Friday , July 28 2017
Home / Top Stories / محمد علی شبیر کی تصنیف ’’ مسلم تحفظات کیلئے جدوجہد‘‘ کی رسم اجراء

محمد علی شبیر کی تصنیف ’’ مسلم تحفظات کیلئے جدوجہد‘‘ کی رسم اجراء

مسلمانوں کی پسماندگی دور کرنے سماجی انصاف ضروری، نائب صدر حامد انصار ی اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔12 جولائی (سیاست نیوز) نائب صدر جمہوریہ جناب محمد حامد انصاری نے آج نئی دہلی میں اپنی سرکاری قیام گاہ پر قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز اسمبلی محمد علی شبیر کی تصنیف ’’مسلم تحفظات کیلئے جدوجہد‘‘ کی رسم اجراء انجام دی۔ اس موقع پر منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ شہریوں کو اپنے حقوق اور اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں شعور اور احساس ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک حقوق اور فرائض کے بارے میں شہریوں میں شعور بیدار نہیں ہوگا اس وقت تک سماج ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے پسماندگی کی بنیاد پر مختلف ریاستوں کی جانب سے مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کی کوششوں کا ذکر کیا اور کہا کہ کئی ریاستوں نے تحفظات کی بات تو کی لیکن اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں کی۔ جناب حامد انصاری نے ان ریاستوں کی ستائش کی جنہوں نے مسلمانوں کی پسماندگی کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں جائز حق اور انصاف فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کا کام فیصلہ کرنا ہے جبکہ ان پر عمل آوری ریاستوں کی ذمہ داری ہے۔ سماج میں تمام طبقات کے لیے ترقی کے یکساں مواقع کی وکالت کرتے ہوئے جناب حامد انصاری نے مرکزی حکومت کے نعرے ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نعرہ محض نعرہ بن کر نہ رہ جائے بلکہ اس پر حقیقی معنوں میں عمل آوری ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر اعلی ذات سے تعلق رکھنے والے افراد دو قدم آگے ہوں تو پسماندہ طبقات خود کو کس طرح ان کے مساوی تصور کر پائیں گے۔ مسلمانوں کی پسماندگی کو ایک مسلمہ حقیقت قرار دیتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ سماجی طور پر انصاف اور مدد کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کی پسماندگی کے مختلف پہلوئوں اور وجوہات کا احاطہ کیا اور ساتھ ہی ساتھ متحدہ آندھراپردیش میں مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کے لیے محمد علی شبیر کی کاوشوں کی ستائش کی۔

قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے خیرمقدمی تقریر میں مسلم تحفظات کی 10 سالہ طویل جدوجہد کی تفصیلات بیان کیں اور کہا کہ 1994ء میں اس جدوجہد کا آغاز ہوا تھا اور 2004ء میں وائی ایس راج شیکھر ریڈی زیر قیادت کانگریس حکومت میں یہ جدوجہد کامیاب ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے سماجی اور معاشی طور پر مسلمانوں کو ترقی دینے کے لیے 4 فیصد تحفظات فراہم کیئے جس سے لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں کو فائدہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کی موجودہ صورتحال میں مسلمان اپنے ہاتھ میں قلم چاہتے ہیں ناکہ پتھر۔ سابق میں شہر میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پیش آتے رہے لیکن کانگریس کی جانب سے تحفظات کی فراہمی کے بعد یہ معاملہ تھم گیا۔ راجیہ سبھا میں قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے کہا کہ کانگریس نے آندھراپردیش میں دو اہم انتخابی وعدے کیئے تھے جن کی تکمیل کی گئی۔ مسلمانوں کو تحفظات اور قانون ساز کونسل کا احیاء۔ ان دونوں وعدوں کی ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے تکمیل کی۔ غلام نبی آزاد نے آنجہانی وائی ایس آر کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نے تحفظات کا مطالبہ اس وقت کیا جب وہ محفوظ تھے۔ لیکن آج کی صورتحال میں ان کی جان و مال کا تحفظ تحفظات سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ کشمیر کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے غلام نبی آزاد نے کہا کہ ہر کوئی پارٹی وابستگی سے بالاتر ہوکر دہشت گردی کی مخالفت کررہا ہے۔ انہوں نے تلنگانہ کی گنگاجمنی تہذیب کی ستائش کی اور کہا کہ تمام طبقات کے تعاون سے یہ تہذیب پھل پھول رہی ہے۔ اس تقریب سے جنرل سکریٹری اے آئی سی سی و انچارج تلنگانہ ڈگ وجئے سنگھ اور سابق مرکزی وزیر ایس جئے پال ریڈی نے بھی مخاطب کیا۔ تقریب میں سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید، قائد اپوزیشن تلنگانہ اسمبلی کے جانا ریڈی، صدر پردیش کانگریس آندھراپردیش این رگھوویرا ریڈی، اے آئی سی سی قائد آر سی کنتیا، رکن راجیہ سبھا کے وی پی رام چندر رائو، ایم ایل سی پی سدھاکر ریڈی اور کئی ارکان پارلیمنٹ اسمبلی و کونسل کے علاوہ آندھرا، تلنگانہ، کرناٹک اور اترپردیش کے قائدین نے شرکت کی۔ صدر پردیش کانگریس تلنگانہ این اتم کمار ریڈی نے شکریہ ادا کیا۔

TOPPOPULARRECENT