Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / محکمہ مال کی وقف بورڈ کے حق میں دستبرداری کا مسئلہ

محکمہ مال کی وقف بورڈ کے حق میں دستبرداری کا مسئلہ

سکریٹری اقلیتی بہبود کو جائزہ لینے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کی ہدایت

حیدرآباد ۔ 21 ۔ ڈسمبر (سیاست  نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں سے متعلق عدالتوں میں زیر دوران مقدمات میں ریونیو ڈپارٹمنٹ کی جانب سے وقف بورڈ کے حق میں دستبرداری کے مسئلہ کا جائزہ لینے سکریٹری اقلیتی بہبود کو ہدایت دی ہے ۔ اس سلسلہ میں انہوں نے قائد اپوزیشن قانون ساز کونسل محمد علی شبیر کی یادداشت کو مزید کارروائی کیلئے سکریٹری اقلیتی بہبود کو روانہ کیا ہے۔ چیف منسٹر کے اسسٹنٹ سکریٹری وکرم راؤ نے اس سلسلہ میں محمد علی شبیر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف عدالتوں میں زیر دوران مقدمات میں ریونیو ڈپارٹمنٹ کی جانب سے اوقافی اراضیات پر کی دعویداری سے دستبرداری سے متعلق نمائندگی کو مزید کارروائی کیلئے اقلیتی بہبود کے سکریٹری کو روانہ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی جس کے متعلق اس مسئلہ کو محکمہ اقلیتی بہبود سے رجوع کردیا گیا۔ چیف منسٹر کے دفتر سے 15 ڈسمبر کو اس سلسلہ میں مکتوب روانہ کیا گیا ۔ واضح رہے کہ محمد علی شبیر نے چیف منسٹر سے نمائندگی کی تھی کہ تلنگانہ میں اہم اوقافی اراضیات کے جو مقدمات ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں زیر دوران ہے ، ان کی بآسانی یکسوئی ممکن ہے ۔ محمکہ ریونیو کی جانب سے اوقافی اراضیات کو سرکاری قرار دیتے ہوئے جو دعویداری پیش کی گئی ہے، اگر اس سے دستبرداری اختیار کرلی جائے تو تمام اوقافی اراضیات وقف بورڈ کی تحویل میں آجائیں گی۔ اس سلسلہ میں انہوں نے لینکو ہلز اور رنگا ریڈی میں آندھراپردیش انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کی جانب سے مختلف اداروں کو الاٹ کی گئی اراضیات کا حوالہ دیا۔ قائد اپوزیشن نے کہا کہ یہ قیمتی اراضیات وقف ریکارڈ کے مطابق درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کی ہے اور تلگو دیشم دور حکومت میں ان اراضیات کو سرکاری قرار دیتے ہوئے مختلف اداروں کو الاٹ کیا گیا ۔ منی کونڈہ میں لینکو انفرا ٹیک کو کھلے ہراج کے تحت اراضی فروخت کی گئی۔ یہ تمام مقدمات سپریم کورٹ میں زیر دوران ہے جہاں وقف بورڈ نے اپنی دعویداری پیش کی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان مقدمات میں ریاستی حکومت ایک فریق ہے اور ریونیو ڈپارٹمنٹ نے ان اراضیات کو سرکاری ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔ انتخابات سے قبل ٹی آر ایس نے اقلیتوں سے وعدہ کیا تھا کہ برسر اقتدار آنے پر حکومت اوقافی اراضیات پر اپنی دعویداری واپس لے لیگی ۔ محمد علی شبیر نے چیف منسٹر سے اپیل کی کہ وہ اپنے وعدہ کے مطابق سپریم کورٹ میں حکومت کی جانب سے دائر کردہ مقدمہ سے دستبرداری اختیار کرلیں تاکہ یہ قیمتی اراضی وقف بورڈ کی تحویل میں آجائے۔ 2003 ء میں تلگو دیشم حکومت نے 735 ایکر اوقافی اراضی مختلف اداروں کو حوالہ کی تھی۔ اس کے بعد جون 2003 ء میں منی کونڈہ جاگیر کی 108  ایکر اراضی اے پی آئی آئی سی کو سائبر پارک کے قیام کیلئے الاٹ کی گئی۔ نومبر 2004 ء میں اے پی آئی آئی سی نے خانگی ڈیولپرس سے ٹنڈرس طلب کئے ۔ اپریل 2005 ء میں لینکو انفرا ٹیک کو 4.27 کروڑ روپئے فی ایکر کے حساب سے زائد بولی پر اراضی الاٹ کردی گئی ۔ محمد علی شبیر نے تلنگانہ میں اہم اوقافی اراضیات کے مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے چیف منسٹر کو متحدہ آندھراپردیش میں وشاکھاپٹنم کی درگاہ حضرت اسحق مدنیؒ کی اراضی کے مسئلہ کی یکسوئی کی تفصیلات پیش کی اور خواہش کی کہ اسی طرز پر تلنگانہ کی اوقافی اراضیات کے تنازعات کی یکسوئی کی جاسکتی ہے۔ اگر حکومت سپریم کورٹ میں مقدمہ سے دستبرداری اختیار کرلے تو منی کونڈہ جاگیر اور اس کے اطراف کی قیمتی اراضی وقف بورڈ کی تحویل میں آجائے گی۔

TOPPOPULARRECENT