Friday , March 31 2017
Home / شہر کی خبریں / ! محمد پہلوان کے بیارک سے موبائیل ‘ گرائنڈر و گیس اسٹو برآمد

! محمد پہلوان کے بیارک سے موبائیل ‘ گرائنڈر و گیس اسٹو برآمد

چرلہ پلی جیل حکام کا دعوی ۔ حکومت کی مدد سے ہراسانی کی سازش ۔ ارکان خاندان کا الزام
حیدرآباد ۔ 5؍ مارچ ( سیاست نیوز)  چندرائن گٹہ حملہ میں کیس میں ماخوذ محمد بن عمر یافعی المعروف محمد پہلوان اور ان کے افراد خاندان جو طویل عرصہ سے چرلہ پلی جیل میں محروس ہیں اور وہ مختلف ہراسانیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ آج تازہ واقعہ میں چرلہ پلی جیل حکام نے یہ دعوی کیا ہے کہ محمد پہلوان کے بیارک سے موبائیل فونس مکسر گرانڈر ‘گیس اسٹو برآمد ہوئے ہیں۔ اشیا کی برآمدگی کے بعد سیکوریٹی کے فقدان کی تحقیقات کے بہانے جیل حکام نے محمد پہلوان کو ہراساں کرنے کا نیا راستہ تلاش کیا ہے ۔ جیل بیارکس سے مکسر گرانڈر اور گیس اسٹو کی برآمدگی کی اطلاع کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے محمد پہلوان کے افراد خاندان نے الزام عائد کیا کہ ان کے مخالفین حکومت کی مدد سے ہراساں کر رہے ہیں ۔ جیل میں مکسر گرانڈر اور گیس اسٹو بغیر جیل حکام کے مدد سے پایاجانا انتہائی ناممکن ہے چونکہ چرلہ پلی جیل ہائی سیکوریٹی جیل کہلائی جاتی ہے اور ان کے بیارکس سے مذکورہ اشیاء برآمد کرنا سازش کا حصہ ہے ۔ محمد پہلوان کے رشتہ داروں نے پولیس کی جانب سے انہیں نشانہ بنایا جانے کا الزام عائد کیا ہے چونکہ 27  فبروری کی شب صلالہ بارکس میں ساوتھ زون کارڈن سرچ کے بہانے محمد پہلوان کے مکان میں داخل ہو کر ان کے نوجوان لڑکوں کو حراست میں لے لیا اور انہیں میڈیا کے روبرو جرائم پیشہ افراد کے طور پر پیش کیا ۔ ساوتھ زون پولیس نے بارکس میں دو گروپس (احمد سعدی اور محمد پہلوان) کے درمیان کشیدگی اور رقابت عروج پر پہنچنے کا دعوی کرکے محمد پہلوان کے افراد خاندان کو دھمکایا ہے ۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ ایک طرف حکومت مبینہ دباو کے تحت پولیس محمدپہلوان کے افراد خاندان کو ہراساں کر رہی ہے تو دوسری طرف چندرائن گٹہ حملہ کی سماعت روزانہ اساس پر جاری رکھنے والے جج کا بھی تبادلہ کر دیا گیا ۔ نامپلی کریمنل کورٹ کے 7 ویں ایڈیشنل میٹروپولٹین سیشن جج کے اچانک تبادلہ نے کیس سماعت کو پھر ایک مرتبہ متاثر کر دیا ہے ۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ہم نے کیس کی سماعت اندرون چھ ماہ مکمل کر نے کی ہدایت کے باوجود بھی حکومت نے ججس کے تبادلوں کے بہانے حملہ کیس کی سماعت کرنے والے جج کا بھی تبادلہ کر دیا ہے جس کے نتیجہ میں سماعت کی کارروائی روک دی گئی ہے اور نئے جج کے تقرر کے بعد ہی مزید پیشرفت ممکن ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT