Thursday , May 25 2017
Home / شہر کی خبریں / محکمہ انکم ٹیکس کا رقومات کی جانچ کیلئے بینک کھاتوں کا تجزیہ کروانے کا فیصلہ

محکمہ انکم ٹیکس کا رقومات کی جانچ کیلئے بینک کھاتوں کا تجزیہ کروانے کا فیصلہ

دو اداروں کو ذمہ داریاں تفویض کی جائیں گی ۔ رقومات کے جمع کروانے اور نکالنے کا مختلف طریقوں سے جائزہ
حیدرآباد۔21فروری(سیاست نیوز) کرنسی تنسیخ کے بعد بینک پہنچنے والی کرنسی اور کھاتوں میں جمع کی جانے والی رقومات کی جانچ کیلئے محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے دو اداروں کے ذریعہ بینک کھاتو ںکا تجزیہ کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ اندرون دو ہفتہ ان تجزیہ کار اداروں کو ذمہ داریاں تفویض کردی جائیں گی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے ان کھاتوں کی جانچ کی جائے گی جن میں 8نومبر سے قبل اور اس کے بعد بھاری رقومات جمع کی گئی ہیں اور ان کھاتوں کا بھی تجزیہ کیا جائے گا جن کھاتوں میں اچانک بھاری رقومات ڈپازٹ کروائی گئی ہیں۔ غیر محسوب آمدنی کو محسوب آمدنی میں شامل کرنے کی جانے والی اس کاروائی کے دوران محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے 5لاکھ تک کے ایسے ڈپازٹس کو نظر انداز کردیا جائے گا جو 8نومبر سے پہلے سے موجود ہیں لیکن 5 لاکھ سے زائد رقومات جن کھاتوں میں جمع کروائے گئے یا مختلف طریقوں سے نکالے گئے ان کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ ان کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے انہیں غیر محسوب آمدنی کے ذرائع بتانے کہا جا سکے اور ان سے ٹیکس وصول کیا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ ملک کی بیشتر ریاستوں میں کئی لوگوں نے ایک سے زائد کھاتوں کا استعمال کرکے محکمہ انکم ٹیکس کو دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے لیکن اس کوشش کو ناکام کرنے بھی محکمہ کی جانب سے نامزد کئے جانے والے ان اداروں کی جانب سے کھاتوں کا تجزیہ کیا جائے گا۔ محکمہ انکم ٹیکس کے ذرائع کے مطابق 8نومبر کو کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے فیصلہ کے فوری بعد جو صورتحال رونما ہوئی ہے اس کا مشاہدہ کرتے ہوئے یہ کہا جا رہا ہے کہ 2لاکھ سے زائد رقم جمع کروانے والے کھاتہ داروں کی جملہ رقومات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2لاکھ سے زائد جمع کرنے والوں نے جملہ رقومات 10لاکھ کروڑ تک پہنچ چکی ہیں جس میں 4.5لاکھ کروڑ کا تجزیہ کیا جانا ہے کیونکہ ان رقومات کو محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے مشتبہ تصور کیا جانے لگا ہے۔جبکہ مابقی 5.5لاکھ کروڑ کے متعلق محکمہ انکم ٹیکس کا کہنا ہے کہ سرکاری محکمہ جات کی جانب سے یہ رقومات جمع کروائی گئی ہیں جو مختلف ادائیگیوں کی شکل میں وصول کی گئی ہیں ۔محکمہ انکم ٹیکس نے کھاتوں میں جمع کردہ رقومات کی بنیاد پر جائزہ لیتے ہوئے کاروائی کو تیز کرنے کیلئے ان اداروں کی نامزدگی کا فیصلہ کیا ہے جو ڈاٹا کا تجزیہ کرکے رقومات کی منہائی اور جمع کروانے کی تفصیلا ت بتانے کے علاوہ ایک سے زائد کھاتوں کے استعما ل کا بھی تجزیہ کرتے ہوئے جمع کروانے والوں تک پہنچ سکتے ہیں۔عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس مہم کے آغاز کا مقصد محکمہ انکم ٹیکس سے ٹیکس نا دہندگان کو مربوط کرکے انہیں ٹیکس کی ادائیگی کی جانب راغب کروانا ہے تاکہ غیر محسوب دولت کے کلچر کو ختم کیا جاسکے۔محکمہ انکم ٹیکس کے مطابق جن دو اداروں کو بینک کھاتوں کے تجزیہ کی ذمہ داری حوالے کی جا رہی ہے ان اداروں کی جانب سے بینک کھاتہ دار کے علاوہ فون نمبر‘ پیان کارڈ نمبر‘ ای۔ میل ایڈریس‘ اور پتہ کے علاوہ دیگر مماثل ادائیگیوںوغیرہ سے ایک سے زائد کھاتوں کی جانچ ممکن بنائی جائے گی۔بتایاجاتا ہے کہ آئندہ ماہ کے اوائل سے شروع کی جانے والی اس مہم سے محکمہ انکم ٹیکس کو زبردست فائدہ حاصل ہونے کا امکان ہے اور ٹیکس ریٹرنس کی تعداد میں بھاری اضافہ کی توقع کی جا رہی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT