Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / محکمہ اقلیتی بہبود کے اداروں کی شکایات کا جائزہ

محکمہ اقلیتی بہبود کے اداروں کی شکایات کا جائزہ

صرف 12 شکایتیں وصول ، بی شفیع اللہ کی حکومت کو سفارشات
حیدرآباد۔ 17 ۔ فروری (سیاست نیوز)  محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے مختلف اداروں سے متعلق شکایات کا جائزہ لینے کیلئے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کو مکتوب روانہ کیا گیا ہے۔ تاہم ابھی تک حکومت کو مذکورہ 12 شکایات کے سلسلہ میں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ محکمہ اقلیتی بہبود سے آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت حاصل کردہ تفصیلات کے مطابق ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کو 6 جون 2015 ء کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے 12 مختلف معاملات میں جانچ کرتے ہوئے رپورٹ طلب کی گئی۔ یہ معاملات طویل عرصہ سے زیر التواء ہیں جن میں مختلف اقلیتی اداروں میں  مبینہ بے قاعدگیوں سے متعلق شکایات موجود ہیں۔ اگست 2014 ء میں اس وقت کے سکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم نے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کو میمو روانہ کرتے ہوئے ریاستی حج کمیٹی کے ملازمین پر الزامات کی جانچ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ تاحال اس سلسلہ میں کوئی جانچ اور رپورٹ پیش نہیں کی گئی۔ محکمہ فینانس کے ایک ریٹائرڈ عہدیدار کا شکایت پر سکریٹری نے ڈائرکٹر کو میمو روانہ کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض عہدیداروں کی ملی بھگت کے باعث اس معاملہ کو برفدان کی نظر کردیا گیا۔ آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت جو تفصیلات فراہم کی گئی، ان میں بتایا گیا ہے کہ 10 مختلف شکایات کے بارے میں طویل عرصہ سے تحقیقات زیر التواء ہے اور ڈائرکٹر کی جانب سے کوئی رپورٹ پیش نہیں کی گئی۔ ان میں اقلیتی اداروں سے متعلق شکایات کے علاوہ مرکزی حکومت کی ایم ایس ڈی پی اسکیم، اردو اکیڈیمی میں ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانا ، سروے کمشنر وقف اور بعض دیگر امور شامل ہیں۔ اسی دوران باوثوق ذرائع نے بتایا کہ تحقیقات کے سلسلہ میں جن عہدیداروں کو ذمہ داری دی گئی تھی، انہوں نے تحقیقات سے معذرت خواہی کی ہے، جس کے سبب مختلف شکایات کی جانچ ابھی بھی زیر التواء ہے۔ اطلاعات کے مطابق مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن بی شفیع اللہ کو بعض شکایات کی جانچ کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود نے بعض شکایات کے سلسلہ میں حکومت کو نوٹ روانہ کیا جس میں بعض سفارشات کی گئیں لیکن بتایا جاتا ہے کہ ان کی سفارشات پر عمل کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT