Tuesday , June 27 2017
Home / جرائم و حادثات / محمد بن یونس یافعی کو خانگی دواخانہ میں علاج کی اجازت

محمد بن یونس یافعی کو خانگی دواخانہ میں علاج کی اجازت

علاج کے دوران ملزم کی اہلیہ اور دختر کو ساتھ رہنے کی سہولت
حیدرآباد /15 فروری ( سیاست نیوز ) 7 ویں ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سیشن جج نے چندرائن گٹہ حملہ کیس میں ماخوذ محمد بن یونس یافعی کو خانگی دواخانہ میں علاج کی اجازت دینے کے احکام جاری کئے ۔ عدالت نے اپنے احکام میں یہ بتایا کہ ملزم کو لائف لائین ہاسپٹل واقع چندرائن گٹہ بارکس میں شریک کیا جائے اور پولیس اسکارٹ میں ان کا علاج 2 مارچ تک جاری رہے گا ۔ اپنے احکام میں عدالت نے مزید بتایا کہ علاج کے دوران ملزم کی اہلیہ اور دختر ساتھ رہ سکتے ہیں اور دواخانہ کے اخراجات ملزم کو ادا کرنی پڑے گی ۔ واضح رہے کہ وکیل دفاع ایڈوکیٹ جی گرومورتی نے گذشتہ ماہ نامپلی کریمنل کورٹ میں یونس یافعی کی درخواست ضمانت داخل کی تھی جس پر عدالت نے ضمانت کے بجائے 14 دن کیلئے خانگی دواخانہ میں پولیس اسکارٹ میں علاج کی اجازت دی ہے ۔ وکیل دفاع نے اپنے درخواست میں بتایا تھا کہ ان کے موکل معمر شخص ہے اور وہ کئی عارضوں کا شکار ہے ۔ 30 اپریل سال  2011 کو اکبر اویسی پر مبینہ طور پر حملہ کرنے کے الزام میں محمد بن عمر یافعی المعروف محمد پہلوان اور ان کے دیگر ارکان خاندان بشمول یونس یافعی کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا تھا اور وہ جب سے چرلہ پلی سنٹرل جیل میں محروس ہے ۔ جیل میں یونس یافعی کی صحت آئے دن بگڑتی رہی ہے جس کے نتیجہ میں ان کی درخواست ضمانت داخل کی گئی تھی ۔ قبل ازیں 4 ٹی وی کی ویڈیو گرافر شیخ سلیم نے آج دوبارہ عدالت میں اپنا بیان قلمبند کروایا اور اس پر جرح کیا گیا ۔ گواہ نے ایڈوکیٹ راج وردھن ریڈی کی جانب سے جرح کے دوران اس بات سے انکار کردیا کہ اس نے ویڈیو ریکارڈنگ کے اہم حصہ کو حذف کردیا ہے ۔ ویڈیو گرافر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس نے حملے کی ویڈیو گرافی کے دوران ایک شخص کی موت واقع ہونے کی بھی فلم بندی کی تھی ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT