Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / محکمہ اقلیتی بہبود میں اختتام دسمبر تک کام کاج ٹھپ

محکمہ اقلیتی بہبود میں اختتام دسمبر تک کام کاج ٹھپ

کئی ملازمین کا حصول رخصت ، عوام مسائل کی یکسوئی کے لیے مضطرب
حیدرآباد۔ 23 ۔ ڈسمبر ( سیاست نیوز) سرکاری اداروں میں جب عوامی مسائل کی یکسوئی میں تاخیر ہو اورکئی سرکاری تعطیلات ایک ساتھ آجائیں تو عوامی مسائل کی یکسوئی کس طرح ممکن ہوپائے گی۔ اقلیتی بہبود کے دفاتر میں آج مسائل کی یکسوئی کیلئے عوام کا کافی ہجوم دیکھا گیا لیکن ان دفاتر میں کئی ملازمین نے پہلے ہی چھٹیاں حاصل کرلی ہیں جس کے باعث اب ڈسمبر کے اختتام تک مسائل کی یکسوئی ممکن نظر نہیں آتی۔ کل 24 ڈسمبر سے 27 ڈسمبر تک دفاتر کو 4 دن مسلسل تعطیلات ہیں۔ کئی ملازمین نے جاریہ ماہ کے اختتام تک چھٹی لگادی ہے جبکہ بعض ملازمین سرکاری تعطیلات کے آغاز سے قبل ہی چھٹی پر جاچکے ہیں۔ اس طرح اقلیتی بہبود کے دفاتر میں عملہ کی کمی مسائل میں مزید اضافہ کا سبب بن رہی ہے ۔ شادی مبارک ، اسکالرشپ ، فیس بازادائیگی اور اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے درخواست گزاروں کی کثیر تعداد کو ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس حیدرآباد میں دیکھا گیا لیکن وہاں مسائل کی سماعت کیلئے کوئی ذمہ دار موجود نہیں تھا ۔ عوام نے شکایت کی کہ جو بھی عملہ موجود ہے، وہ مسائل کے سلسلہ میں پیر کو رجوع کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ لہذا آئندہ چار دن تک سرکاری ملازمین اور عہدیداروں کو بھی عوام سے راحت مل چکی ہے۔ عوام نے شکایت کی کہ حیدرآباد و رنگا ریڈی کے دفاتر میں وہ اپنے مسائل کے سلسلہ میں گزشتہ ایک ماہ سے مسلسل رجوع ہورہے ہیں اور انہیں ہر ایک ہفتہ بعد آنے کا مشورہ دیتے ہوئے ٹال دیا جارہا ہے ۔ اسکالرشپ اور فیس بازادائیگی کی عدم اجرائی کے سبب طلبہ پریشان ہیں جبکہ کئی غریب خاندان شادی مبارک اسکیم کی رقمی امداد کیلئے ان دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ افسوس اس بات پر ہے کہ روزانہ سینکڑوں افراد کے مسائل کی سماعت کے لئے کوئی ذمہ دار موجود نہیں ہے۔ حکومت نے حیدرآباد میں ابھی تک مستقل عہدیدار کا تقرر نہیں کیا ہے جس کے باعث ضلعی دفتر کا کوئی پر سان حال نہیں۔ طلبہ نے شکایت کی کہ دفتر میں موجود عملہ اسکالرشپ اور فیس بازادائیگی کی اجرائی کے بارے میں تازہ ترین موقف بتانے سے گریز کر رہا ہے ۔ ان حالات میں درمیانی افراد اور بروکرس کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگیا ۔ وہ جلد منظوری کا جھانسہ دیکر عوام سے رقم وصول کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ درمیانی افراد کی ملازمین سے ملی بھگت ہے جس کے باعث ان پر کوئی نگرانی نہیں ہے۔ مختلف اسکیمات کیلئے جلد رقم جاری کرنے کے نام پر رقومات کی کھلے عام وصولی کی شکایت ملی ہیں۔ ایک طرف اس دفتر میں عملہ کی کمی ہے تو دوسری طرف گزشتہ کئی ماہ سے مستقل عہدیدار نہیں ہے۔ حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کو اس جانب فوری توجہ کی ضرورت ہے تاکہ دارالحکومت حیدرآباد میں اقلیتی بہبود کے دفتر کو عوامی مسائل کی یکسوئی کے مرکز میں تبدیل کیا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT