش ہو۔‘‘

تاہم، محمد بن سلمان کیلئے سب سے بڑا چیلنج دیسی محاذ پر رہے گا۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ سعودی معیشت صرف اپنی پٹرولیم اشیاء پر انحصار کرتے ہوئے آگے نہیں بڑھ سکتی جیسا کہ تیل کی قیمتوں میں گزشتہ تین سال میں 60 فیصد گراوٹ ہوچکی، محمد بن سلمان نے پُرجوش منصوبہ ’’ویژن 2030‘‘ تجویز کیا ہے۔ اس کا مقصد ہے کہ سعودی معیشت کو متنوع بناتے ہوئے تیل پر انحصار کو گھٹایا جائے، سعودی عرب کو ٹریڈ اور ٹکنالوجی کا مرکز بنانے کیلئے سرمایہ کاریاں راغب کئے جائیں، غیرحج سیزن پر مبنی ٹورازم انڈسٹری فروغ دی جائے، بیرونی ورکرس کی جگہ مقامی افرادی قوت استعمال کی جائے، اور نہایت قدامت پسند علماء کے مقررہ سخت اخلاقی ضابطہ میں نرمی لائی جائے۔ اپنی پُرعزم حکمت عملی کیلئے مالیہ فراہم کرنے محمد بن سلمان نے سعودی آرامکو کا 5 فیصد حصہ فروخت کرنے کی تجویز رکھی ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی آئیل کمپنی ہے، جس کی مارکیٹ میں قدر 2 ٹریلین ڈالر تک ہوسکتی ہے۔ اس سلسلہ میں پیشرفت آئندہ سال کے اواخر ہوسکتی ہے۔ مئی میں سفر روس کے دوران محمد بن سلمان نے صدر ولادمیر پوتین اور بڑی روسی تیل کمپنی کے سربراہ ایگور سشین سے ملاقات کی تھی ، جو تیل کی صنعت کو چلانے میں اپنا سرگرم رول ادا کرنے کی کوشش کہی جاسکتی ہے۔ اس پر شاہی خاندان میں چہ میگوئیاں ہوئی ہیں۔
تاہم، محمد بن سلمان کو نوجوان سعودی شہریوں کی تائید و حمایت معلوم ہوتی ہے، جو سلطنت کی آبادی کا تقریباً 70 فیصد حصہ ہیں۔ وہ اس نوجوان پرنس کے منتظر ہیں، جو برسہابرس تک حکمرانی کرسکتا ہے۔ اور انھیں اب تک جو دیکھا، پسند آیا ہے۔ اوباما اور ٹرمپ کے ساتھ محمد بن سلمان کی ملاقاتوں سے کہیں زیادہ فیس بک ہیڈکوارٹرز بمقام مینلو پارک، کیلی فورنیا کو اُن کے دورے نے سعودی نوجوانوں کی توجہ حاصل کی ہے، جہاں وہ مارک زکربرگ کے ساتھ دکھائی دیئے اور دونوں ہی ہلکے پھلکے لباس میں تھے۔ اور پھر وطن میں اُن کا انٹرٹینمنٹ اتھارٹی تشکیل دینا کافی مقبول اقدام رہا ہے، جس نے میوزک کنسرٹس، تھیٹر پروڈکشنس اور کامیڈی شوز آرگنائز کئے اور حتیٰ کہ سنیما گھر کھولنے پر بھی غور کررہی ہے۔ ایسا ہی مقبول اُن کا یہ فیصلہ ہے کہ سخت گیر مذہبی پولیس (ال معروف مطوع) سے مشتبہ افراد کو حراست میں لینے کا اختیار ہٹا لیا جائے اور خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے کے بارے میں ترقی پسندانہ سوچ اختیار کی جائے۔
مگر اقتدار کی منتقلی شاید آسان نہ ہو۔ ثقافتی اور سماجی آزاد خیالی کی عام طور پر قیمت چکانی پڑتی ہے۔ سعودی عرب نے اپنے شہریوں کی وفاداری کو یقینی بنانے کیلئے تاریخ گواہ ہے کہ انھیں پیدائش سے وفات تک فوائد کی پیشکش کی ہے۔ تاہم، ناکام معاشی پالیسیوں اور تیل کی قیمتوں میں گراوٹ نے محمد بن سلمان کو کفایتی اقدامات کرنے اور بعض فیسوں میں اضافے پر مجبور کیا ہے۔ کسی مرحلے پر سلطنت میں شورش یا ہنگامہ ہوجائے تو ہندوستان میں تشویش ہوسکتی ہے کیونکہ سعودی عرب میں تقریباً 1.3 ملین ہندوستانی تارکین وطن مقیم ہیں اور یہ تیل کی ضروریات کا 17 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT