Tuesday , September 26 2017
Home / جرائم و حادثات / محمد پہلوان ،آن لائن انٹرویو مقدمہ میں باعزت بری

محمد پہلوان ،آن لائن انٹرویو مقدمہ میں باعزت بری

عدالت کا فیصلہ، میرے موکل کو ہراساں کرنے کی منصوبہ بند کوشش، وکیل دفاع
حیدرآباد۔/13اپریل، ( سیاست نیوز) آن لائن انٹرویو مقدمہ میں عدالت نے آج اپنا فیصلہ سناتے ہوئے محمد بن عمر یافعی المعروف محمد پہلوان کو باعزت بری کردیا۔ اس طرح ایک مقدمہ سے انہیں برأت مل چکی  ہے۔ وکیل دفاع محمد مظفر اللہ خاں شفاعت سینئر ایڈوکیٹ نے اسے اہم کامیابی اور انصاف کی فتح قرار دیا ۔نامپلی کریمنل کورٹ کے تیسرے ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے محمد پہلوان کو سی آر پی سی کے دفعہ 248(1) کے تحت بے قصور پائے جانے پر بری کردیا اور ان کی برأت کا حکم دیا۔ واضح رہے کہ سال 2012ء میں آندھرا پردیش ہائیکورٹ کی جانب سے 30 اپریل 2011ء میں ہوئے رکن اسمبلی چندرائن گٹہ اکبرالدین اویسی حملہ کیس میں ملزمین کی ضمانتیں منسوخ کئے جانے پر ایک ویب چیانل ’’برق نیوز‘‘ نے محمد پہلوان کا آن لائن انٹرویو جاری کیا اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اکبرالدین اویسی کو دھمکایا تھا۔ متنازعہ آن لائن انٹرویو کی بنیاد پر مجلسی رکن اسمبلی نے بنجارہ ہلز پولیس اسٹیشن میں ایک شکایت درج کروائی تھی جس کے نتیجہ میں پولیس نے محمد پہلوان کے خلاف تعزیرات ِ ہند کی دفعہ 506 (دھمکی دینا) کے تحت ایک مقدمہ جس کا کرائم نمبر 645 ہے ، درج کیا اور بعدازاں انہیں چیرلہ پلی جیل سے پی ٹی وارنٹ کے تحت اپنی تحویل میں لیتے ہوئے اس کیس میں گرفتار کیا تھا۔ بنجارہ ہلز پولیس نے پہلوان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی اور اس کیس کی سماعت کا تیسرے ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کے اجلاس پر اگست 2015ء میں آغاز ہوا تھا۔

کیس کی سماعت کے دوران اکبرالدین اویسی نے محمد پہلوان کے خلاف عدالت میں اپنا بیان قلمبند کروایا جہاں پر ان کے خلاف وکیل دفاع محمد مظفراللہ خاں شفاعت ایڈوکیٹ نے جرح کی تھی۔ اس کیس میں ویب چیانل کے رپورٹر مجتبٰی حسین اور بنجارہ ہلز پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر پر بھی جرح کی گئی تھی۔عدالت میں دیئے گئے اپنے بیان میں محمد پہلوان نے یہ بتایا تھا کہ انہیں اس مقدمہ میں بیجا طور پر ماخوذ کیا گیا اور وہ بے قصور ہیں، چونکہ انہوں نے کسی بھی چیانل کو کوئی انٹرویو نہیں دیا۔  وکیل دفاع اور سرکاری وکیل کے درمیان بحث کے بعد جج نے آج اپنا فیصلہ سناتے ہوئے محمد پہلوان کو اس کیس میں تمام منسوبہ الزامات سے باعزت بری کردیا۔ اس موقع پر سینئر ایڈوکیٹ محمد مظفر اللہ خان شفاعت نے بتایا کہ ان کے موکل کو اس کیس میں منصوبہ بند طریقہ سے ماخوذ کیا گیا تھا جبکہ ان کے موکل نے کسی بھی چیانل کو دھمکی آمیز یا متنازعہ انٹرویو نہیں دیا ۔ محمد پہلوان کو ہراساں کرنے کی غرض سے اُن پر یہ فرضی مقدمہ درج کیا گیا تھا اور انہوں نے عدالت کی جانب سے اُن کی موکل کی برأت کے احکام کا خیرمقدم کیا ۔ اس کیس میں برأت کے باوجود محمد پہلوان جیل سے رہا نہیں ہوسکیں گے چونکہ اکبر الدین اویسی حملہ کیس کی سماعت روزانہ کی اساس پر جاری ہے اور یہ سماعت آئندہ چار تا چھ ماہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

TOPPOPULARRECENT