Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / محکمہ آبرسانی کے پانی ٹینکر کی شرح میں اضافہ ، تجارتی اداروں اور عوام پر بوجھ

محکمہ آبرسانی کے پانی ٹینکر کی شرح میں اضافہ ، تجارتی اداروں اور عوام پر بوجھ

خانگی ٹینکرس سے پانی حصول کے لیے عوام کی توجہ ، غیر قانونی ٹینکر مافیا کو فائدہ
حیدرآباد۔11 اگسٹ (سیاست نیوز) محکمہ آبرسانی نے پانی کے ٹینکر کی قیمت میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے اثرات گھریلو صارفین کے علاوہ تجارتی اداروں پر بھی مرتب ہوں گے اس کے علاوہ محکمہ آبرسانی کی جانب سے کئے گئے اس اقدام سے خانگی واٹر ٹینکرس سربراہ کرنے والوں کو فائدہ ہوگا۔ محکمہ آبرسانی کے ذرائع کے مطابق 2011کے بعد کئے گئے اس پہلے اضافہ میں 5کیلو میٹر کے حدود میں پانی کی سربراہی کیلئے جو 400 روپئے گھریلو صارفین سے وصول کئے جاتے تھے انہیں اب 600 روپئے ادا کرنے ہوں گے جبکہ 10کیلو میٹر کے حدود میں پانی کی سربراہی کیلئے 1150روپئے وصول کئے جائیں گے جو سابق میں 800 روپئے ہوا کرتے تھے۔ بتایاجاتا ہے کہ تجارتی اغراض کے لئے سربراہ کئے جانے والے ٹینکرس سے اندرون 5کیلومیٹر سربراہی پر 700 روپئے وصول کئے جاتے تھے اسے بڑھا کر 900روپئے کردیا گیا جبکہ 10کیلو میٹر کے حدود میں سربراہی کے لئے 1750روپئے مقرر کئے گئے ہیں جو سابق میں 1400 روپئے ہوا کرتے تھے۔ تجارتی اغراض کیلئے 20کیلو میٹر کے حدود میں پانی کے ٹینکر کی سربراہی کیلئے 2800 روپئے اب تک وصول کئے جاتے تھے لیکن اب 3500روپئے وصول کئے جائیں گے۔ محکمہ آبرسانی کے عہدیدارو ںنے بتایا کہ ان نئی شرحوں کا اطلاق یکم ستمبر سے ہوگا اور ان شرحوں کے مطابق ادائیگی کرنی ہوگی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق سال 2011میں شرحوں میں اضافہ کے بعد سے اب تک متعدد مرتبہ ٹینکرس اسوسیشن کے ذمہ داروں نے محکمہ کے اعلی عہدیداروں سے نمائندگی کرتے ہوئے شرحوں میں اضافہ کی درخواست کی تھی اور اس کیلئے پٹرول‘ ڈیزل کے علاوہ ڈرائیورس کی تنخواہو ںمیں ہونے والے اضافہ کا جواز پیش کیا تھا لیکن تجارتی اداروں کے ذمہ داران جن میں شہر کی سرکردہ ہوٹلیں اور دواخانے شامل ہیں جو یومیہ ہزاروں لیٹر کے ٹینکر خریدتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ نئے اضافہ کے محکمہ آبرسانی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ یہ اضافہ اداروں کیلئے بوجھ ثابت ہوگا اوروہ سرکاری محکمہ سے پانی کے ٹینکر کی خریدی کے بجائے خانگی ٹینکرس سربراہ کرنے والوں کی جانب متوجہ ہوں گے کیونکہ ان کی قیمتیں سرکاری پانی کی قیمتو ں سے کم ہونے کے علاوہ ان کی خدمات سرکاری ٹینکروں کی خدمات سے بہتر ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ اب بھی بیشتر خانگی اداروں کی جانب سے خانگی ٹینکرس کے ذریعہ ہی پانی حاصل کیا جاتا ہے لیکن جو ادارے اب تک سرکاری ٹینکرس کے ذریعہ پانی حاصل کیا کرتے تھے اب وہ بھی خانگی ٹینکرس کے ذریعہ پانی کے حصول کیلئے غور کرنے لگے ہیں۔ محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کافی غور و خوض کے بعد ٹینکر س کے ذریعہ پانی کی سربراہی کے لئے وصول کی جانے والی قیمتوں میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔بتایاجاتا ہے کہ محکمہ آبرسانی کے اس اقدام سے نہ صرف خانگی واٹر ٹینکرس سربراہ کرنے والوں کو فائدہ ہوگا بلکہ شہر میں جاری غیر قانونی واٹر ٹینکر مافیا بھی اس صورتحال سے زبردست فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا پانی سستے داموں میں فروخت کرے گا۔

TOPPOPULARRECENT