Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / محکمہ اقلیتی بہبود میں اردو کے ساتھ کھلواڑ ، اسٹیڈی سنٹر برائے اقلیت کے اعلامیہ میں اردو کا مذاق

محکمہ اقلیتی بہبود میں اردو کے ساتھ کھلواڑ ، اسٹیڈی سنٹر برائے اقلیت کے اعلامیہ میں اردو کا مذاق

اردو عہدیدار اعلیٰ عہدوں پر فائز ، ڈائرکٹر کی دستخط ، اقلیتوں کی مسابقتی کوچنگ پر بھی شکوک و شبہات
حیدرآباد۔/10ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ریاست جہاں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے وہاں اگر محکمہ اقلیتی بہبود میں اردو کے ساتھ کھلواڑ کرے تو دیگر محکمہ جات سے کیا شکایت کی جاسکتی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے تمام محکمہ جات میں اردو کے استعمال کا وعدہ کیا ہے لیکن محکمہ اقلیتی بہبود کے اسٹڈی سنٹر برائے اقلیت نے اپنے ایک اعلامیہ میں اردو زبان کو مذاق کا موضوع بنادیا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں اردو داں عہدیدار اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں لیکن ڈائرکٹر میناریٹیز اسٹڈی سرکل نے اردو اخبارات کیلئے جو اعلامیہ اردو زبان میں جاری کیا وہ نہ صرف ناقابل فہم ہے بلکہ ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے محکمہ اقلیتی بہبود نے کسی نئی زبان کی اختراع کی ہو۔ اسٹڈی سرکل کی جانب سے پولیس سرویسس کی مختلف جائیدادوں میں تقررات کے سلسلہ میں کوچنگ کا اعلامیہ ڈائرکٹر کی دستخط سے جاری کیا گیا۔ یہ اعلامیہ کس نے تیار کیا اور اجرائی کیلئے کس نے منظوری دی اس پر راز کے پردے پڑے ہیں اور کوئی بھی عہدیدار اس کی ذمہ داری قبول کرنے تیار نہیں۔ اردو اعلامیہ کا ایک حرف بھی ایسا نہیں جسے پڑھنے کے قابل سمجھا جائے اور اگر اسی زبان میں پڑھنے کی کوشش کی جائے بھی تو کسی نئی زبان کی آواز نکلے گی۔ اس مختصر سے پریس نوٹ کے ہر لفظ میں غلطی ہے تاہم اس کی ایک مثال اسٹڈی سرکل برائے اقلیت کو ’’ سرکل ی سٹڈ اقلیتوں‘‘۔ لکھا گیا۔ اسی طرح ڈائرکٹر اسٹڈی سرکل کو ’’ انسپکٹر ی سرکل سٹڈ یتی اقل ‘‘ لکھا گیا ہے۔ الغرض یہ پریس نوٹ اردو زبان کے ساتھ محکمہ اقلیتی بہبود کے کھلواڑ کی منہ بولتی تصویر ہے اور 10ڈسمبر کو جاری کئے گئے اس پریس نوٹ میں محکمہ اقلیتی بہبود نے اردو زبان کی زبوں حالی کا بین ثبوت دیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود میں اس قدر قابل افراد موجود ہیں جو اسی زبان کو اردو تصور کررہے ہیں۔ پریس نوٹ میں سوائے ویب سائٹ اور فون نمبر کے ایک بھی حرف صحیح نہیں ، شاید انگریزی تحریر کو گوگل  اردو کنورٹر سے تبدیل کرتے ہوئے اردو پریس نوٹ تیار کیا گیا ۔ سکریٹری اقلیتی بہبود اور ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کو فوری اس جانب توجہ دینی چاہیئے اور اقلیتوں سے متعلق اسٹڈی سنٹر میں اردو داں افراد کے تقرر کو یقینی بنانا ہوگا۔ اس کے علاوہ پریس نوٹ کی تیاری کے ذمہ دار اور اسے اپنی دستخط کے ساتھ منظوری دے کر اردو اخبارات کو روانہ کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیئے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار یہ کہتے ہوئے اپنا دامن نہیں بچا سکتے کہ اسٹڈی سرکل کے ڈائرکٹر غیر اردو داں ہیں کیونکہ اسٹڈی سرکل کی اس بھیانک غلطی کی ذمہ داری سے محکمہ کے اعلیٰ عہدیدار دامن نہیں بچاسکتے۔جس ادارہ میں اردو کا یہ حال کیا جائے تو اس ادارہ میں اقلیتی طلبہ کی کوچنگ کس انداز کی ہوگی اس کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ثبوت کے طور پر اردو پریس نوٹ کا عکس قارئین کے مشاہدہ کیلئے شائع کیا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT