Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / محکمہ اقلیتی بہبود میں ایماندار و دیانت دار عہدیدار کی ناقدری

محکمہ اقلیتی بہبود میں ایماندار و دیانت دار عہدیدار کی ناقدری

کارپوریشن میں متنازعہ موظف عہدیدار کے دوبارہ تقرر کو چیف منسٹر نے مسترد کردیا
40 لیٹر ڈیزل پر تبادلہ ، لاکھوں کے نقصان کی پرواہ نہیں

حیدرآباد۔ 13۔ اپریل ( سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود میں ایماندار اور دیانتدار عہدیداروں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے، اس کا واضح ثبوت اس وقت دیکھنے کو ملا جب اعلیٰ عہدیداروں اور مقامی سیاسی جماعت نے ایک متنازعہ شخص کے دوبارہ عبوری تقررکیلئے چیف منسٹر سے سفارش کی۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اقلیتی فینانس کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائرکٹرس کی جانب سے پیش کی گئی سفارش کو مسترد کردیا، جس کے تحت کارپوریشن کے ریٹائرڈ جنرل مینجر کو دوبارہ اسی عہدہ پر برقرار رکھنے کی قرارداد منظور کی گئی تھی۔ چیف منسٹر نے اگرچہ ایک متنازعہ شخص کی دوبارہ بازماموری کی سفارش کو نامنظور کردیا ۔ تاہم مقامی سیاسی جماعت اور بعض اعلیٰ عہدیداروں کے دباؤ پر اس شخص کو اقلیتی اقامتی اسکولس کی سوسائٹی میں او ایس ڈی مقرر کیا گیا۔سکریٹری اقلیتی بہبود نے چیف منسٹر کی جانب سے مسترد کردہ فائل کو اس وقت تک راز میں رکھا جب تک ان کے پسندیدہ شخص کو اسکولوں کی سوسائٹی میں تقرر کے احکامات جاری نہیں کئے گئے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ایک آئی ایف ایس عہدیدار جلال الدین اکبرکو صرف 40 لیٹر ڈیزل زائد استعمال کرنے پر ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے عہدہ سے تبادلہ کردیا گیا جبکہ تاریخ پیدائش میں تحریف کے ذریعہ 5 سال تک زائد برقرار رہتے ہوئے تقریباً 85 لاکھ روپئے غیر قانونی طور پر حاصل کرنے والے شخص کے ساتھ حکومت اور اعلیٰ عہدیداروں کا نرم رویہ باعث حیرت ہے۔ مقامی سیاسی جماعت جس نے جلال الدین اکبر کے خلاف چیف منسٹر کو مکتوب روانہ کیا تھا، اسی جماعت نے اس متنازعہ شخص کے دوبارہ تقرر کیلئے چیف منسٹر پر دباؤ بنایا۔ بتایا جاتا ہے کہ سکریٹری اقلیتی بہبود نے ضابطہ کی تکمیل کے لیے اقلیتی فینانس کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائرکٹرس کی قرارداد سے متعلق فائل میں مذکورہ شخص کے خلاف شکایات اور تاریخ پیدائش میں تبدیلی سے متعلق ہائیکورٹ میں جاری مقدمہ کی تفصیلات پیش کی۔ دوہرے معیار کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک طرف عمر جلیل نے اقلیتی فینانس کارپوریشن کے بورڈ آف گورنرس میں مذکورہ شخص کے حق میں قرارداد کی تائید کی

لیکن سکریٹری کی حیثیت سے انہوں نے بازماموری کی مخالفت کی تاکہ عوام میں اپنا چہرہ بے داغ ظاہر کیا جائے ۔ بورڈ آف ڈائرکٹرس کے اجلاس میں جلال الدین اکبر نے مذکورہ شخص کے خلاف اپنی رائے دی تھی جس کا خمیازہ انہیں تبادلہ کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں سے غیر معمولی قربت اور ان کی ضروریات کی تکمیل کرنے والے شخص کے ساتھ ہمدردی پر اقلیتی بہبود کے ملازمین نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔ ملازمین کی جانب سے جو باتیں کہی جارہی ہیں، وہ قابل تحریر نہیں ہیں، اس کے باوجود اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے متنازعہ شخص کو اسکولوں کی سوسائٹی میں برقرار رکھنا کئی سوال کھڑے کرتا ہے۔ مختلف گوشوں سے چیف منسٹر کو کی گئی نمائندگیوں پر انہوں نے متنازعہ شخص کو فینانس کارپوریشن میں دوبارہ رکھنے کی مخالفت کی۔ تاہم حلیف جماعت کے اصرار پر اسکولوں کی سوسائٹی میں جگہ دی گئی۔ بتایا جاتاہے کہ یہ شخص تعلیمی اعتبار سے انگریزی میں ڈرافٹنگ کی صلاحیت سے نابلد ہے۔ عہدیداروں کی سرپرستی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جنرل مینجر کے عہدہ سے وظیفہ پر سبکدوشی کے باوجود ابھی بھی اسی عہدہ کی نیم پلیٹ اور دیگر سہولتوں کے ساتھ برقرار رکھا گیا۔ اقلیتی بہبود کے ملازمین کا کہنا ہے کہ بعض اعلیٰ عہدیدار اس شخص کے بغیر نہیں رہ سکتے کیونکہ وہ ان کی نہ صرف دفتری بلکہ گھریلو اور نجی ضرورتوں کی بھی تکمیل کرتا ہے۔ کارپوریشن کے ملازمین نے چیف منسٹر کی جانب سے کارپوریشن میں بازماموری کی تجویز کو مسترد کرنے پر راحت کی سانس لی ہے۔ تاہم اسکول سوسائٹی میں جگہ دینے سے مختلف اندیشوں کا اظہار کیا جارہا ہے۔ حکومت نے انگلش میڈیم کے 71 اقامتی اسکولس کے قیام کا فیصلہ کیا جہاں تعلیم یافتہ اور ماہرین تعلیم کی ضرورت ہے، وہاں ایک متنازعہ شخص کو متعین کرنے سے مذکورہ اسکیم کی کامیابی پر اثر پڑسکتا ہے۔ سوسائٹی سے وابستہ کئی افراد نے صاف طور پر کہہ دیا کہ اگر یہ شخص سوسائٹی میں برقرار رہے گا تو وہ یہاں خدمات انجام دینے سے قاصر رہیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے مقامی جماعت کے دباؤ پر متنازعہ شخص کو کسی غیر اقلیتی ادارے میں غیر اہم عہدہ پر تقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن قابلیت کی کمی اور اعلیٰ عہدیداروں سے قربت کے نتیجہ میں اسکولوں کی سوسائٹی میں عبوری طور پر تقرر کیا گیا۔ محکمہ کے عہدیدار اور ملازمین اس بات پر حیرت میں ہیں کہ حکومت کے پاس دیانتدار اور ایماندار عہدیداروں کی کوئی اہمیت نہیں ۔ برخلاف اس کے مختلف الزامات کا سامنا کرنے والے افراد کو اہمیت دی جارہی ہے۔ اسکولوں کی سوسائٹی کے نائب صدر نشین کی حیثیت سے ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو اے کے خاں کو مقرر کیا گیا اور وہ اسکیم کی کامیابی کیلئے دن رات محنت کر رہے ہیں۔ ایسے میں اور قابلیت سے محروم افراد کے تقرر سے کئی مسائل پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ ملازمین کو آپس میں یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ آخر ایسی کیا مخفی صلاحیتیں ہیں جس کی بناء پر اعلیٰ عہدیدار متنازعہ شخص کو اپنے سر کا تاج بنائے گھوم رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT