Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / محکمہ اقلیتی بہبود کے کمپیوٹر سنٹرس و لائبریریز ملازمین تنخواہوں سے محروم

محکمہ اقلیتی بہبود کے کمپیوٹر سنٹرس و لائبریریز ملازمین تنخواہوں سے محروم

ملازمین مالی مشکلات کا شکار ، دونوں سنٹرس کے ملازمین کو اقلیتی مالیاتی کارپوریشن منتقل کرنے کی تیاری
حیدرآباد ۔ 21۔ جون (سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت چلنے والے کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے ملازمین گزشتہ تین ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ رمضان المبارک کے سبب تقریباً 180 ملازمین تنخواہوں کی عدم اجرائی کے سبب مالی مشکلات سے دوچار ہے ۔ مسائل کی یکسوئی اور تنخواہوں کی اجرائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے ملازمین نے احتجاج منظم کیا اور سکریٹری اقلیتی بہبود سے اپیل کی کہ تنخواہوںکی عاجلانہ اجرائی کو یقینی بنائے۔ کمپیوٹر سنٹرس و لائبریریز اردو اکیڈیمی کے تحت تھے جنہیں دو سال قبل اقلیتی فینانس کارپوریشن کے تحت کیا گیا۔ حکومت ان دونوں اداروں کے بجٹ کو اقلیتی فینانس کارپوریشن منتقل کررہی ہے تاکہ تنخواہیں جاری کی جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ کمپیوٹر سنٹرس کو عصری بنانے کی اسکیم تیار کی جارہی ہے تاکہ نئے کمپیوٹرس کے ساتھ نئے کورسس کا آغاز کیا جائے۔ اس کے علاوہ لائبریریز کو کمپیوٹر سنٹر میں ضم کرنے کی تجویز ہے ۔ حکومت نے کمپیوٹر سنٹرس و لائبریریز کی عدم کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ان کے ملازمین کی خدمات اقلیتی اسکیمات پر عمل آوری کے سلسلہ میں حاصل کی ہیں۔ اقلیتی بہبود میں اسٹاف کی کمی کے باعث ان ملازمین کو ڈی ایم ڈبلیو او دفاتر میں متعین کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ملازمین سے خدمات کو باقاعدہ بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن اس پر عمل آوری نہیں کی گئی۔ گزشتہ 10 تا 15 برسوں سے ملازمین عارضی طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ ان کا مطالبہ ہے کہ دیگر محکمہ جات کی طرح خدمات کو باقاعدہ بنایا جائے اور وہ کسی بھی ادارہ میں کام کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد انہیں امید تھی کہ ملازمت کے سلسلہ میں ضمانت حاصل ہوگی لیکن محکمہ اقلیتی بہبود نے خدمات کو باقاعدہ بنانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے ۔ حکومت کی جانب سے دیگر محکمہ جات کے کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ملازمین نے شکایت کی کہ تنخواہوں کی اجرائی کے سلسلہ میں اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ذمہ دار تساہل سے کام لے رہے ہیں۔ کارپوریشن میں مینجنگ ڈائرکٹر اور صدرنشین ملازمین کیلئے کبھی دستیاب نہیں ہوتے، لہذا وہ سکریٹری اقلیتی بہبود سے امید کرتے ہیں کہ تین ماہ کے بقایا جات کی اجرائی کو یقینی بنائے۔ ملازمین نے کہا کہ رمضان المبارک کے پیش نظر وہ عید کے اخراجات کی تکمیل سے قاصر ہیں اور ان کا گزارا قرض پر منحصر ہے۔ لائبریریز اور کمپیوٹر سنٹرس کے ملازمین اس سلسلہ میں ڈپٹی چیف منسٹر اور حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور سے بھی نمائندگی کرچکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT