Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / محکمہ اقلیتی بہبود میں سیاسی مداخلت سے عہدیداروں کو مشکلات

محکمہ اقلیتی بہبود میں سیاسی مداخلت سے عہدیداروں کو مشکلات

حیدرآباد۔/15ستمبر، ( سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود میں بڑھتی سیاسی مداخلت نے عہدیداروں کو آزادانہ اور منصفانہ طور پر خدمات انجام دینے میں رکاوٹ پیدا کردی ہے۔ اقلیتی اداروں اور خاص طور پر وقف بورڈ کے اُمور میں حکومت کی حلیف مقامی جماعت کی بڑھتی مداخلت اور عہدیداروں پر ان کی پسند کے اُمور کی تکمیل کیلئے بڑھتے دباؤ کے نتیجہ میں عہدیدار اُلجھن کا شکار ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ وقف مافیا اور مقامی جماعت کے دباؤ سے پریشان عہدیداروں کے بچاؤ کیلئے حکومت بھی سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ اطلاعات کے مطابق اقلیتی بہبود کے بعض عہدیداروں کے تبادلے کیلئے حکومت پر دباؤ بنایا جارہا ہے اور اپنی پسند کے عہدیداروں کے نام چیف منسٹر کے دفتر میں پیش کئے گئے تاکہ وقف بورڈ میں ان کا تقرر کیا جاسکے۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے مجوزہ انتخابات کے پیش نظر حکومت بھی حلیف جماعت کے دباؤ کو قبول کرنے کیلئے مجبور دکھائی دے رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی سیاسی جماعت کی وقف مافیا اور وقف بورڈ کے بعض بدعنوان ملازمین کی ملی بھگت سے کئی اہم جائیدادوں پر نظریں جمی ہوئی ہیں اور روزانہ کسی نہ کسی انداز سے عہدیداروں کو ہراساں کرتے ہوئے متعلقہ فائیلوں کی یکسوئی کیلئے مجبور کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے تبادلے کی کوشش کی جارہی ہے کیونکہ انہوں نے کئی اہم جائیدادوں کے سلسلہ میں مقامی جماعت کے قائدین کی مرضی کے مطابق فیصلہ کرنے سے گریز کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ شہر اور اضلاع میں کئی قیمتی اوقافی جائیدادوں اور اس کی اراضی کو فروخت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور جو افراد عہدیداروں پر دباؤ بنارہے ہیں وہ خود بھی کئی غیرمجاز قبضوں میں راست طور پر ملوث ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اسمبلی کی کمیٹی کے حوالے سے اعلیٰ عہدیداروں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ اس صورتحال میں عہدیدار وقف بورڈ میں خدمات جاری رکھنے کیلئے تیار نہیں۔ انہوں نے حکومت سے زبانی طور پر خواہش کی کہ انہیں ذمہ داریوں سے سبکدوش کردیا جائے۔ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹی آر ایس حکومت نے عہدیدار مجاز اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے عہدوں پر قابل اور غیرجانبدار عہدیداروں کو مقرر کیا تھا۔ موجودہ حالات میں وقف بورڈ کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے اور عہدیدار کوئی بھی اہم فیصلہ کرنے میں اُلجھن کا شکار ہیں۔

TOPPOPULARRECENT