Monday , September 25 2017
Home / کھیل کی خبریں / محمد علی کا جسدِ خاکی آبائی علاقے میں پہنچا دیا گیا، جمعہ کو تدفین

محمد علی کا جسدِ خاکی آبائی علاقے میں پہنچا دیا گیا، جمعہ کو تدفین

لوئی ول (امریکہ) ، 6 جون (سیاست ڈاٹ کام) سابق ہیوی ویٹ باکسنگ چمپئن محمد علی کا جسدِ خاکی امریکی ریاست کینٹکی میں اُن کے آبائی علاقے لوئی ول پہنچا دیا گیا ہے جہاں جمعہ کو اُن کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔ ان کے خاندانی ذرائع نے کہا ہے کہ جمعہ کو اُن کا بہت بڑا جنازہ منعقد کیا جائے گا تاکہ دنیا بھر کے لوگوں کو انھیں وداع کرنے کا موقع مل سکے۔ اُن کے خاندانی ذرائع کے مطابق محمد علی کا انتقال نامعلوم قدرتی وجوہات سے ہونے والے سیپٹک شاک سے ہوا، سیپٹک شاک میں مریض کا بلڈ پریشر کسی انفیکشن کے باعث خطرناک حد تک گر جاتا ہے۔ محمد علی کے جسدِ خاکی کو لوئی ول ایئرپورٹ سے گاڑیوں کے قافلے کی شکل میں اسلامی مرکز لایا گیا ہے۔ لوئی ول اسلامک سنٹر میں منعقد ہونے والی دعائیہ تقریب میں مسلمان، مسیحی، یہودیوں سمیت مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور انھیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ محمد علی کے خاندان کے ترجمان باب گنیل نے کہا کہ ’’وہ ساری دنیا کے شہری تھے اور ہم چاہتے ہیں کہ ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد ان کے جنازے میں شرکت کر سکیں‘‘۔  باکسنگ کے سابق لیجنڈ محمد علی کے انتقال پر انھیں دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات ملنے کا سلسلہ جاری ہے اور کھیلوں کی دنیا کی اس عظیم شخصیت کو خراج تحسین پیش کرنے والوں میں امریکی صدر براک اوباما، برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرن، معروف موسیقار سر پال میکارٹنی، باکسنگ کی دنیا کے مشہور نام جارج فورمین، مائیک ٹائسن اور فلوئیڈ میویدر کے علاوہ گالف کے سابق عالمی چمپئن ٹائیگر ووڈز بھی شامل ہیں۔ صدر اوباما کے بقول ’’علی نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا‘‘۔ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے محمد علی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’محمد علی نہ صرف رنگ میں چمپئن تھے، بلکہ وہ شہری حقوق کے بھی چمپئن اور بہت سے لوگوں کیلئے مثالی نمونہ تھے‘‘۔ امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے محمد علی کو ان الفاظ میں یاد کیا کہ ’’جب انھوں نے 1960ء میں اولمپک گولڈ میڈل جیتا تو باکسنگ کے شائقین کو پتہ چل گیا تھا کہ وہ خوبصورتی اور انداز، رفتار اور قوت کا وہ امتزاج دیکھ رہے ہیں جو دوبار دیکھنے کو نہیں ملے گا‘‘۔ مشہور فٹبالر پلے نے کہا کہ کھیل کی دنیا کو عظیم نقصان ہوا ہے جبکہ جارج فورمین نے کہا کہ ’’محمد علی آپ کو مجبور کر دیتے تھے کہ آپ ان سے پیار کرنے لگیں۔ وہ بہترین شخص تھے، آپ باکسنگ کو بھول جائیں، وہ ٹی وی اور میڈیا پر آنے والے دنیا کی بہترین شخصیات میں سے تھے‘‘۔ واضح رہے کہ محمد علی نے 1974 میں باکسنگ کے معروف مقابلے ’’دی رَمبل اِن دی جنگل‘‘ میں جارج فورمین کو شکست دی تھی۔ باکسنگ کے ایک اور سابق عالمی چمپئن مینی پیکیاؤ نے محمد علی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا: ’’ ہم ایک بڑی شخصیت سے محروم ہو گئے ہیں۔ محمد علی کی صلاحیتوں سے باکسنگ کو فائدہ پہنچا، لیکن اتنا نہیں جتنا انسانیت کو اُن سے فائدہ پہنچا۔‘‘

TOPPOPULARRECENT