Wednesday , October 18 2017
Home / شہر کی خبریں / محکمہ اقلیتی بہبود میں فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کی رفتار ٹھپ

محکمہ اقلیتی بہبود میں فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کی رفتار ٹھپ

اسکیمات پر عمل آوری کی نگرانی والے عہدیدار کی کمی ، جلال الدین اکبر کے تبادلہ کے بعد کام کاج میں سست روی
حیدرآباد۔ 19۔ اپریل ( سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود میں گزشتہ ایک ماہ سے فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کی رفتار عملاً ٹھپ ہوچکی ہے اور اسکیمات پر موثر عمل آوری کی نگرانی کرنے والے عہدیداروں کی کمی ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں کو اسکیمات کی تیز رفتار عمل آوری سے دلچسپی نظر نہیں آتی اور وہ اپنے قریبی افراد کے مفادات کی تکمیل میں مصروف ہیں۔ بتایا جاتاہے کہ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کی حیثیت سے جلال الدین اکبر کے تبادلہ کے بعد سے شادی مبارک اسکیم کی رفتار انتہائی سست ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ اوورسیز اسکالرشپ جیسی اہم اسکیم کی نگرانی کیلئے کوئی عہدیدار نہیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود 3 مارچ سے ڈائرکٹر کے عہدہ کی زائد ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز اور اقلیتی بہبود کے ویجلنس آفیسر جیسے اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ اس طرح ایک ہی شخص کے لیے تمام عہدے محیط ہوچکے ہیں اور سارے اختیارات ایک عہدیدار کے ہاتھ میں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جلال الدین اکبر کے تبادلہ کے لئے جس منظم انداز میں سازش رچی گئی تھی، اس کا خمیازہ عام اقلیتوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے دفتر میں اسکیمات کے بارے میں وضاحت کرنے والا کوئی عہدیدار موجود نہیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود عمر جلیل نے آج تک ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے دفتر میں قدم نہیں رکھا۔ اتنا ہی نہیں وہ عہدیدار مجاز وقف بورڈ کی ذمہ داری سکریٹریٹ سے نبھا رہے ہیں ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ اقلیتی اسکیمات پر عمل آوری میں سستی اور گزشتہ مالیاتی سال اقلیتی بہبود کا بجٹ مکمل خرچ کرنے میں ناکامی سے حکومت مطمئن نہیں ہیں۔ جلال الدین اکبر نہ صرف بجٹ کی منظوری بلکہ اس کی اجرائی کیلئے محکمہ فینانس میں موثر نمائندگی کرتے رہے۔ شادی مبارک اور اوورسیز اسکالرشپ اسکیم پر کامیاب عمل آوری ان کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے دونوں اسکیمات میں بے قاعدگیوں کی روک تھام کیلئے کئی اقدامات کئے تھے۔ وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز کی حیثیت سے انہوں نے اوقافی جائیدادوں کی سیٹلائیٹ میاپنگ کا پراجکٹ شروع کیا تھا تاکہ تمام جائیدادوں کی حدبندی کے ساتھ تفصیلات محفوظ کرلی جائیں۔ ان کے تبادلہ کے ساتھ ہی یہ تمام سرگرمیاں عملاً ٹھپ ہوچکی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اقامتی اسکولوں کے قیام کے سلسلہ میں حکومت نے جلال الدین اکبر کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز رکھی تھی۔ شہر کی بعض رضاکارانہ تنظیموں نے بھی اس اہم اسکیم کیلئے جلال الدین اکبر کے نام کی سفارش کی۔ تاہم بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے اس تجویز کی مخالفت کی کیونکہ جلال الدین اکبر کی آمد کی صورت میں ان کی بے قاعدگیاں منظر عام پر آجائیںگی۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں جاری من مانی فیصلوں کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ چیف منسٹر کی جانب سے فائل مسترد کئے جانے کے باوجود کارپوریشن کے ریٹائرڈ ملازم کو اسکولوں کی سوسائٹی میں شامل کرلیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ ریٹائرڈ شخص پر تاریخ پیدائش میں تبدیلی کے ذریعہ پانچ سال زائد کام کرنے اور لاکھوں روپئے سرکاری خزانہ سے حاصل کرنے کا الزام ہے۔ سی بی سی آئی ڈی نے رپورٹ پیش کی اور یہ معاملہ ہائیکورٹ میں زیر دوران ہے۔ اعلیٰ عہدیداروں کی قربت کے نتیجہ میں کوئی بھی ہائی کورٹ کے مقدمہ میں حلفنامہ داخل کرنے تیار نہیں ہے اور کسی طرح مقدمہ کو ٹالا جارہا ہے۔ سرکاری قواعد کے مطابق الزام ثابت ہونے کی صورت میں تنخواہ کے طور پر حاصل کی گئی ساری رقم واپس لی جاتی ہے۔ مذکورہ متنازعہ شخص سے اعلیٰ عہدیداروں کی ہمدردی اور دلچسپی کے بارے میں محکمہ اقلیتی بہبود سے کئی واقعات بیان کئے جارہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ چیف منسٹر نے جب فائل کو مسترد کردیا تو اعلیٰ عہدیداروں نے بازآبادکاری کیلئے اسکول سوسائٹی میں شامل کرتے ہوئے احکامات جاری کئے اور یہ احکامات سوسائٹی کے صدر نشین اور نائب صدرنشین کی منظوری کے بغیر ہی جاری کئے گئے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری اور ڈائرکٹر جنرل اے سی بی عبدالقیوم خاں علی الترتیب سوسائٹی کے صدرنشین اور نائب صدرنشین ہیں۔ سوسائٹی میں کوئی بھی تقرر ان کی منظوری کے بغیر نہیں کیا جاسکتا لیکن اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں نے اپنے قریبی شخص کے لئے قواعد کی بھی پرواہ نہیں کی۔

TOPPOPULARRECENT