Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / محکمہ اقلیتی بہبود میں اسٹاف کے تقررات کیلئے منظوری

محکمہ اقلیتی بہبود میں اسٹاف کے تقررات کیلئے منظوری

حیدرآباد کے لیے 15 اور اضلاع کے لیے 30 جائیدادوں پر تقررات ہوں گے
حیدرآباد۔یکم مارچ، ( سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود میں اسٹاف کی کمی کے باعث اسکیمات پر سُست رفتار عمل آوری کو دیکھتے ہوئے حکومت نے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے ہیڈ کوارٹر اور ضلعی دفاتر کیلئے اسٹاف کی منظوری دی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے قیام کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے جب کسی حکومت نے محکمہ میں باقاعدہ اسٹاف کی منظوری دی ہے۔ سکریٹری فینانس نے اسٹاف کی منظوری سے متعلق احکامات جاری کئے۔ مجموعی طور پر 45 جائیدادوں پر تقررات کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ 35 جائیدادوں پر آؤٹ سورسنگ کی بنیاد پر تقررات عمل میں آئیں گے۔ اس طرح محکمہ اقلیتی بہبود کے ہیڈ آفس اور ضلعی دفاتر کو مستحکم کیا جاسکے گا۔ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے زائد اسٹاف کی منظوری کے سلسلہ میں بارہا حکومت سے نمائندگی کی تھی تاہم گزشتہ دنوں چیف منسٹر کے پاس منعقدہ اجلاس میں زائد اسٹاف کو منظوری دی گئی۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے دفتر واقع حیدرآباد کیلئے 15 جائیدادوں کو منظوری دی گئی جبکہ اضلاع کیلئے 30جائیدادیں منظور کی گئیں۔ حیدرآباد ہیڈکوارٹر میں جن نئی جائیدادوں کو منظوری دی گئی ان میں جوائنٹ ڈائرکٹر، ڈپٹی ڈائرکٹر، اسسٹنٹ ڈائرکٹر 3 ، اسسٹنٹ ڈائرکٹر SLR ، سرویئر، سپرنٹنڈنٹ 2، اکاؤنٹ آفیسر، سینئر اکاؤنٹنٹ، جونیر اکاؤنٹنٹ اور سینئر اسسٹنٹ کی 3 جائیدادیں شامل ہیں۔ حکومت نے جائیدادوں کے ساتھ ساتھ ان کے پے اسکیل کو بھی مقرر کیا ہے۔ مذکورہ تمام تقررات عہدیداروں کی ترقی یا پھر فینانس و ریونیو ڈپارٹمنٹ سے ڈیپوٹیشن کے حصول کے ذریعہ کئے جائیں گے۔ ہیڈ کوارٹر کیلئے 5 رکنی آؤٹ سورسنگ ٹیم کی منظوری دی گئی جن میں جونیر اسسٹنٹ؍ ڈاٹا انٹری آپریٹر 2 ، آفس سب آرڈینیٹ 2 اور ایک ڈرائیور شامل ہیں۔ اضلاع میں اقلیتی بہبود کے دفاتر کیلئے اسسٹنٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر 10، اکاؤنٹنٹ 10 اور سینئر اسسٹنٹ 10 تقرر کئے جائیں گے جنہیں راست تقرر، ترقی یا ڈیپوٹیشن کے ذریعہ مقرر کیا جائے گا۔ اضلاعی دفاتر کیلئے 30 آؤٹ سورسنگ اسٹاف کو منظوری دی گئی جن میں جونیر اسسٹنٹ 10، آفس سب آرڈینیٹ 10اور ڈرائیور 10شامل ہیں۔ تقررات سے قبل محکمہ فینانس کی منظوری ضروری ہے۔ واضح رہے کہ اقلیتی بہبود کے ہیڈکوارٹر اور ضلعی دفاتر میں اسٹاف کی کمی کے باعث اسکیمات پر عمل آوری میں رکاوٹ پیدا ہورہی تھی۔ توقع کی جارہی ہے کہ نئے تقررات کے بعد اقلیتی بہبود کی کارکردگی بہتر ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT