Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / محکمہ اقلیتی بہبود میں سکریٹری پر اعلیٰ پولیس عہدیدار انچارج مقرر

محکمہ اقلیتی بہبود میں سکریٹری پر اعلیٰ پولیس عہدیدار انچارج مقرر

محکمہ کی کارکردگی پر چیف منسٹر عدم مطمئن ، دھاندلیوں پر عہدیداروں کے ثبوت اکٹھا
حیدرآباد۔/8اپریل، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں لہذا ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو عبدالقیوم خاں کو محکمہ پر انچارج کی حیثیت سے مقرر کیا ہے۔ اے کے خاں کے تقرر کے سلسلہ میں اگرچہ باقاعدہ احکامات جاری نہیں کئے گئے لیکن محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ اسکیمات پر عمل آوری اور دیگر اُمور کے سلسلہ میں اے کے خاں سے مشاورت کریں اور ان کی جانب سے طلب کئے جانے والے اجلاسوں میں شریک ہوں۔ عام طور پر کسی بھی محکمہ کیلئے پرنسپال سکریٹری یا سکریٹری ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ ہوتے ہیں اور وہ چیف سکریٹری کو جوابدہ ہوتے ہیں لیکن محکمہ اقلیتی بہبود میں پہلی مرتبہ سکریٹری پر اعلیٰ پولیس عہدیدار کو انچارج مقرر کیا گیا تاکہ بجٹ کے مکمل استعمال کو یقینی بنایا جاسکے۔ گزشتہ دو برسوں میں محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی مجموعی طور پر مایوس کن رہی ہے اور گزشتہ سال محکمہ حکومت کی جانب سے الاٹ کردہ بجٹ کا 50فیصد بھی خرچ نہیں کرسکا۔ بتایا جاتا ہے کہ مختلف اہم اسکیمات پر عمل آوری میں سُست رفتاری سے حکومت ناخوش ہے۔ شادی مبارک اور دیگر اسکیمات میں کرپشن اور بے قاعدگیوں کو روکنے میں بھی محکمہ کے اعلیٰ عہدیدار ناکام رہے۔ چیف منسٹر نے محکمہ کے انچارج کی حیثیت سے نہ صرف اے کے خاں کو ذمہ داری دی بلکہ شادی مبارک اور دیگر اسکیمات میں ہوئی دھاندلیوں کی جانچ کی ہدایت دی ہے۔ اینٹی کرپشن بیورو نے تلنگانہ کے 10اضلاع میں شادی مبارک اسکیم کے استفادہ کنندگان کی جانچ کرتے ہوئے کئی دھاندلیوں کا پتہ چلایا۔ ابھی تک ریاست بھر میں اے سی بی کی جانب سے تقریباً 10مقدمات درج کئے گئے اور گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض گرفتار شدگان کے غیر محسوب اثاثہ جات کی جانچ کی جارہی ہے۔ اے سی بی کے ذرائع نے بتایا کہ شادی مبارک اسکیم کی دھاندلیوں کے سلسلہ میں محکمہ کے بعض ملازمین کی ملوث ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور ان کے خلاف ثبوت اکٹھا کئے جارہے ہیں۔ اسکیمات میں دھاندلیوں میں بھاری اضافہ کیلئے اخلاقی طور پر عہدیدار بھی ذمہ دار قرار پاتے ہیں کیونکہ انہوں نے ماتحت عملہ کو کھلی چھوٹ دے رکھی تھی۔ اینٹی کرپشن بیورو نے اقلیتی فینانس کارپوریشن کی بینکیبل اسکیم اور مرکزی حکومت کی اسکالر شپ اسکیم پر بھی توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ قرض اسکیم کے سلسلہ میں کارپوریشن کے بعض ملازمین کی ملی بھگت سے بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کا ارتکاب کیا گیا اور 2014-15 کی درخواستوں کی ابھی تک یکسوئی نہیں کی گئی اب جبکہ نئی اسکیم کیلئے ایک لاکھ 60ہزار درخواستیں داخل کی گئی ہیں لہذا ملازمین کو دھاندلیوں کا ایک اور موقع حاصل ہوچکا ہے۔ اینٹی کرپشن بیورو کے حرکت میں آتے ہی عوام کی جانب سے شکایات کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مختلف اقلیتی اداروں میں جاری بے قاعدگیوں کے سلسلہ میں بھی شکایات ملی ہیں۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن نے ایک ریٹائرڈ عہدیدار کی خدمات کو غیر قانونی طور پر جاری رکھنے کا معاملہ بھی حکومت اور اے سی بی سے رجوع کیا ہے۔ این جی اوز نے اس بات کی شکایت کی کہ اعلیٰ عہدیداروں سے قربت کے نتیجہ میں مذکورہ شخص کو وظیفہ کے باوجود دوبارہ برقرار رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے حالانکہ ان کے تاریخ پیدائش میں تحریف کے ذریعہ وہ پہلے ہی 5 سال زائد عہدہ پر برقرار رہے اور لاکھوں روپئے کی رقم بطور تنخواہ حاصل کی۔ سی بی سی آئی ڈی نے اس معاملہ کی جانچ کرتے ہوئے تاریخ پیدائش میں تحریف کی تصدیق کی اور یہ معاملہ ہائی کورٹ میں زیر دوران ہے اس کے باوجود اعلیٰ عہدیدار اپنی من مانی کے ذریعہ پسندیدہ شخص کو دوبارہ بازمامور کرنے کیلئے سرگرداں ہیں۔ اس طرح محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے مبینہ طور پر بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کے بجائے ان کی سرپرستی کی شکایات موصول ہوئیں۔

TOPPOPULARRECENT