Sunday , July 23 2017
Home / Top Stories / محمد پہلوان کی باعزت برات ہضم نہ ہوسکی ، ہائی کورٹ میں اپیل کیلئے جی اوز جاری

محمد پہلوان کی باعزت برات ہضم نہ ہوسکی ، ہائی کورٹ میں اپیل کیلئے جی اوز جاری

اندرون 24 گھنٹے 2 جی او جاری
حملہ کیس میں محمد پہلوان کی برات کے بعد انہیں فی الفوردوبارہ ذہنی اذیت دینے کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالا گیا جس کے نتیجہ میں ریاست کے محکمہ قانونی امور نے ہائیکورٹ کے پبلک پراسیکیوٹر کی رائے کو اندرون 24 گھنٹے منظوری دے دی۔ ریکارڈس کے بموجب پبلک پراسیکیوٹر نے 13 جولائی کو اپنی رائے جس کا نمبر 78 اور 79/2017 ہے دیتے ہوئے اپیل دائر کرنے کی راہ ہموار کردی تھی جس کے نتیجہ میں اندرون 24 گھنٹے 2 جی اوز ہنگامی حالت میں جاری کردیئے گئے۔

چندرائن گٹہ حملہ کیس میں 4 ملزمین کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرانے کی کوشش ، بے بنیاد کیس کے ساتھ قانونی جنگ کیلئے طاقت کا بیجا ا ستعمال

حیدرآباد۔/14جولائی، ( سیاست نیوز) چندرائن گٹہ حملہ کیس میں ساتویں ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سیشن جج حیدرآباد کی جانب سے 29 جون کو 10ملزمین کو باعزت بری کرنے اور دیگر 4 کو 10 سال کی سزا سنائے جانے کے فیصلہ کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع ہونے کے لئے حکومت نے اجازت دے دی۔ اس سلسلہ میں محکمہ قانونی اُمور و انصاف نے دو جی اوز جاری کئے ہیں۔ جی او نمبر 441 کے تحت 10سال کی سزا یافتہ چار ملزمین کی سزا میں اضافہ کرتے ہوئے اسے عمر قید میں تبدیل کرنے کیلئے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی منظوری دی گئی ہے جبکہ جی او نمبر 440 کے ذریعہ سرکاری وکیل کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ محمد بن عمر یافعی المعروف محمد پہلوان کے بشمول 10 ملزمین کی برات کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جائے۔ واضح رہے کہ اس کیس میں ماخوذ کئے جانے کے بعد تمام ملزمین کو چرلہ پلی سنٹرل جیل میں رکھا گیا تھا 6سال تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد جب عدالت سے انہیں بے گناہی کی سند ملی اور رہائی نصیب ہوئی تو اس کیس کے فریق ثانی کو شکست ہضم نہیں ہوئی جس پر اس بے بنیاد کیس کو مزید قانونی داؤ پیچ میں اُلجھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔عدالت کے اس فیصلہ کے بعد مخالف فریقین تشویش کا شکار ہوگئے اور جلسہ عام کے ذریعہ اس فیصلہ کے خلاف اپنی ناکامی کی بھڑاس نکالنا شروع کردیا اور حکومت کو بلیک میل کرنے کے حربوں کا آغاز کردیا۔ جماعت کے اس موقف کے بعد اپنی حلیف جماعت کو خوش کرنے کیلئے حکومت نے دو جی اوز جاری کئے ہیں۔ 29جون کو ساتویں ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سیشن جج نے اس کیس کے چار ملزمین حسن بن عمر یافعی، عبداللہ بن یونس یافعی، عود بن یونس یافعی اور محمد بن سالم وھلان کو تعزیرات ہند کی دفعہ 307 ( اقدام قتل ) کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا یعنی 10سال کی قید بامشقت سزا سنائی لیکن اس سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی اپیل کی جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کیس میں برات حاصل کرنے والے محمد پہلوان اور ان کے دیگر افراد خاندان یونس بن عمر یافعی اور منور اقبال کے فیصلہ کے خلاف بھی اپیل داخل کی جائے گی۔ اس کیس میں تمام گواہ ناکام اور جھوٹے ثابت ہوئے جبکہ جماعت نے اس وقت کی اپنی حلیف جماعت کانگریس پارٹی پر دباؤ ڈالتے ہوئے اس کیس کو غیر معمولی اہمیت کا حامل قراردیتے ہوئے عام سرکاری وکیل کے بجائے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کی حیثیت سے سینئر ایڈوکیٹ مسٹر اوما مہیشورراؤ کا تقرر کروایا تھا۔ لیکن ان کی کوششیں اسوقت ناکام ثابت ہوئیں جب سیشن جج ڈاکٹر ٹی سرینواس راؤ نے محمد پہلوان کے حق میں تاریخی فیصلہ سنایا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT