Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / محکمہ اقلیتی بہبود کیلئے 1236 کروڑ بجٹ کی تجاویز

محکمہ اقلیتی بہبود کیلئے 1236 کروڑ بجٹ کی تجاویز

نئی اسکیمات کو متعارف کرنے اور غیر کارکرد اسکیمات کو ضم کرنے حکومت کی ہدایت
حیدرآباد ۔ 8 ۔  فروری  (سیاست نیوز)  محکمہ اقلیتی بہبود  نے مالیاتی سال 2016-17 ء کیلئے حکومت کو 1236 کروڑ روپئے کی تجاویز روانہ کی ہیں۔ حکومت نے محکمہ اقلیتی بہبود کو ہدایت دی کہ وہ نئی اسکیمات کے ساتھ بجٹ تجاویز پیش کرے اور غیر کارکرد اسکیمات کو دیگر اسکیمات میں ضم کردیا جائے۔ حکومت نے آئندہ بجٹ میں اقلیتوں کیلئے 60 اقامتی مدارس کے قیام کو اولین ترجیح دی ہے جس کے لئے بجٹ الاٹ کیاجائے گا۔ 2015-16 ء میں اقلیتی بہبود کا بجٹ 1130 کروڑ تھا اور حکومت نے آئندہ سال اضافہ کا فیصلہ کیا ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق سکریٹری اقلیتی بہبود نے اقلیتی اداروں کے سربراہوں سے بجٹ تجاویز حاصل کرتے ہوئے 1236 کروڑ کی بجٹ تجاویز تیار کی ہیں جسے حکومت کو پیش کیا جائے گا۔ حکومت نے اقلیتی بہبود میں ایسی اسکیمات کو ختم کرنے کی ہدایت دی جو برائے نام برقرار ہیں ۔ عہدیداروں سے کہا گیا کہ وہ اقلیتی بہبود کے اداروں میں ہر اسکیم کیلئے علحدہ ہیڈ آف اکاؤنٹ کے بجائے تمام مربوط اسکیمات کیلئے ایک ہی ہیڈ آف اکاؤنٹ رکھیں تاکہ بجٹ کے خرچ میں سہولت ہو۔ ہر ادارہ میں زائد ہیڈ آف اکاؤنٹ کی موجودگی سے بجٹ کے خرچ میں دشواری ہورہی تھی۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن، حج کمیٹی، اردو اکیڈیمی ، وقف بورڈ ، سی ای ڈی ایم اور ڈائرکٹر اقلیتی بہبود سے کہا گیا ہے کہ ہر ادارہ میں کم سے کم ہیڈ آف اکاؤنٹ رکھے جائیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں کئی برائے نام اسکیمات کو آئندہ سال بجٹ سے علحدہ کردیا جائے گا۔ بتایا جاتاہے کہ حکومت نے اقلیتی ادارہ سے ماہانہ اور سہ ماہی ضرورت کے مطابق بجٹ تجاویز تیار کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ بجٹ کی تیاری کے سلسلہ میں منعقدہ اعلی سطحی اجلاس میں حکومت نے اقلیتی بہبود اسکیمات پر عمل آوری میں سست رفتاری پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ حکومت نے اگرچہ تقریباً 50 فیصد بجٹ جاری کردیا ہے لیکن اقلیتی بہبود کے ادارے مکمل خرچ کرنے سے قاصر رہے۔ اسی دوران ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اقلیتی اداروں کے سربراہوں کا اجلاس منگل کو طلب کیا ہے جس میں تمام اداروں کی کار کردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT