Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / محکمہ آبرسانی کے بڑے بقایا جات نادہندگان نشانہ پر

محکمہ آبرسانی کے بڑے بقایا جات نادہندگان نشانہ پر

بقایا جات کی وصولی کے لیے محکمہ کی مہم میں شدت ، ایم ڈی دانا کشور کی ماتحتین کو ہدایت
حیدرآباد۔20جولائی ( سیاست نیوز) محکمہ آبرسانی بقایا جات کی وصولی کی مہم میں شدت پیدا کرے گی لیکن اس مہم کے دوران بڑے بقایاجات نا دہندگان کو نشانہ بنایا جائے گا۔ محکمہ آبرسانی کی جانب سے تجارتی سرگرمیوں میں ملوث بڑے اداروں کو نشانہ بناتے ہوئے ان کے پانی کے بل بقایا جات کو وصولی پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ ذرائع کے بموجب گذشتہ یوم منیجنگ ڈائیریکٹر مسٹر دانا کشور نے ایک اجلاس منعقد کرتے ہوئے عہدیداروں کو ہدایت دی کے وہ چھوٹے نادہندوں کو نشانہ بنانے کے بجائے ایسے اداروں کے وصول طلب بقایا جات پر توجہ مرکوز کریں جن کے بڑے کاروبار ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست میں ایسے کئی نادہندے موجود ہیں جو لاکھوں روپئے بقایا جات کے بعد بھی خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں۔ مسٹر دانا کشور نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ رہائشی اور چھوٹے بل نادہندگان کے بجائے بڑے تجارتی اداروں سے وصولی یقینی بنائیں تاکہ محکمہ آبرسانی کا نشانہ مکمل ہو سکے۔ اجلاس کے دوران منیجنگ ڈائیریکٹر نے ماتحتین کو مشورہ دیا کہ وہ بل وصول کرنے والوں کے لئے نشانہ مقرر کیا جائے تاکہ انہیں وصولی میں دلچسپی کے ساتھ ذمہ داری کا احساس باقی رہے۔ ریاست میں محکمہ آبرسانی کی جانب سے بقایا جات کی وصولی کے ذریعہ خدمات اور آبی سربراہی کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کے مطابق مکمل ادا شدنی رقومات کی 100فیصد وصولی کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے اور اس حکمت عملی کے مطابق بڑے اداروں کے بقیاجات کو ماہانہ اقساط میں تبدیل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ مکمل رقم کی وصولی ممکن ہو سکے۔ اس سلسلہ میں محکمہ آبرسانی کی جانب سے محکمہ مال کے عہدیداروں کی مدد حاصل کی جارہی ہے تاکہ کسی بھی طرح کے دباؤ کے بغیر عہدیدار بقایا جات کی وصولی کو یقینی بنا سکیں۔ بڑے صارفین کی تفصیلات کے بموجب ایسے ادارے جو آبی سربراہی سے نے صرف خود استفادہ کرتے ہیں بلکہ ان کے ایک کنکشن پر سینکڑوں استفادہ کنندگان موجود ہوتے ہیں جس کی مثال کمرشیل و رہائشی کامپلس‘ دواخانے‘ تعلیمی ادارے‘ بوتل بند مشروبات کے فروخت و تیار کنندگان وغیرہ شامل ہیں ۔ جن سے محکمہ آبرسانی کو لاکھوں روپئے وصول طلب ہیں۔ ذرائع کے بموجب پہلے مرحلہ میں ان اداروں کے بعد رہائشی کنکشن کے پانی کے بل بقایا جات کی وصولی کے متعلق پالیسی تیار کئے جانے کا منصوبہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT