Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / محمود علی اور کانگریس قائدین کے سیکوریٹی گارڈس کہاں تھے؟

محمود علی اور کانگریس قائدین کے سیکوریٹی گارڈس کہاں تھے؟

حملے کے شکار قائدین  ا لجھن میں ،حکومت کی نرمی کے اشارہ سے سیکوریٹی عملہ بھی متاثر
حیدرآباد ۔ 3 ۔  فروری  (سیاست نیوز) گریٹر انتخابات کی رائے دہی کے موقع پر  پرانے شہر میں پیش آئے تشدد اور حملوں کے واقعات میں سیاسی حلقوں میں کئی  سوالات پر مباحث کا آغاز کردیا ہے۔ حیدرآباد کی انتخابی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کسی برسر اقتدار پارٹی میں اپنی حلیف جماعت کو کھلی چھوٹ دیدی تھی اور امن و ضبط پر قابو پانے کیلئے ذمہ دار پولیس بھی خود کو بے بس محسوس کر رہی تھی۔ سیاسی مبصرین حتیٰ کہ برسر اقتدار پارٹی کے قائدین اس بات پر حیرت زدہ ہیں کہ کس کے اشارہ پر پولیس نے مجلس کو کھلی چھوٹ دیدی تھی۔ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اور پرانے شہر کے ارکان اسمبلی سینکڑوں کارکنوں کے ساتھ امتناعی احکامات اور انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پرانے شہر میں گھوم رہے تھے اور کسی نے انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی۔ پولیس اور الیکشن کمیشن کے مبصرین بھی صرف تماش بین کا رول ادا کر رہے تھے۔ عام طور پر برسر اقتدار پا رٹی اپنی حلیف جماعت کے ساتھ رائے دہی کے دن کسی قدر نرم رویہ اختیار کرتی ہے لیکن پرانے شہر میں یہ پہلا موقع تھا جب مقامی جماعت نے کئی علاقوں کا کنٹرول عملاً حاصل کرلیا تھا۔ دلچسپ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ مقامی جماعت کے غنڈوں نے ڈپٹی چیف منسٹر کی قیامگاہ پر نہ صرف حملہ کیا بلکہ ان کے فرزند کو نشانہ بنایا لیکن پولیس نے معمولی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے ۔

 

بتایا جاتا ہے کہ حکومت میں شامل افراد کی ہدایت پر مقدمات کے دفعات کو نرم کردیا گیا۔ پولیس کی بے بسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ  صدر پردیش کانگریس اور قائد اپوزیشن پر حملہ کے  ذمہ داروں کو پولیس کی جانب سے دبوچ لئے جانے کے باوجود مجلسی قیادت نے انہیں رہا کروالیا اور آج ملزمین نے خود کو سرینڈر کیا۔ پولیس ایڈمنسٹریشن کے اس نرم رویہ کا اثر قائدین کے شخصی سیکوریٹی گارڈس پر بھی دیکھا گیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر کی قیامگاہ پر 20 تا 25 سیکوریٹی گارڈ تعینات تھے لیکن انہوں نے حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ ڈپٹی چیف منسٹر کی موجودگی میں ان کی قیامگاہ کو نشانہ بنایا گیا اور سیکوریٹی کا عملہ  تماشائی بنارہا۔ اسی طرح صدر پردیش کانگریس  اتم کمار ریڈی ، قائد اپوزیشن محمد علی شبیر اور کانگریس رکن اسمبلی رام موہن ریڈی کے جملہ 7 گن مین موجود تھے لیکن وہ گاڑی پر حملہ کے وقت بچانے کیلئے نہیں آئے۔ محمد علی شبیر کے تین گن مین ہیں جبکہ اتم کمار ریڈی اور رام موہن ریڈی کے ساتھ دو دو گن مین تھے۔ کانگریس قائدین کو حملہ کے وقت محافظین کی عدم مداخلت پر حیرت ہے۔ اس بارے میں جب ان قائدین نے اپنے سیکوریٹی عملہ سے استفسار کیا تو وہ کثیر ہجوم کا بہانہ بنارہے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کی جانب سے حلیف جماعت کے ساتھ نرم رویہ کی ہدایت کا بیجا استعمال کرتے ہوئے پولیس نے بنیادی فرائض سے پہلو تہی کی جس کا اثر ڈپٹی چیف منسٹر اور کانگریس قائدین کے سیکوریٹی عملہ پر دیکھا گیا۔

TOPPOPULARRECENT