Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / محکمہ اقلیتی بہبود میں رشوت ستانی اور اسکیمات میں بے قاعدگیوں کے خلاف احتجاج کا اعلان

محکمہ اقلیتی بہبود میں رشوت ستانی اور اسکیمات میں بے قاعدگیوں کے خلاف احتجاج کا اعلان

عہدیداروں کی من مانی ، سرکاری فنڈس کی لوٹ مار ، جناب سید عزیز پاشاہ سی پی آئی قائد کا شدید ردعمل
حیدرآباد۔/5فبروری، ( سیاست نیوز) سی پی آئی کے سابق رکن راجیہ سبھا سید عزیز پاشاہ نے اقلیتی بہبود میں جاری کرپشن اور سرکاری اسکیمات میں بے قاعدگیوں کے خلاف حج ہاؤز پر دھرنا منظم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عزیز پاشاہ نے کہا کہ محکمہ اقلیتی بہبود کے تمام ادارے عوام کو سرکاری اسکیمات سے فائدہ پہنچانے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں اور چند عہدیدار اپنی من مانی کے ذریعہ سرکاری فنڈز کو عملاً لوٹ رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کی عدم نگرانی کے سبب وقف بورڈ میں قیمتی اوقافی جائیدادوں کی تباہی کا سلسلہ جاری ہے۔ ناجائز قابضین اور غیر مجاز طور پر فروخت کرنے والے متولیوں کے حق میں فیصلے کئے جارہے ہیں۔ اہم اوقافی جائیدادوں سے متعلق فائیلوں کو فروخت کئے جانے کی اطلاعات ملی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق اسپیشل آفیسرس شیخ محمد اقبال اور جلال الدین اکبر نے غیر مجاز قابضین اور متولیوں کے خلاف جن کارروائیوں کا آغاز کیا تھا انہیں موجودہ سکریٹری اقلیتی بہبود نے واپس لینا شروع کردیا ہے۔ سیاسی دباؤ اور لینڈ گرابرس کی ملی بھگت کے سبب مقدمات سے دستبرداری اختیار کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی متولیوں کے خلاف شروع کی گئی تحقیقات کو موجودہ سکریٹری نے روک دیا کیونکہ وہ مقامی سیاسی جماعت اور مخصوص متولیوں سے قربت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کی تباہی کیلئے اقلیتی بہبود کے موجودہ عہدیدار ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے وقف بورڈ اور دیگر اقلیتی اداروں میں جاری بے قاعدگیوں اور دھاندلیوں کے خلاف سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ عزیز پاشاہ نے کہا کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن اسکیمات پر عمل آوری میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے۔ عہدیداروں کو اسکیمات پر عمل آوری سے زیادہ کمیشن کے حصول میں دلچسپی ہے اور اپنی پسند کے ریٹائرڈ عہدیداروں کو دوبارہ بازمامور کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہا ہے۔ عزیز پاشاہ نے کہا کہ گزشتہ طویل عرصہ سے کرپشن میں مبتلاء عہدیدار نہیں چاہتے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے باوجود کارپوریشن سے رخصت ہوں لہذا اعلیٰ عہدیداروں کی سرپرستی سے وہ دوبارہ بازمامور ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ عزیز پاشاہ نے کہا کہ اقلیتی اداروں میں اعلیٰ عہدیداروں کی من مانی کی مثال سابق میں اس طرح کبھی دیکھی نہیں گئی۔ محکمہ پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے جس کے نتیجہ میں عہدیدار من مانی کررہے ہیں۔ حکومت نے اقلیتی بہبود کیلئے 1130کروڑ روپئے مختص کئے ہیں لیکن اب تک جو بجٹ جاری کیا گیا اس میں بڑے پیمانے پر تغلب اور تصرف کی اطلاعات ملی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT