Wednesday , August 16 2017
Home / شہر کی خبریں / محمد علی شبیر کی انتخابی مہم ، محمد ماجد حسین تنقید کا نشانہ

محمد علی شبیر کی انتخابی مہم ، محمد ماجد حسین تنقید کا نشانہ

بیٹی سے لاتعلقی پر سابق میئر پر حصول سیاسی مفاد کاالزام ، کانگریس کو کامیاب بنانے کی اپیل
حیدرآباد ۔ /23 جنوری (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے جی ایچ ایم سی انتخابات کی خاطر اپنی بیٹی سے لاتعلقی کا اظہار کرنے پر مجلس کے سابق میئر محمد ماجد حسین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مجلس کے قائدین دولتمند بن گئے مگر رائے دہندے غریب کے غریب رہ گئے ۔ کانگریس کے امیدوار مہدی پٹنم محمد خالق عرف عرفان کی انتخابی مہم چلاتے ہوئے مختلف علاقوں میں پدیاترا کیا ۔ عوام سے راست ملاقات کرتے ہوئے کانگریس امیدوار کو کامیاب بنانے کی اپیل کی ۔ اس موقع پر حلقہ اسمبلی کے انچارج ونود ، سکریٹریز پردیش کانگریس کمیٹی ، مسٹر جابر پٹیل ، مسٹر محمد جاوید احمد ، ترجمان مسٹر ایس کے افضل الدین کے علاوہ دوسرے موجود تھے ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے زیبا باغ پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کی بدولت محمد ماجد حسین تین سال تک میئر کے عہدے پر برقرار رہے ہیں مگر افسوس کی بات ہے کہ انہوں نے گریٹر حیدرآباد بالخصوص پرانے شہر کی ترقی کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے ۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص صرف سیاسی مفادات کیلئے اپنی لخت جگر (بیٹی) سے لاتعلقی کا اظہار کرتا ہے ، وہ کامیاب ہونے کے بعد رائے دہندوں کا شکر گزار کیسے رہے گا  اور اس سے ترقی کی کیا امید رکھی جاسکتی ہے ۔ انتخابات کیلئے بیٹی سے لاتعلقی کا اظہار کرنا دستور کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی ہے ۔ حقیر سیاسی مفادات کیلئے شریعت سے چھیڑ چھاڑ غیر مناسب ہے ۔ اپنی بیٹی سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے مجلس کے امیدوار محمد ماجد حسین اپنے نفس کے ساتھ ساتھ مہدی پٹنم ڈیویژن کے عوام کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں جب پیدائش سرٹیفکیٹ واضح کرتے ہیں کہ عائشہ ملالہ ماجد حسین اور سعیدہ جویریا عظمت تیسری دختر ہے ۔ کیا سابق میئر اس حقیقت کو جھٹلاسکتے ہیں اور کیا وہ قسم کھاسکتے ہیں کہ یہ ان کی بیٹی نہیں ہے ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ مجلس نے پرانے شہر کے علاوہ ریاست کے مسلمانوں کی ترقی و بہبود کیلئے کچھ نہیں کیا ہے ۔ دوسری حکومتوں نے جو بھی عملی اقدامات کئے مجلس نے اس پر مہر لگاتے ہوئے اس کی کامیابی کا سہرہ اپنے سر باندھنے کی کوشش کی ہے ۔ مسلمانوں نے مجلس پر اٹوٹ محبت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں کامیاب بنایا ۔مجلس کے قائدین دولتمند بن گئے مگر رائے دہندے غریب کے غریب رہ گئے ۔ جن بلدی ڈیویژنس پر مجلس کی نمائندگی رہی ہے وہ ڈیویژنس میں عوام کو بنیادی سہولتیں میسر نہیں ہے ۔ عوام کئی مسائل کا شکار ہیں مجلس کا میئر اسٹائینڈنگ کمیٹی کا صدرنشین ہونے کے باوجود مجلس نے اپنے حلقوں کو ترقی دینے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے ۔ انہوں نے اسلام کو خطرے میں ظاہر کرتے ہوئے جذباتی نعروں سے مسلمانوں کا استحصال کرنے والی مجلس کو اس مرتبہ شکست دیتے ہوئے سیکولر جماعت کانگریس کو کامیاب بنانے کی اپیل کی ۔ کانگریس تمام مذاہب اور طبقات کا احترام کرنے والی جماعت ہے جو اپنی 10 سالہ کارکردگی کو بنیاد بناکر عوام سے ووٹ طلب کررہی ہے ۔ کانگریس پارٹی نے مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کرتے ہوئے ان کی زندگیوں میں روشنی لائی جبکہ ٹی آر ایس نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا مگر اس پر آج تک عمل آوری نہیں کی گئی ۔ مجلس اور ٹی آر ایس دونوں دھوکہ باز جماعتیں ہیں ان سے ہوشیار رہنے کا عوام سے مطالبہ کیا ۔ کانگریس کے امیدوار مسٹر محمد عرفان نے کہا کہ مجلس بی جے پی ہندو مسلم اتحاد میں پھوٹ ڈالتے ہوئے سیاسی فائدہ اٹھارہے ہیں ۔ دونوں جماعتوں کو عوامی مفادات سے کوئی ہمدردی نہیں ہے ۔ صرف انہیں اپنے سیاسی تجارتی اغراض و مقاصد عزیز ہے ۔

TOPPOPULARRECENT