Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / محکمہ اقلیتی بہبود میں بہبودی اسکیمات پر عمل آوری سست روی کا شکار

محکمہ اقلیتی بہبود میں بہبودی اسکیمات پر عمل آوری سست روی کا شکار

عملہ کی کمی اور ڈائرکٹر کا عہدہ خالی ، نئے عہدیداروں کے تقرر میں تاخیر سے مسائل میں اضافہ
حیدرآباد۔/10مئی، ( سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود میں اہم عہدوں کے مخلوعہ ہونے اور عہدیداروں کی کمی کے سبب بہبودی اسکیمات پر عمل آوری کی رفتار سُست ہوچکی ہے جس سے عوام کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ محکمہ میں گذشتہ 3 ماہ سے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کا اہم عہدہ خالی ہے اور حکومت نے کسی نئے عہدیدار کا ابھی تک تقرر نہیں کیا جس کے سبب بعض اہم اسکیمات پر عمل آوری میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کی حیثیت سے جلال الدین اکبر کے تبادلہ کیلئے جس انداز سے منصوبہ بند مہم چلائی گئی اس سے بعض عہدیداروں کے نفس کی تسکین ہوئی لیکن اس سے عوام کو جو نقصان ہورہا ہے اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کا عہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ نہ صرف اس کے تحت بعض اہم اسکیمات ہیں بلکہ دیگر تمام اقلیتی اداروں کو بجٹ کی اجرائی ڈائرکٹر کے ذمہ ہوتی ہے۔ ڈائرکٹر ہر اقلیتی ادارے اور اسکیم کیلئے درکار بجٹ کے سلسلہ میں حکومت سے نمائندگی کرتے ہیں۔ اس طرح تمام اقلیتی اداروں کیلئے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود نگرانکار کے طور پر ہوتے ہیں اور وہ سکریٹری اقلیتی بہبود کو جوابدہ ہیں۔ جلال الدین اکبر نے ’ شادی مبارک‘ اوورسیز اسکالر شپ اور دیگر اسکیمات پر کامیاب عمل آوری میں جس طرح اہم رول ادا کیا اس کا اعتراف عوام اور ماتحت عہدیداروں کو ہے لیکن اقلیتی بہبود میں داخلی سیاست اور عہدیداروں میں رسہ کشی کے باعث ایک دیانتدار عہدیدار کا تبادلہ کردیا گیا۔ جلال الدین اکبر کے تبادلہ سے  محکمہ کو جو نقصان ہوا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ شادی مبارک اسکیم کی ہزاروں درخواستیں گزشتہ تین ماہ سے زیر التواء ہیں۔ اس کے علاوہ اوورسیز اسکالر شپ اسکیم میں تاخیر ہورہی ہے۔ کئی اقلیتی ادارے پہلے سہ ماہی کے بجٹ سے محروم ہیں اور کمپیوٹر سنٹرس و لائبریریز کے ملازمین کو تین ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں۔ ایم جے اکبر کا قصور صرف یہی تھا کہ انہوں نے اسکیمات میں شفافیت کیلئے اُصولوں سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور اعلیٰ عہدیداروں کے دباؤ کو قبول نہیں کیا جس سے ناراض ہوکر انہیں سیاسی جماعت کا سہارا لے کر حکومت کو تبادلہ کیلئے مجبور کردیا گیا۔ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کا ماننا ہے کہ اس محکمہ میں دیانتدار افراد کیلئے کوئی جگہ نہیں اور اعلیٰ عہدیدار ایسے افراد کی سرپرستی کررہے ہیں جو نہ صرف لاکھوں روپئے کے غبن میں ملوث ہیں بلکہ ہر اقلیتی ادارہ کے اُمور میں مداخلت کرتے ہوئے اپنے اور اپنے آقاؤں کے مفادات کی تکمیل کررہے ہیں۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے عہدہ کی زائد ذمہ داری سکریٹری اقلیتی بہبود کو دی گئی اور دونوں عہدوں کے علاوہ ویجلینس آفیسر کی وہ زائد ذمہ داری نبھارہے ہیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود کو عہدیدار مجاز وقف بورڈ کی ذمہ داری دی گئی اس طرح ان کے پاس 4 اہم عہدے ہوچکے تھے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اپنے فیصلہ کا خود جائزہ لینا کسی بھی عہدیدار کیلئے ممکن نہیں ہے لیکن اقلیتی بہبود میں عہدیدار مجاز کی حیثیت سے اپنے فیصلہ کا سکریٹری خود جائزہ لے رہے تھے۔ ایک عہدیدار کو 4 اہم ذمہ داریاں اقلیتی بہبود سے حکومت کی عدم دلچسپی کا کھلا ثبوت ہے۔ 6 ماہ کی مدت کی تکمیل کے بعد سکریٹری اقلیتی بہبود نے گذشتہ ماہ وقف بورڈ کی فائیلوں کی یکسوئی کام بند کردیا اور حکومت کو سفارش کی کہ نئے عہدیدار مجاز کا تقرر کیا جائے۔ اسی طرح موجودہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ کی ایک سالہ میعاد ختم ہوچکی ہے اور وہ بھی نئے احکامات کے انتظار میں ضابطہ کی تکمیل کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ کچھ یہی حال اقلیتی فینانس کارپوریشن کا ہے جہاں بینک سے مربوط قرض اسکیم، ٹریننگ ایمپلائمنٹ، آٹو رکشا جیسی اہم اسکیمات ہیں لیکن وہاں کے منیجنگ ڈائرکٹر کو اقلیتی اقامتی اسکولس کی سوسائٹی کا سکریٹری مقرر کیا گیا اور وہ سارا وقت سوسائٹی کی سرگرمیوں پر صرف کررہے ہیں اور کارپوریشن کی اسکیمات عملاً ٹھپ ہوچکی ہیں۔ حکومت ایک طرف اقلیتی بجٹ کے مکمل خرچ کرنے میں سنجیدگی کا دعویٰ کرتی ہے لیکن اہم عہدوں کے مخلوعہ ہونے اور عہدیداروں کی کمی کے نتیجہ میں یہ دعوے محض کھوکھلے دکھائی دے رہے ہیں۔ اقلیتی اُمور کے ماہرین کا خیال ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود میں تمام اہم عہدوں پر کام کا جذبہ رکھنے والے اور غیر سیاسی افراد کا تقرر کیا جانا چاہیئے تبھی تمام اسکیمات پر مؤثر انداز میں عمل آوری ممکن ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT