Tuesday , October 17 2017
Home / Top Stories / محمد بن سلمان کی امریکی قیادت کیساتھ خطے کے بحرانوں پر تفصیلی بات چیت

محمد بن سلمان کی امریکی قیادت کیساتھ خطے کے بحرانوں پر تفصیلی بات چیت

اسپیکر پال رائن اور سی آئی اے سربراہ جان برائن سے خصوصی ملاقات
واشنگٹن ۔ 16 جون (سیاست ڈاٹ کام) سعودی نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے دورہ امریکا کے تیسرے روز کانگریس کے ریپبلکن اور ڈیموکریٹک ارکان اور قائدین سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں شام کا کے بحران کے علاوہ یمن، لیبیا اور ایران کی صورت حال پر تبادلہ خیال ہوا۔ واشنگٹن میں چہارشنبہ کے روز شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی پارلیمنٹ کے اسپیکر پال رائن سے ملاقات کی۔ اس دوران دونوں ملکوں کے درمیان متعدد مشترکہ میدانوں میں تعاون اور اس تعاون کی ترقی کے طریقہ کار اور دو طرفہ توجہ کے معاملات پر تفصیلی بحث ہوئی۔ نائب ولی عہد نے پارلیمنٹ میں ڈیموکریٹک خاتون رہ نما نینسی پیلوسی سے بھی ملاقات کی۔ اسی طرح شہزادہ محمد بن سلمان نے کانگریس کے ایوان بالا اور ایوان زیریں کے متعدد ارکان اور قائدین سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے سینیٹ میں خارجہ تعلقات اور فوجی خدمات کی کمیٹیوں کے علاوہ پارلیمنٹ میں امور خارجہ اور عدلیہ کی کمیٹیوں کے سربراہان اور ارکان سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان سیاسی اور سیکورٹی پہلوؤں سے تعاون میں پیشرفت کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا۔ بات چیت میں خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی ایرانی سرگرمیوں اور 11 ستمبر کے حملوں کی تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے چھپائے گئے “28 صفحات” پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ بہت سے ذمہ داران نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان صفحات میں کسی طور سعودی عرب کی مذمت شامل نہیں ہے۔ اس کے علاوہ سعودی نائب ولی عہد نے واشنگٹن میں اپنی جائے قیام پر تجارت کی امریکی وزیر پینی پرٹزکرسے ملاقات میں تجارت کے میدانوں اور دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ مفادات کو فائدہ پہنچانے والے امور پر بات چیت کی۔

سعودی عرب کے کردار کی تعریف
اس دوران امریکی وزارت خارجہ نے شامی بحران کے حل کے سلسلے میں “سعودی عرب کے قائدانہ کردار” اور امریکہ کے ساتھ تعاون کو بھرپور طریقے سے سراہا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان جان کیربی کے مطابق داعش تنظیم کے خلاف بین الاقوامی اتحاد میں سعودی عرب بانی رکن کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ” اگر سعوی کردار نہ ہوتا تو شام کو سپورٹ کرنے والے تقریبا 20 ممالک کا گروپ تشکیل نہیں پاتا جو شام کے تنازع کا سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک کی پیش رفت تک پہنچنے کے سلسلے میں سعودیوں نے ہماری رہ نمائی کی ہے اور ابھی ہمارے سامنے ایک طویل راستہ باقی ہے”۔سعودی نائب ولی عہد نے منگل کے روز امریکی مرکزی انٹیلجنس ایجنسی CIA کے سربراہ جان برانن اور نیشنل انٹیلجنس کے ڈائریکٹر جیمس کلیبر سے ورجینیا میں ملاقات کی جہاں انہوں نے دو ذمہ داران کے ساتھ دہشت گردی کے علاوہ سیکورٹی اور انٹیلجنس تعاون پر بات چیت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ 11 ستمبر کے حملوں کی تحقیقاتی رپورٹ کے نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ ان حملوں میں سعودی حکومت کے بطور ریاست یا ادارے یا سعودی اعلی ذمہ داران کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد موجود نہیں۔ برینن کے مطابق وہ رپورٹ کے اْن 28 صفحات کو جاری کرنے کی حمایت کرتے ہیں تاکہ سب لوگ یہ ثبوت دیکھ لیں کہ سعودی حکومت کسی طور ملوث نہیں رہی ہے۔ مشرق وسطی کے بحرانوں کے حل کے لیے جن میں شام کا بحران اور یمن کی صورت حال سرفہرست ہیں، ریاض کی خواہش کو باور کرانے اور اس کے علاوہ امریکہ کے بڑے سرمایہ کاروں کے سامنے سعودی ویڑن 2030 کے منصوبے کی تفصیل اور قومی تبدیلی پروگرام 2020 پر عمل درامد کی بریفنگ کے حوالے سے سعودی نائب ولی عہد کا دورہ کافی اہمیت کا حامل ہے۔

TOPPOPULARRECENT