Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / محکمہ اقلیتی بہبود کی صورتحال ابتر ، بے قاعدگیوں کی شکایات عام

محکمہ اقلیتی بہبود کی صورتحال ابتر ، بے قاعدگیوں کی شکایات عام

مقررہ بجٹ خرچ کرنے میں ناکام ، اوقافی جائیدادوں کا عدم تحفظ ، غیر جانبدار اور اصول پسند عہدیداروں کی یادگار خدمات
حیدرآباد۔/14اپریل، ( سیاست نیوز) یوں تو کوئی بھی سرکاری عہدیدار خود کو ایماندار اور دیانتدار قرار دینے میں پیچھے نہیں رہتا لیکن اس کی ایمانداری و دیانتداری کا ثبوت زبان سے نہیں عمل سے ہونا چاہیئے۔ عہدیدار خود اپنے آپ کو ایماندار اور غیر جانبدار کہے تو اس کی اہمیت نہیں بلکہ عوام کی جانب سے اگر یہ سند دی جاتی ہے تو اسے قابل قبول سمجھا جائے گا۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں اگرچہ کئی عہدیداروں نے خدمات انجام دیں لیکن صرف چند عہدیدار ایسے ہیں جنہوں نے اپنی کارکردگی کے ذریعہ دیانتداری کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں اور ان کی سبکدوشی کے باوجود آج بھی اقلیتیں انہیں یاد کرتے ہیں۔ اس طرح کے عہدیداروں میں شفیق الزماں، محمد علی رفعت،چھایہ رتن، دانا کشور، احمد ندیم ، شیخ محمد اقبال اور جلال الدین اکبر شامل ہیں۔ ان عہدیداروں نے کسی بھی موڑ پر اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا بلکہ حکومت سے ٹکراؤ کی پرواہ نہیں کی اور آخر کار ان میں بعض کو تبادلہ کا سامنا کرنا پڑا۔ مذکورہ عہدیداروں نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر موثر عمل آوری میں مکمل شفافیت کا مظاہرہ کیا۔ مسلم اقلیت سے تعلق نہ ہونے کے باوجود ڈاکٹر چھایہ رتن، دانا کشور اور کچھ عرصہ تک ذمہ داری سنبھالنے والی جی ڈی ارونا نے اپنی کارکردگی سے اقلیتی بہبود کو نہ صرف متحرک کیا بلکہ اقلیتوں کے دلوں میں مقام پیدا کیا۔ ان عہدیداروں کو برسراقتدار پارٹی اور کوئی اپوزیشن فیصلے تبدیل کرنے کیلئے مجبور نہ کرسکی لیکن آج اقلیتی بہبود کی صورتحال انتہائی ابتر ہوچکی ہے۔ حکومت نے اگرچہ اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ کیا ہے لیکن عہدیداروں کی عدم دلچسپی کے نتیجہ میں 50فیصد بجٹ بھی خرچ نہیں ہوپارہا ہے۔ اگر عہدیداروں کو اقلیتوں کی ترقی سے سنجیدگی ہوتی تو کارکردگی اس قدر ابتر نہ ہوتی۔ کوئی بھی اقلیتی ادارہ کیوں نہ ہو ان میں بے قاعدگیوں کی شکایات عام ہیں۔ جس طرح ’ شادی مبارک‘ اور قرض اسکیم میں دھاندلیوں کے انکشافات ہوئے ہیں اس طرح بے قاعدگیاں سابق میں کبھی بھی نہیں تھیں۔ دراصل موجودہ عہدیداروں کو اقلیتوں سے زیادہ اپنی شخصی اور اپنے حواریوں کی ترقی کی فکر ہے۔ حکومت خود بھی محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی سے مطمئن نہیں جس کا اظہار ایک سے زائد مرتبہ چیف منسٹر نے اسمبلی میں کیا۔ اگر حکومت کارکردگی سے مطمئن ہوتی تو اینٹی کرپشن بیورو کے ڈائرکٹر جنرل عبدالقیوم خاں کو اقلیتی بہبود کا انچارج عہدیدار مقرر نہیں کیا جاتا۔ عبدالقیوم خاں ایک تجربہ کار اور سینئر پولیس عہدیدار کی حیثیت سے نہ صرف اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لے رہے ہیں بلکہ ان کی نظر عہدیداروں کی سرگرمیوں پر بھی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے انہیں محکمہ کے تمام معاملات پر بحیثیت اتھاریٹی مقرر کیا ہے اور سکریٹری کے بشمول تمام عہدیدار انہیں جوابدہ ہیں۔ اقلیتی بہبود کی موجودہ ابتر صورتحال  کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسکیمات میں بے قاعدگیاں نہ صرف عروج پر ہیں بلکہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے معاملہ کو برفدان کی نذر کردیا گیا۔ حالیہ عرصہ میں اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے شیخ محمد اقبال اور جلال الدین اکبر نے جن کارروائیوں کا آغاز کیا تھا انہیں موجودہ اعلیٰ عہدیداروں نے روک دیا ہے۔ محکمہ پر وقف مافیا کا عملاً کنٹرول ہوچکا ہے جنہیں مقامی سیاسی جماعت کی سرپرستی حاصل ہے۔ چونکہ جلال الدین اکبر نے وقف بورڈ میں ڈسپلین لانے، کرپشن کے خاتمہ اور جائیدادوں کے تحفظ کیلئے ٹھوس اقدامات کئے تھے لہذا وہ اعلیٰ عہدیداروں کو پسند نہیں آئے اور ان کے خلاف فرضی مہم چلائی گئی اور بے بنیاد الزامات کے ذریعہ حکومت کو تبادلہ کیلئے مجبور کیا گیا۔ جلال الدین اکبر کی جانب سے مختلف اسکیمات کے سلسلہ میں این جی اوز کو شامل کرنے کی کوششیں آج اقامتی اسکولس کی اسکیم میں کارگر ثابت ہورہی ہیں۔ جن این جی اوز کو ایم جے اکبر نے حکومت سے قریب کیا تھا آج وہی این جی اوز اسکولوں کے قیام میں حکومت سے تعاون کررہے ہیں لیکن افسوس کہ ایک منصوبہ بند طریقہ سے جلال الدین اکبر کو ابتداء ہی سے اقامتی اسکولس کی سرگرمیوں سے دور رکھا گیا اور پھر تبادلہ کردیا گیا۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ جلال الدین اکبر پر مقررہ کوٹہ سے زائد ڈیزل کے استعمال کا الزام ہے جبکہ ہر اقلیتی ادارہ کا سربراہ زائد ڈیزل کے استعمال کا حق رکھتا ہے۔ اب جبکہ اقلیتی عہدیدار اسکولوں کے سلسلہ میں مختلف اضلاع کا دورہ کررہے ہیں وہ مقررہ کوٹہ سے کہیں زیادہ ڈیزل استعمال کررہے ہیں۔ محکمہ جی اے ڈی کے عہدیداروں کے مطابق کسی بھی محکمہ کے ڈائرکٹر کو زائد ڈیزل کے استعمال کا حق حاصل ہے۔اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں کو جلال الدین اکبر اس لئے بھی پسند نہیں تھے کیونکہ انہوں نے محکمہ میں ہر موڑ پر غیر اصولی اور غیرقانونی فیصلوں کی مخالفت کی۔ ان کے خلاف ایک ایسے شخص کو مہم کیلئے میدان میں اُتارا گیا جو خود کئی سنگین الزامات کا سامنا کررہا ہے۔ ’’ سیاست‘‘ کے پاس تمام دستاویزی ثبوت موجود ہیں جس کے تحت سکریٹری اقلیتی بہبود کے قریبی شخص کی دھاندلیوں کو ثابت کیا جاسکتا ہے اسی شخص کو مقررہ تاریخ سے زائد 5 سال غیرقانونی طور پر برقرار رہنے کے باوجود دوبارہ اسکول سوسائٹی میں شامل کیا گیا۔ سرکاری محکمہ جات میں یہ اصول ہے کہ جس شخص کے خلاف الزامات ہوں اور معاملہ عدالت میں زیر دوران ہو تو اسے کسی بھی عہدہ پر فائز نہیں کیا جاسکتا لیکن اقلیتی بہبود میں سب کچھ جائز ہے اور مقامی جماعت کو شامل کرتے ہوئے کسی طرح حکومت سے منظوری حاصل کرلی گئی۔ اسکولس سوسائٹی کے اعلیٰ عہدیدار نے ریٹائرڈ شخص کی بحیثیت او ایس ڈی تقرر کی توثیق کی تاہم کہا کہ اس عہدہ کیلئے تنخواہ کا تعین ابھی باقی ہے۔ عام طور پر یہ ایک معمولی عہدہ ہے اور سوسائٹی میں جوائنٹ سکریٹری، ڈپٹی سکریٹری ، اسسٹنٹ سکریٹری اور سپرنٹنڈنٹ کے تقررات کے بعد یہ عہدہ رہے گا جس کیلئے کوئی مراعات نہیں ہوں گی۔ الغرض اقلیتیں اس بات پر حیرت میں ہیں کہ اقلیتوں کی ترقی کا دعویٰ کرنے والے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کس طرح بعض مخصوص ٹولہ کی سفارشات کو قبول کررہے ہیں۔ اقلیتوں کی امیدیں ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو عبدالقیوم خاں سے ہیں کہ وہ محکمہ کو کرپشن، اقرباء پروری اور جانبداری سے پاک کریں گے اور یہ صرف ایک پولیس عہدیدار کی حیثیت سے وہی کرسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT