Tuesday , June 27 2017
Home / اداریہ / محمود عباس ۔ ٹرمپ ملاقات

محمود عباس ۔ ٹرمپ ملاقات

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن معاہدہ کی کوششیں امریکہ کے ہر صدر نے کی ہیں۔ سب سے زیادہ مساعی سابق صدر فلسطین یاسر عرفات کے دور میں ہوئی تھیں مگر یہودی طاقت نے اپنی جارحانہ پالیسیوں کے باعث فلسطینیوں کے ساتھ امن کی تمام کوششوں کو بیچ راہ میں ہی چھوڑ دیاتھا ۔ اس مرتبہ صدر کی حیثیت سے ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی یہی بات دہرائی ہیکہ وہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ کرانے کی ہرممکنہ مساعی اور ان سے جو کچھ ہوگا وہ کریں گے۔ صدارتی انتخاب کیلئے مہم چلاتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ کا نظریہ موافق یہودی لابی دیکھا جاچکا ہے۔ اپنی تقریروں میں عرب دنیا کو تنقید کا نشانہ بنانے والے ٹرمپ نے صدر کاعہدہ سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے اپنے بیرونی دورہ کا آغاز عرب دنیا سے کیا ہے تو ضرور کسی خاص مقصد یا اشارہ کی جانب پہل ہے ۔ سعودی عرب کے دورہ کے بعد جب وہ اسرائیل پہونچے تو انھوں نے اسرائیلی قیادت سے جس طرح کی ملاقات کی اس سے واضح ہوا ہیکہ اسرائیلی قیادت نے انھیں اپنے تابع رکھا ہے ۔ جو حکمراں یہودی لابی کے تابع ہوتا ہے اسے وہی بات کہنی ہوتی ہے جس کا کہ اسے کہا گیا ہوتا ہے ۔ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے مفادات کو ملحوظ رکھ کر اگرچیکہ ٹرمپ نے صدر فلسطین محمود عباس سے گرمجوشانہ اور امن پسندانہ ملاقات ضرور کی ہے لیکن اس ملاقات کے پس منظر میں ایران کے مشترکہ خطرات ٹرمپ کا تعاقب کرتے نظر آئے ۔ ٹرمپ نے صدر فلسطین محمود عباس سے ملاقات اور اسرائیل ۔ فلسطین امن مذاکرات کے احیاء کی بات ضرور کی لیکن اسرائیل ۔ فلسطین کے درمیان ایک ٹھوس معاہدہ کو قطعیت دینے میں وہ کامیاب ہوسکیں گے یہ کہنا مشکل ہے ۔ فلسطینیوں نے البتہ ٹرمپ کے جذبہ کا خیرمقدم کیا ہے ۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ فلسطینیوں پر مظالم اور بربریت انگیز کارروائیوں میں اسرائیل نے اپنی ایک بدترین تاریخ چھوڑی ہے اس کے باوجود فلسطینیوں نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کے لئے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی امکانی کوشش سے اُمید پیدا کرلی ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف تمام امن پسند ملکوں کا ایک اتحاد بنانے کی اپیل کرنے والے ٹرمپ نے عرب ممالک اور اسرائیل سے کہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ مل کر ایک عظیم اتحاد قائم کرلیں تاکہ انتہاپسندی اور دہشت گردی کو ختم اور اپنے شہریوں اور عالمی عوام کا دفاع کرسکیں۔ ٹرمپ نے شائد اسرائیل کی بربریت انگیز کارروائیوں کا نوٹ نہیں لیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بات کرنی ہے تو سب سے پہلے اسرائیل کے مظالم کو روکنے میں کامیاب ہونا ضروری ہے۔ اب اسرائیل نے بیت المقدس کو دارالحکومت بنانے کی کوششوں میں تیزی لائی ہے تو یہ فلسطینیوں کے ساتھ ایک نیا جنگی محاذ کھولنے کی سازش ہوسکتی ہے ۔ اسرائیل کو اس کے ناپاک عزائم سے باز رکھنے میں ناکام امریکہ اپنی دفاعی اور سکیورٹی شراکت داری کو پہلے سے زیادہ مضبوط بنانے کوشاں ہے اس کا مطلب واضح ہے کہ امریکہ کی نظر میں اسرائیل کا ہر قدم درست ہے او ر فلسطینیوں کے لئے امریکہ کی ہمدردی صرف آنکھ مچولی ہے ۔ صدر فلسطین محمود عباس سے بیت الحم میں ملاقات کرنے والے ڈونالڈ ٹرمپ نے فلسطینیوں کو ایک محفوظ مستقبل کی دعوت دینے کا اعلان کیا ۔ سوال یہ ہے کہ فلسطینیوں کے محفوظ مستقبل کا مطلب کیا ہے ۔ اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کے سامنے فلسطینی اپنا مستقبل محفوظ بنانے کی کوشش کرسکیں گے ؟ فلسطینی معیشت کو تباہ کرنے کے بعد محفوظ مستقبل فراہم کرنے میں مدد کا وعدہ کرنے والے ڈونالڈ ٹرمپ کو اپنے حلیف ملک اسرائیل کو مخالف فلسطینی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی ترغیب دینے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ یہ بات غور طلب ہے کہ صدر ٹرمپ کے دورہ اسرائیل سے قبل اسرائیلی کابینہ نے ٹرمپ کی درخواست پر ہی فلسطینیوں کی معیشت کو بہتر بنانے اور انھیں سرحدی گذرگاہوں پر سہولیتں مہیا کرنے کے لئے مختلف اقدامات کی منظوری دی تھی ۔ یہ ایک وقتی خیرسگالی کا مظاہرہ ہوسکتا ہے کیوں کہ اسرائیل اپنے مفادات کو ترجیح دیتا ہے ۔ بہرحال صدر فلسطین محمود عباس نے امریکی صدر کے اس دورہ سے جو توقعات وابستہ کی ہیں اگر ان کے خواب کی تعبیر میں ٹرمپ کامیاب ہوتے ہیں تو مشرق وسطیٰ کو امن کا مقام بنانے میں مدد ملے گی ۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا امریکہ اپنے حلیف ملک اسرائیل سے کئے گئے فلسطینیوں کے خصوصی مطالبات کو پورا کرانے کی کوشش کرے گا ۔ فلسطینیوں کے مطالبات کی تمام عرب ممالک نے حمایت کی تھی اور اسرائیل نے اسے یکسر مسترد کردیاتھا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT