Sunday , July 23 2017
Home / شہر کی خبریں / محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی بہتر بنانے اور ملازمین کو چاق و چوبند رکھنے اسٹیڈیم و جم کا قیام

محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی بہتر بنانے اور ملازمین کو چاق و چوبند رکھنے اسٹیڈیم و جم کا قیام

حج ہاوز سے متصل اراضی پر کرکٹ اسٹیڈیم ، تیسری منزل پر جم ، اندرون ہفتہ کھیل کود کی سرگرمیوں کا آغاز
حیدرآباد۔17 فبروری (سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی بہتر بنانے اور ملازمین کو صحت مند اور چاق و چوبند رکھنے کے لیے حج ہائوز نامپلی میں کرکٹ منی اسٹیڈیم کی تعمیر اور جم کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ملازمین کو صحت کے اعتبار سے فٹ رکھتے ہوئے ان میں ورک کلچر پیدا کرنے کی کوشش کے حصہ کے طور پر اعلی عہدیداروں نے یہ منصوبہ تیار کیا ہے۔ یوم جمہوریہ کے موقع پر حج ہائوز سے متصل کھلی اراضی پر اقلیتی بہبود کے مختلف اداروں کے ملازمین نے اپنی کرکٹ ٹیمیں تشکیل دیتے ہوئے ٹورنمنٹ کا اہتمام کیا تھا۔ صحافیوں کی ٹیم بھی اس ٹورنمنٹ میں شامل ہوئی تھی۔ ٹورنمنٹ کے تمام اخراجات وقف بورڈ کی جانب سے برداشت کئے گئے۔ کھیل کود کے سلسلہ میں ملازمین کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے اعلی عہدیداروں نے باقاعدہ کھیل کود اور اسپورٹس کی سرگرمیوں کے آغاز کا فیصلہ کیا تاکہ اقلیتی ملازمین میں سستی اور کاہلی کا خاتمہ ہو اور وہ اپنے مفوضہ فرائض کی تکمیل میں دلچسپی کا مظاہرہ کریں۔ بتایا جاتا ہے کہ حج ہائوز سے متصل کھلی اراضی پر زمین کو مسطع کرتے ہوئے منی کرکٹ اسٹیڈیم میں تبدیل کیا جائے گا اور اراضی کے ایک حصے پر پریکٹس کے لیے پچ تعمیر کی جائے گی۔ دیگر اسٹیڈیم کی طرح گرائونڈ میں ہریالی بچھائی جائے گی اور دیگر کھیلوں کے لیے بھی سہولتیں مہیا کی جائیں گی۔ حج ہائوز کی تیسری منزل پر جم کے قیام کے لیے جگہ الاٹ کی جارہی ہے۔ جم کے سلسلہ میں شہر کے ایک نامور بلڈر کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں جن کے شہر میں کئی جم ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ اور دیگر اقلیتی ادارے مشترکہ طور پر اخراجات کی پابجائی کریں گے۔ کھیل کود کے سامان اور کٹس کے سلسلہ میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور بعض دیگر صنعتی اداروں سے ڈونیشنس حاصل کرنے کی تجویز ہے۔ منی اسٹیڈیم کی تعمیر کے سلسلہ میں کاموں کا آغاز ہوچکا ہے اور توقع ہے کہ اندرون ایک ہفتہ میدان تیار ہوجائے گا۔ مختلف اداروں پر مشتمل کرکٹ ٹیم تشکیل دیتے ہوئے اسے لیگ میچس کے لیے تیار کیا جائے گا اور باقاعدہ کوچ اور فٹنس کوچ کا تقرر کیا جاسکتا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ دیگر سرکاری اداروں کے مقابلے اقلیتی اداروں کی کارکردگی مایوس کن ہے اور ہر سطح پر اس کی شکایت کی جاتی ہے۔ خاص طور پر وقف بورڈ کے بارے میں عوام میں کئی شکایات ہیں۔ ملازمین میں ورک کلچر پیدا کرنے کے لیے یوں تو سابق میں کئی طرح سے کوششیں کی گئیں لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اسپیشل آفیسرس کی حیثیت سے شیخ محمد اقبال اور ایم جے اکبر نے ملازمین کو پابند ڈسپلین بنانے اور روزانہ کی کارکردگی کا چارٹ پیش کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن یہ کام ان کے تبادلے کے ساتھ ہی ختم ہوگیا۔ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے اب کھیل کود اور فٹنس کے ذریعہ ملازمین کو پابند ڈسپلین بنانے اور تمام اداروں کی کارکردگی میں بہتری اور تیزی پیدا کرنے کا تجربہ شروع کیا ہے۔ اگرچہ ملازمین اس تجویز سے خوش ہیں لیکن اقلیتی اداروں کے دیگر سینئر عہدیداروں کا ماننا ہے کہ اس طرح کی کوششوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور کھیل کود میں زیادہ دلچسپی کے نتیجے میں روزمرہ کا کام کام مزید متاثر ہوسکتا ہے۔ روزانہ آفس کے اوقات کے بعد کھیل کود کے لیے وقت مقرر کیا جانا چاہئے اس کے علاوہ جم کے اوقات بھی دفتر کے اوقات سے ہٹ کر ہوں ورنہ اداروں کی کارکردگی میں بہتری کے بجائے مزید خرابی پیدا ہوگی۔ ایک ضعیف عہدیدار نے یہاں تک کہہ دیا کہ جم میں پہلوانوں کو تیار کیا جاسکتا ہے لیکن فائیل لکھنے اور اس کی یکسوئی کرنے والے ملازمین کے لیے یہ کام نہیں آئے گا بلکہ انہیں دفتریت کی علیحدہ ٹریننگ دینی پڑے گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ اعلی عہدیداروں کا یہ تجربہ کس حد تک اقلیتی بہبود کی کارکردگی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ویسے بھی حکومت نے وقف بورڈ سے متصل کھلی اراضی کو 30 سالہ لیز پر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جب کبھی بھی گلوبل ٹنڈرس طلب کیئے جائیں گے یہ سرگرمیاں خودبخود ختم ہوجائیں گی۔ اس کے علاوہ حج سیزن میں بھی کھیل کود کے لیے میدان دستیاب نہیں رہے گا۔ اس طرح اعلی عہدیداروں کی یہ کوششیں کا نتیجہ خیز ثابت ہونا ممکن نہیں ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT