Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / محکمہ اقلیتی بہبود کی مایوس کن کارکردگی ‘ نصف بجٹ ہی خرچ ہوا

محکمہ اقلیتی بہبود کی مایوس کن کارکردگی ‘ نصف بجٹ ہی خرچ ہوا

مابقی رقم حکومت خزانہ میں واپس چلی جائیگی ۔ بعض اسکیمات کیلئے رقم جاری ہوئی لیکن خرچ نہیں
حیدرآباد۔/10مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا آج آغاز ہوا اور بجٹ کی پیشکشی کے ساتھ ہی مالیاتی سال 2015-16 کا عملاً اختتام عمل میں آئیگا۔ ایسے میں محکمہ اقلیتی بہبود کیلئے حکومت کے بجٹ کی اجرائی کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ مالیاتی سال کے اختتام تک نصف بجٹ بھی خرچ نہیں کیا گیا۔ محکمہ فینانس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مالیاتی سال 2015-16 میں حکومت نے اقلیتی بہبود کے تحت 1100کروڑ روپئے مختص کئے تھے بعد میں مزید 50کروڑ 37لاکھ کا اضافہ کیا گیا۔ اس طرح اقلیتی بہبود کا مجموعی بجٹ 1150 کروڑ 37لاکھ تک پہنچ گیا۔ محکمہ فینانس نے ابھی تک صرف 446کروڑ روپئے جاری کئے ہیں۔ اگر شادی مبارک اسکیم کے 100کروڑ شامل کرلئے جائیں تو مجموعی طور پر بجٹ کی اجرائی 564کروڑ روپئے ہوگی۔ بجٹ کے خرچ کے معاملہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ محکمہ فینانس کے ریکارڈ کے مطابق 413کروڑ 65لاکھ روپئے خرچ کئے گئے اور اگر شادی مبارک کے 100کروڑ بھی خرچ میں شمار کئے جائیں تو مجموعی خرچ 513کروڑ ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ مالیاتی سال 2016-17 کے بجٹ کی پیشکشی کے بعد باقی رقم خزانہ میں واپس چلی جائے گی۔ اقلیتی طلبا کے اسکالر شپ کیلئے 100کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے اور 50کروڑ روپئے جاری ہوئے جن میں سے 28کروڑ 71لاکھ روپئے خرچ ہوئے ہیں۔ فیس باز ادائیگی اسکیم کیلئے 425کروڑ روپئے مختص کئے گئے جبکہ 134کروڑ 41لاکھ جاری ہوئے جن میں سے 101کروڑ 4 لاکھ روپئے خرچ کئے گئے۔ اقلیتی طالبات کے اقامتی اسکولس کیلئے 20کروڑ مختص تھے اور 10کروڑ کی اجرائی عمل میں آئی لیکن یہ رقم خرچ نہیں کی گئی۔ بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم کیلئے 95کروڑ روپئے مختص کئے گئے اور 47کروڑ 50لاکھ کی اجرائی عمل میں آئی۔ دائرہ المعارف کیلئے 2کروڑ کے بجٹ میں صرف ایک کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔ اردو اکیڈیمی کے 12کروڑ بجٹ میں سے 6کروڑ کی اجرائی عمل میں آئی۔ وقف بورڈ کے 53کروڑ کے بجٹ میں 32کروڑ جاری کئے گئے اور 25کروڑ 25لاکھ خرچ ہوئے ہیں۔ سروے کمشنر وقف کیلئے 5کروڑ کے منجملہ 2.5 کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔ سنٹر فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ آف میناریٹیز کیلئے مختص کردہ 3کروڑ میں نصف بجٹ ہی جاری کیا گیا۔ اردو گھر ۔ شادی خانوں کی تعمیر کیلئے 10کروڑ کے منجملہ 5کروڑ ہی جاری کئے گئے۔

TOPPOPULARRECENT